یورپی پارلیمنٹ نے ڈجیٹل خودمختاری اور پرائیویسی کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے گوگل کے استعمال پر پابندی عائد کردی، اب اس کی جگہ فرانسیسی براؤزر’’ کوئنٹ‘‘ استعمال ہوگا۔
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 7:02 PM IST | Paris
یورپی پارلیمنٹ نے ڈجیٹل خودمختاری اور پرائیویسی کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے گوگل کے استعمال پر پابندی عائد کردی، اب اس کی جگہ فرانسیسی براؤزر’’ کوئنٹ‘‘ استعمال ہوگا۔
یورپی پارلیمنٹ نے ڈیجیٹل خودمختاری کے لیے گوگل کی بجائے فرانسیسی سرچ انجن اپنا نے کا فیصلہ کرلیا، جس کے بعد گوگل کو ہٹا کر فرانسیسی سرچ انجن کوئنٹ ( Qwant )کو ڈیفالٹ سرچ انجن بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط کرنے اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔پولیٹیکو نے منگل کوخبر دی کہ یورپی پارلیمنٹ اپنے اندرونی کمپیوٹرز پر جمعرات سے گوگل کی بجائے فرانسیسی سرچ انجن Qwant کو ڈیفالٹ ٹول کے طور پر استعمال کرے گا۔ایک داخلی ای میل میں افسران نے قانون سازوں کو بتایا کہ یہ تبدیلی پارلیمنٹ کی ڈیجیٹل خودمختاری اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کی خاطر کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین کے اداروں کو امریکہ میں ڈیٹا کے بہاؤ اور یورپی دائرہ اختیار سے باہر آنے والی خدمات کے استعمال پر بار بار جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یورپی سرچ انجن کا استعمال غیر ملکی ڈیٹا قوانین کی نمائش کو محدود کرتا ہے اور حساس ادارہ جاتی معلومات پر کنٹرول کو مضبوط کرتا ہے۔ جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن اور ڈیجیٹل سروسز ایکٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ جیسے حالیہ قانون سازی کے بعد سے ڈیجیٹل خودمختاری یورپی یونین کے لیے ایک ترجیح بن گئی ہے۔ جبکہQwant کو اپنا کر، پارلیمنٹ اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں گھریلو متبادل کے لیے حمایت کا اشارہ دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس: ۵۹؍ کروڑ روپے کا ’’ڈکٹ ٹیپ بنانا‘‘ نامی فن پارہ چوتھی مرتبہ چوری
ای میل میں Qwant کو ’’پرائیویسی پر توجہ دینے والا یورپی سرچ انجن‘‘ قرار دیا گیا، جو صارفین کو ٹریک نہیں کرتا اور نہ ہی ان کا ذاتی ڈیٹا جمع کرتا ہے۔بعد ازاں فائر فاکس اور ایج کے ایڈریس بار سے کی جانے والی تمام تلاشیں خود بخود Qwant کے ذریعے ہو جائیں گی۔ تاہم، قانون ساز اب بھی دوسرے سرچ انجنز استعمال کر سکیں گے یا ڈیفالٹ سیٹنگ خود تبدیل کر سکیں گے۔