Updated: January 21, 2026, 4:24 PM IST
| Karachi
اگلے ماہ ہونے والے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کی تیاریوں کو روکنے سے متعلق خبروں کے درمیان جو کہ سیکوریٹی خدشات کے باعث ہندوستانی سرزمین پر اپنی کرکٹ ٹیم بھیجنے کے خلاف بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مؤقف کی حمایت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے باضابطہ طور پر عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو خط لکھ کر وینیو تنازع پر بنگلہ دیش کی حمایت کی ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم۔ تصویر:آئی این این
اگلے ماہ ہونے والے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کی تیاریوں کو روکنے سے متعلق خبروں کے درمیان جو کہ سیکوریٹی خدشات کے باعث ہندوستانی سرزمین پر اپنی کرکٹ ٹیم بھیجنے کے خلاف بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے مؤقف کی حمایت کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے باضابطہ طور پر عالمی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو خط لکھ کر وینیو تنازع پر بنگلہ دیش کی حمایت کی ہے۔
بنگلہ دیش میں حالیہ بدامنی، اقلیتوں پر مسلسل حملوں اور اس کے جواب میں ہندوستان کے ردِعمل کے بعد، ملک کے اسپورٹس ایڈوائزر نے اپنی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کی کہ کرکٹ ٹیم کو ہندوستان نہ بھیجا جائے۔ اس فیصلے سے متعلق بی سی بی متعدد مرتبہ آئی سی سی کو آگاہ کر چکا ہے، تاہم ہر بار اسے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔
منگل (۲۰؍ جنوری) کو، بی سی بی کی جانب سے اپنی ٹیم کے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے مستقبل پر حتمی فیصلہ کرنے کی آخری تاریخ سے ایک دن قبل، پی سی بی نے آئی سی سی اور دیگر شریک اراکین کو واضح پیغام دیا کہ وہ بی سی بی کے اس فیصلے کی حمایت کرتا ہے کہ ٹیم ہندوستان کا سفر نہ کرے کیونکہ وہاں کھلاڑیوں اور معاون عملے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات موجود ہیں۔
ای ایس پی این کرک انفو کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی سی سی نے بدھ (۲۲؍ جنوری) کو اس معاملے پر غور کرنے اور کوئی حل نکالنے کے لیے بورڈ میٹنگ طلب کی ہے جبکہ ۲۰؍ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ شروع ہونے میں دو ہفتوں سے بھی کم وقت باقی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ آیا پی سی بی کے ای میل کی وجہ سے ہی آئی سی سی نے یہ میٹنگ شیڈول کی۔ اگرچہ پی سی بی کے خط کے وقت نے سوالات کو جنم دیا ہو، تاہم آئی سی سی کے لیے یہ ’انتہائی غیر متوقع‘ ہے کہ وہ بی سی بی کی اس درخواست کو قبول کرے کہ ہندوستان کے ساتھ شریک میزبان سری لنکا بنگلہ دیش کے تمام میچز کی میزبانی کرے، جیسا کہ پاکستان کے معاملے میں کیا جا رہا ہے۔ البتہ یہ ایک الگ بحث ہے۔ آئی سی سی اپنے مؤقف پر واضح ہے اور اس نے یہ پیغام حالیہ ویک اینڈ پر ڈھاکہ میں ہونے والی ملاقات کے دوران بی سی بی کو بھی دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:داؤس میں ہندوستانی ریاستوں کی ہندوستانی کمپنیوں کےساتھ معاہددوں پرشدید تنقید
بی سی بی، حکومتی حمایت کے ساتھ، آئی سی سی کے فیصلے سے بھی متاثر نظر نہیں آتا اور ہندوستان نہ جانے کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ تاہم آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ایک الٹی میٹم بھی جاری کیا ہے، جس سے متعلق بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، کہ یا تو اصل شیڈول کے مطابق ہندوستان کے دو شہروں میں اپنے لیگ میچز کھیلے جائیں یا پھر اس کی جگہ اگلی اعلیٰ درجہ بندی کی غیر کوالیفائیڈ ٹیم، اس معاملے میں اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:کرلا:مارپیٹ واقعہ کے بعد بی ایم سی کی بلڈوزر کارروائی
ادھر، پی سی بی کا یہ قدم ایک ہفتے سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں غیر مصدقہ اطلاعات شامل تھیں کہ پاکستان بغیر میزبانی کے حقوق کے بنگلہ دیش کے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میچز کی میزبانی کی پیشکش کر رہا ہے اور یہ بھی کہ وہ ورلڈ کپ میں اپنی شرکت پر نظرِ ثانی کر رہا ہے۔ گروپ سی میں شامل بنگلہ دیش کے ساتھ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، نیپال اور ٹورنامنٹ میں پہلی بار شرکت کرنے والی اٹلی شامل ہیں۔ بنگلہ دیش اپنے پہلے تین لیگ میچز کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں جبکہ آخری گروپ میچ ممبئی کے وانکھیڈ ے اسٹیڈیم میں کھیلے گا۔