Updated: May 15, 2026, 10:59 AM IST
| Madrid
Lamine Yamal کے فلسطینی پرچم لہرانے پر اسپین اور اسرائیل کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی، جہاں اسرائیلی وزیر دفاع نے اسے ’’نفرت انگیزی‘‘ قرار دیا۔ دوسری جانب پیڈرو سانچیز نے جمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف فلسطین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جس پر پورا اسپین فخر محسوس کرتا ہے۔
فٹبالر الامین جمال فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے اورپیڈرو سانچیز۔ تصویر: ایکس
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیزنے کہا ہے کہ الامین جمال نے فلسطینی پرچم لہرا کر اسپین کو ’’فخر‘‘ محسوس کرایا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ان پر ’’نفرت بھڑکانے‘‘ کے الزامات عائد کئے گئے۔ ۱۸؍ سالہ فارورڈ کھلاڑی نے پیر کو بارسلونا میں اوپن ٹاپ بس پریڈ کے دوران فلسطینی پرچم اٹھایا تھا، جب ان کی ٹیم مسلسل دوسری بار لا لیگا ٹائٹل جیتنے کا جشن منا رہی تھی۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو ہسپانوی اسٹار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف ’’نفرت بھڑکانے‘‘ کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ہسپانوی زبان میں لکھا:’’مجھے امید ہے کہ بارسلونا جیسا عظیم اور باوقار کلب ان بیانات سے خود کو الگ کرے گا اور واضح طور پر یہ پیغام دے گا کہ اشتعال انگیزی یا دہشت گردی کی حمایت کی کوئی جگہ نہیں۔‘‘
اس کے جواب میں، غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو ’’نسل کشی‘‘ قرار دینے والے اسرائیل کے سخت ناقد سانچیزنے جمال کا دفاع کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا:’’جو لوگ کسی ریاست کا پرچم لہرانے کو ‘نفرت بھڑکانا’ سمجھتے ہیں، یا تو وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں یا پھر اپنی ہی بدنامی کے باعث اندھے ہو چکے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’الامین نے صرف فلسطین کے ساتھ اس یکجہتی کا اظہار کیا ہے جو لاکھوں ہسپانوی شہری محسوس کرتے ہیں۔ یہی ایک اور وجہ ہے کہ ہمیں اس پر فخر ہے۔‘‘