مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ کے قریب فلسطینی املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کو’’نسلی صفایا‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 18, 2026, 3:00 PM IST | Jerusalem
مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ کے قریب فلسطینی املاک پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس اقدام کو’’نسلی صفایا‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجدِ اقصیٰ کے قریب فلسطینی جائیدادوں پر قبضے کے اسرائیلی منصوبے کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’نسلی صفایا‘ قرار دیا ہے۔ اتوارکو جاری ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ اسرائیل باب السلسلہ محلے میں واقع جائیدادوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جو قدیم شہر یروشلم کے اندر مسجدِ اقصیٰ کے قریب واقع ہے۔ وزارت نے اس اقدام کو ایک خطرناک نوآبادیاتی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مسجدِ اقصیٰ کے اطراف میں آبادکاری کے کنٹرول کو بڑھانا اور فلسطینیوں کو مقبوضہ مشرقی یروشلم سے بے دخل کرنا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ باب السلسلہ، جو مسجدِ اقصیٰ جانے والے تاریخی راستوں میں سے ایک اہم راستہ ہے، کو نشانہ بنانا دراصل ایک منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد اردگرد کے علاقوں کو ان کے اصل باشندوں سے خالی کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران پر ممکنہ نئے حملوں کی خبروں پر تشویش کی لہر
وزارت نے اقوامِ متحدہ، یونیسکو اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کو مسترد کریں اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس سے قبل اتوار کے روز یروشلم گورنریٹ نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے ۱۵؍سے۲۰؍ فلسطینی جائیدادوں پر قبضے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جن میں ایوبی، مملوک اور عثمانی ادوار کی تاریخی عمارتیں بھی شامل ہیں۔ گورنریٹ کے مطابق یہ منصوبہ۱۹۶۸؍ کے ایک حکومتی فیصلے کی بنیاد پر تیار کیا گیا، جس کا جواز یہودی کنٹرول اور سکیوریٹی کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اسرائیلی حکام اور آبادکار تنظیموں نے قدیم شہر، شیخ جراح اور سلوان کے علاقوں میں فلسطینی جائیدادوں پر قبضے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔