سوئزرلینڈ میں گلیشیئرز کو پگھلنے سے بچانے کیلئے محققین نے بھیڑوں کی اون سے برف ڈھانپنے کا منفرد تجربہ کیا ہے۔ ابتدائی نتائج میں اون کو مصنوعی چادروں جتنا مؤثر اور ماحول دوست متبادل قرار دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 8:02 PM IST | Genoa
سوئزرلینڈ میں گلیشیئرز کو پگھلنے سے بچانے کیلئے محققین نے بھیڑوں کی اون سے برف ڈھانپنے کا منفرد تجربہ کیا ہے۔ ابتدائی نتائج میں اون کو مصنوعی چادروں جتنا مؤثر اور ماحول دوست متبادل قرار دیا گیا ہے۔
سوئزرلینڈ میں محققین نے ملک کے گلیشیئرز کو محفوظ رکھنے کیلئے ایک منفرد تجربہ شروع کیا ہے۔ وہ الپس کے پہاڑوں پر موجود برف کو بھیڑوں کی اون سے ڈھانپ رہے ہیں تاکہ حرارت کو منعکس کیا جا سکے اور برف کو پگھلنے سے روکا جا سکے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق یہ تجربہ کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ یہ تجربہ مغربی سوئزرلینڈ کےتسانفلورون گلیشیر(Tsanfleuron Glacier ) پر کیا جا رہا ہے۔ ’’Keep It Wool‘‘نامی اس منصوبے کی قیادت ماحولیاتی تنظیم سمٹ فاؤنڈیشن اور لوزان یونیورسٹی کر رہے ہیں۔
عام طور پر گلیشیئر کی برف کو مصنوعی چادروں سے ڈھانپا جاتا ہے تاکہ وہ سورج کی حرارت جذب نہ کرے۔ تاہم یہ مصنوعی چادریں غیر حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والی یعنی نان بایوڈی گریڈیبل ہوتی ہیں اور ماحول پر اضافی بوجھ ڈالتی ہیں۔ اسی لئے اس نئے تجربے میں محققین نے سوئس بھیڑوں کی اون کو گلیشیئر کے کچھ حصوں پر بچھایا۔ اگر یہ طریقہ کامیاب ثابت ہوتا تو یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: میرے جانے کے بعد کوئی یہ کام نہیں کریگا اسلئے ہر جگہ خود اپنا نام لگا رہا ہوں: ٹرمپ
پلاسٹک کی چادروں کی جگہ قدرتی مواد
محققین نے پایا کہ اون نے مصنوعی مواد کی طرح مؤثر انداز میں کام کیا اور برف کو حرارت سے محفوظ رکھا۔ تحقیق کے مطابق بھیڑوں کی اون کی چادریں استعمال کرنے کے دو بڑے فائدے ہیں۔ پہلا یہ کہ برف کو محفوظ رکھنے کیلئے پلاسٹک کے مواد کا استعمال ضروری نہیں رہے گا، کیونکہ پلاسٹک ماحول پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بھیڑوں کی اون کو ضائع کرنے کے بجائے ایک نئے مقصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یوں گلیشیئرز کو پگھلنے سے روکنے کے ساتھ ماحول کے تحفظ کے دوہرے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے اون کو ایک موصل اور حرارت منعکس کرنے والی تہہ کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک ماحول دوست اور حیاتیاتی طور پر تحلیل ہونے والے متبادل کا تجربہ کیا جا سکے۔ منصوبے کے مطابق سوئزر لینڈ میں ہر سال تقریباً۴۰؍ سے۷۰؍ فیصد بھیڑوں کی اون ضائع کر دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال کو۲۰؍ ہزار نئے گھر تعمیر کرنے ہوں گے
محققین نے تقریباً ۲۰۰؍مربع میٹر رقبے پر مشتمل گلیشیئر کے حصے پر اون سے بنے دو آزمائشی کمبل بچھائے۔ یہ گلیشیئر تقریباً۵ء۳؍کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ ٹیم نے ہر دو ہفتے بعد اون کی چادروں کی کارکردگی کا مصنوعی مواد سے موازنہ کیا۔ محققین نے پایا کہ اون نے برف کے نقصان کو تقریباً اتنی ہی حد تک کم کیا جتنا مصنوعی مواد نے کیا تھا۔ یونیورسٹی آف لوزان کے طالب علم ایلیوٹ گیپیو نے کہا، ’’اب ہمارے پاس ماحول دوست حل موجود ہے، جس کا صرف تصور ہی نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے دیکھا اور چھوا بھی جا سکتا ہے۔ ‘‘اگرچہ محققین کو بھیڑوں کی اون کے استعمال کے مثبت نتائج ملے ہیں، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ یہ عالمی حدت کا حل نہیں ہے۔ گلیشیئرز کو بڑے پیمانے پر پگھلنے سے بچانے کیلئےگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا انتہائی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خلائی پیشقدمی: ملک کا اولین جیو سنکرونس سیٹیلائٹ مدار میں داخل
گلیشیئرز کا پگھلنا اور نیپال کا سیلاب
نیپال میں آنے والے سیلاب کی وجہ بھی گلیشیئر سے جھیل میں جمع پانی کا اچانک اخراج تھا، جسے’ Glacial Lake Outburst‘ کہا جاتا ہے۔ گلیشیئر کے مسلسل پگھلنے سے پانی جمع ہوتا رہا اور ایک عارضی قدرتی رکاوٹ اسے روکے رہی، لیکن جب یہ رکاوٹ مزید پانی کا دباؤ برداشت نہ کر سکی تو ٹوٹ گئی اور پانی تیزی سے وادی میں بہہ نکلا۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ہمالیہ کا خطہ دنیا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے اور بہت سے دوسرے گلیشیئرز کو بھی اسی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔ نیپال اور تبت میں پیش آنے والا یہ سانحہ مستقبل میں عام صورتِ حال بن سکتا ہے، اگر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کئے گئے۔