Updated: June 17, 2026, 4:02 PM IST
| Mumbai
فلم ساز امتیاز علی کی نئی فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ تقسیمِ ہند کے زخموں، یادوں اور بچھڑنے کی کہانی کو جذباتی انداز میں پیش کر رہی ہے جسے ناظرین کے ساتھ ساتھ پاکستانی فلمی شخصیات کی بھی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ معروف پاکستانی ہدایت کار عمر ناصر علی نے فلم کو ’’گہرا اثر چھوڑنے والی تخلیق‘‘ قرار دیتے ہوئے نصیرالدین شاہ کی اداکاری اور فلم کی کہانی بیان کرنے کے انداز کی خصوصی تعریف کی۔
فلم’’ میں واپس آؤں گا‘‘ کاپوسٹر۔ تصویر: آئی این این
امتیاز علی کی حالیہ فلم ’’میں واپس آؤں گا‘‘ محض ایک تاریخی رومانوی کہانی سے کہیں بڑھ کر ثابت ہوئی ہے۔ محبت، جدائی اور تاریخی المیوں کے موضوعات کو یکجا کرتے ہوئے یہ فلم تقسیمِ ہند کے زخموں کو دوبارہ یاد دلاتی ہے، ساتھ ہی مفاہمت کا پیغام بھی دیتی ہے۔ فلم کی جذباتی کہانی نے خاص طور پر ان ناظرین کے دلوں کو چھوا ہے جن کے خاندان ۱۹۴۷ء کی تقسیم کے دوران ہجرت اور بے دخلی کے تجربات سے گزرے تھے۔ فلم میں تقسیمِ ہند اور اس کے دیرپا انسانی اثرات کی عکاسی نے سرحد کے دونوں جانب گفتگو کو جنم دیا ہے۔ یادداشت، وابستگی اور شناخت جیسے موضوعات پر مبنی اس فلم کے بارے میں ناظرین اپنے ذاتی تاثرات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کی فلمی صنعت سے وابستہ کئی شخصیات نے بھی اس کے پیغام اور جذباتی اثر کو سراہا ہے۔
پاکستانی ہدایت کار کی تعریف
معروف فلم ساز عمر ناصر علی، جو اپنی پروڈکشن کمپنی نم فلمز کے تحت فیچر فلمیں اور اشتہارات بنانے کیلئے جانے جاتے ہیں، نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ’’میں واپس آؤں گا‘‘ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امتیاز علی کے کام کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا:’’فلم ’میں واپس آؤں گا‘ ایک خوبصورت اور نہایت جذباتی فلم ہے، جو اختتام کے بعد بھی طویل عرصے تک ذہن میں رہتی ہے۔ ‘‘عمر ناصر علی نے یہ بھی بتایا کہ ان کی زیرِ تکمیل ہدایت کاری کی فلم، جس کا عارضی عنوان ’’چھوڑ آئے ہم‘‘ ہے، تقسیمِ ہند، یادداشت، شناخت اور گھر واپسی جیسے موضوعات پر مبنی ہے۔ انہی مشترکہ موضوعات کے باعث وہ یہ دیکھنے کیلئے خاصے متجسس تھے کہ امتیاز علی نے اس حساس موضوع کو کس انداز میں پیش کیا ہے۔ اپنے تجربے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’’جیسا کہ توقع تھی، یہ فلم ہر لحاظ سے امتیاز علی کے منفرد انداز کی عکاس ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: گووندا بالوں کا ’’پیچ‘‘ استعمال کرتے ہیں: سنیتا آہوجا کا انکشاف
فلم ساز نے نصیرالدین شاہ کی اداکاری کو’’غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے خصوصی تعریف کی۔ انہوں نے ایڈیٹر آرتی بجاج کے کام کو بھی سراہا اور فلم کی کہانی کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ عمر ناصر علی نے فلم کی مجموعی فنی مہارت کو’سنیماٹک کہانی گوئی کا ایک شاہکار سبق‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ فلم ابھرتے ہوئے فلم سازوں اور سینما کے طلبہ کیلئے سیکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
’’میں واپس آؤں گا‘‘ اور تقسیمِ ہند
’’میں واپس آؤں گا‘‘ تین نسلوں پر محیط ایک کہانی ہے جو تقسیمِ ہند کی میراث کے ذریعے محبت، جدائی اور تعلق کے موضوعات کو اجاگر کرتی ہے۔ کہانی کا آغاز سرگودھا سے ہوتا ہے، جو۱۹۴۷ء کی تقسیم کے بعد موجودہ پاکستان کا حصہ بن گیا تھا۔ اس پُرآشوب دور میں ایک سکھ خاندان اپنا گھر چھوڑ کر ہندوستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ہنگاموں اور تشدد کے دوران کینو (ویدانگ رائنا) اپنی محبوبہ افسانہ (شروری) سے بچھڑ جاتا ہے۔ کینو کے خاندان کے برعکس، افسانہ کا مسلمان خاندان پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ کئی برس بعد کینو اپنے ماضی سے دوبارہ جڑنے کی امید میں سرگودھا واپس آتا ہے، مگر اسے ایک ایسی دل توڑ دینے والی حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہے۔ یہ تجربہ اسے اپنے پرانے خوابوں کو پیچھے چھوڑ کر ہندوستان میں نئی زندگی شروع کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، تاہم، جدائی کے زخم اس کے ساتھ دہائیوں تک رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پرکاش پڈوکون نے داماد رنویر سنگھ کی ’’دھرندھر‘‘ کو پُرتشدد قرار دیا
ستر برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد کینو اب۹۵؍ سالہ خوشحال بزرگ بن چکا ہے، جس کا کردار نصیرالدین شاہ نے ادا کیا ہے۔ عمر کے آخری حصے میں اس کی ایک ہی خواہش باقی رہ جاتی ہے، ایک آخری بار سرگودھا واپس جانا اور اپنی زندگی کے اس باب کو مکمل کرنا جو کبھی بند نہ ہو سکا۔ اس جذباتی سفر میں اس کا پوتا نرویر (دلجیت دوسانجھ) اس کا ساتھ دیتا ہے، جو بڑھاپے، وقت کی کمی اور ادھوری یادوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں اس کی مدد کرتا ہے۔ دونوں ایک ایسے ذاتی سفر پر نکلتے ہیں جو ماضی اور حال کو آپس میں جوڑ دیتا ہے اور تقسیمِ ہند کی انسانی قیمت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔