Inquilab Logo Happiest Places to Work

پی سی بی کی حد سے زیادہ مداخلت عہدہ چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ بنی : گیری کرسٹن

Updated: March 22, 2026, 12:03 PM IST | Johansburg

پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے ٹیم کے ساتھ اپنے مختصر عرصے کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی حد سے زیادہ مداخلت ان کے وقت سے پہلے عہدہ چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ بنی۔

Gary Kirsten.Photo:INN
گیری کرسٹن۔ تصویر:آئی این این

 پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے ٹیم کے ساتھ اپنے مختصر عرصے کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی حد سے زیادہ مداخلت ان کے وقت سے پہلے عہدہ چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ بنی۔کرسٹن، جنہیں اپریل ۲۰۲۴ء میں دو سالہ معاہدے پر مقرر کیا گیا تھا، نے صرف ۶؍ ماہ بعد پاکستان کی ون ڈے اور ٹی ۲۰؍ ٹیموں کے ہیڈ کوچ کا عہدہ چھوڑ دیا، جو ٹیم کے آسٹریلیا کے طے شدہ ون ڈے دورے سے چند دن پہلے ہوا۔ جنوبی افریقہ کے سابق اوپنر نے کہا کہ ٹیم کے معاملات میں مداخلت کی سطح ایسی تھی جیسی انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
کرسٹن نے ٹاک اسپورٹ کرکٹ کو بتایاکہ ’’جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ حیران کیا وہ مداخلت کی سطح تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے پہلے کبھی اس درجے کی مداخلت دیکھی ہے۔ کیا اس سے مجھے حیرت ہوئی؟ مجھے نہیں معلوم، لیکن یہ کافی زیادہ تھی۔‘‘ ان کے استعفیٰ کے بعد پی سی بی نے ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی کو آسٹریلیا کے دورے کے لیے وائٹ بال ٹیم کا عبوری کوچ مقرر کیا، جس میں چھ محدود اوورز کے میچ شامل تھے۔ تاہم چند ماہ بعد گلیسپی نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

یہ بھی پڑھئے:کوہلی کی قیادت میں آر سی بی خطاب کے دفاع کے لیے تیار

کرسٹن نے کہا کہ مسلسل بیرونی دباؤ کے باعث کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے ایک مستحکم ماحول بنانا مشکل ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ’’جب باہر سے مسلسل شور ہو تو کوچ کے لیے آ کر کھلاڑیوں کے ساتھ کام کرنے کا طریقہ قائم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ واقعی مشکل تھا، باہر سے مسلسل شور، خراب کارکردگی اور اس طرح کے معاملات پر سخت ردِعمل سامنے آتا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:’’امریکہ اگر پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو وہ ہندوستان کے دہلی اور ممبئی کو نشانہ بنائے گا‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جب ٹیم کے نتائج اچھے نہیں ہوتے تو کوچ سب سے آسان ہدف بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ’’ایک کوچ کے طورپر جب ٹیم اچھی کارکردگی نہیں دکھا رہی ہوتی تو آپ سب سے آسان نشانہ بن جاتے ہیں، اس لیے کوچ کو ہٹانا یا اس پر پابندیاں لگانا سب سے آسان راستہ سمجھا جاتا ہے، لیکن میرے خیال میں یہ الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔‘‘گلیسپی، جنہوں نے کچھ عرصے کے لیے کرسٹن کی جگہ وائٹ بال ٹیم کی نگرانی کی تھی، نے بھی اس سے پہلے اسی طرح کے خدشات ظاہر کیے تھے۔ سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر نے پی سی بی کے ساتھ معاہدے سے متعلق مسائل کا الزام عائد کیا، جس میں بقایا ادائیگی نہ ہونے اور کئی بار معاہدہ توڑنے کے دعوے شامل تھے۔اس کے جواب میں بورڈ نے کہا کہ گلیسپی اپنے معاہدے میں طے شدہ چار ماہ کے نوٹس پیریڈ کی پابندی کرنے میں ناکام رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK