• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان کوسری لنکا کے خلاف بڑی فتح درکار

Updated: February 28, 2026, 9:59 AM IST

میزبان ٹیم بھی سپر۔ ۸؍کا اپنا آخری میچ جیت کر ٹی۔ ۲۰؍ورلڈ کپ سے وداع ہونا چاہےگی۔

Pakistan cricket team captain Salman Agha. Photo: INN
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا۔ تصویر: آئی این این

یہ محض ایک کرکٹ میچ نہیں بلکہ بقا کی جنگ ہے۔ پاکستان اپنے آخری سپر۔ ۸؍مقابلے میں اس حقیقت کے ساتھ میدان میں اترے گا کہ اس کے لئے صرف جیت کافی نہیں ہوگی۔ اس کو سنیچر کی شام سری لنکا کو نہ صرف شکست دینا ہوگی بلکہ بڑے مارجن سے ہرانا ہوگا تاکہ سیمی فائنل تک رسائی کی امیدیں برقرار رہ سکیں۔ نیٹ رن ریٹ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا حریف بن چکا ہے۔ سپر۔ ۸؍مرحلے میں ایک میچ بارش کی نذر ہونے اور ایک شکست کے بعد پاکستان کنارے پر کھڑا ہے۔ مقابلہ سخت ہے، بڑی فتح حاصل کرنا لازمی ہے اس سے کم کچھ بھی ہوا تو مہم ختم ہو جائے گی۔ یہی دباؤ اس مقابلے کو ٹورنامنٹ کا سب سے ڈرامائی میچ بنا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئی پی ایل ۲۸؍ مارچ سے شروع ہوگا، فائنل ۳۱؍ مئی کو کھیلا جائے گا

دوسری جانب سری لنکا پہلے ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکا ہے، مگر یہی بات اسے زیادہ خطرناک بنا سکتی ہے۔ کھونے کو کچھ نہیں اور ہوم گراؤنڈ کا وقار داؤ پر ہے وہ پاکستان کا راستہ روک کر اسے بھی باہر کر سکتا ہے۔ پاکستان کی نظریں صاحبزادہ فرحان پر ہوں گی، جو اس ٹورنامنٹ میں سب سے جارح مزاج بلے باز ثابت ہوئے ہیں۔ ۲۸۳؍رن اور ۱۶۰؍سے زائد اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ وہ پاور پلے میں برق رفتار آغاز فراہم کرتے رہے ہیں۔ اگر وہ ایک بار پھر ابتدائی اوورز میں حاوی ہو گئے تو پاکستان ۱۸۰؍سے زائد اسکور کی جانب بڑھ سکتا ہے، جو اس وقت اس کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر وہ جلد آؤٹ ہو گئے تو دباؤ میں دکھائی دینے والی مڈل آرڈر مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔ کپتان سلمان آغا کو بابر اعظم اور فخر زمان سے بھی بڑی اننگز کی توقع ہوگی جبکہ شاداب خان اور محمد نواز کا فنشنگ کردار اُس وقت نہایت اہم ہوگا جب ٹیم بڑے ہدف کا تعاقب کر رہی ہو یا اسے مزید وسعت دینا مقصود ہو۔ 
سری لنکا کی امیدیں پاتھم نسانکا اور کوسل مینڈس سے وابستہ ہیں۔ نسانکا اس ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست سنچری بنا کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکے ہیں جبکہ مینڈس ۳؍ نصف سنچریوں اور ۴۰؍ کے اوسط کے ساتھ بلے بازی کا ستون رہے ہیں۔ اگر یہ دونوں فارم میں آ گئے تو پاکستان کی سیمی فائنل کی امیدیں بکھر سکتی ہے۔ 
پلیکل کی پچ عموماً ۱۵۰؍تا ۱۷۰؍ کے مسابقتی اسکور فراہم کرتی رہی ہے، لیکن اگر پاکستان پہلے بلے بازی کرے تو وہ اس سے کہیں بڑا ہدف ترتیب دینے کی کوشش کرے گا۔ رات کے وقت روشنی میں پچ سست ہونے کے باعث دونوں ٹیموں کے اسپنرز درمیانی اوورز میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٹاس بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور بادلوں کی موجودگی میں کپتان پہلے فیلڈنگ کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ پاکستان کے لئے معاملہ واضح ہےیا تو بڑی جیت حاصل کرو یا وطن واپس جاؤ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK