Inquilab Logo Happiest Places to Work

نجی رہائش گاہ میں عبادت کیلئے پیشگی اجازت ضروری نہیں: چھتیس گڑھ ہائی کورٹ

Updated: April 01, 2026, 10:30 AM IST | Agency | Bilaspur

کسی کو ہراساں نہ کرنے اور شہری حقوق میں مداخلت نہ کرنے کی پولیس کو ہدایت بھی دی گئی،اس سے قبل اسی طرح کا فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ سے بھی آچکا ہے۔

Chattisgarh High Court.Photo:INN
چھتیس گڑھ ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ایک اہم حکم نامے میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنی نجی رہائش گاہ میں پرامن طریقے سے عبادت کرنے کیلئے پہلے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ فیصلہ جسٹس نریش کمار چندرونشی کی سنگل بنچ نے سنایا، جس میں پولیس کی جانب سے جاری نوٹس کو منسوخ کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل۲۲۶؍ کے تحت پولیس تھانہ نوواگڑھ کی جانب سے جاری نوٹس کو چیلنج کیا تھا اور۷؍ دسمبر۲۰۲۵ء کے حکم کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار گودھن گاؤں میں اپنے ذاتی مکانات کے مالک ہیں اور۲۰۱۶ء سے پہلی منزل پر بنائے گئے ہال میں عیسائی برادری کیلئے عبادتی اجتماعات منعقد کرتے آ رہے ہیں، جہاں کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا بدنظمی نہیں ہوئی۔ریاست کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف کچھ فوجداری مقدمات درج ہیں اور انہوں نے دعائیہ اجتماع کیلئے پیشگی اجازت نہیں لی تھی، اسی لیے پولیس نے نوٹس جاری کیے۔
 
 
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد واضح کیا کہ نجی رہائش گاہ میں عبادت پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ البتہ اگر ایسے اجتماعات کے دوران شور شرابہ، قانون و نظم کی خلاف ورزی یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہو تو متعلقہ حکام قانون کے مطابق کارروائی کر سکتے ہیں، لیکن محض عبادت کی بنیاد پر مداخلت درست نہیں۔
عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزاروں کے شہری حقوق میں مداخلت نہ کرے اور نہ ہی تفتیش کے نام پر انہیں پریشان کرے۔ ساتھ ہی۱۸؍ اکتوبر۲۰۲۵ء،۲۲؍ نومبر۲۰۲۵ء اور یکم فروری۲۰۲۶ء کو جاری تمام نوٹسز کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔
 
 
خیال رہے کہ اس سے قبل اسی طرح کا ایک فیصلہ الہ آہائی کورٹ سے بھی آچکا ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ نے۲؍فروری کواسی طرح کا ایک فیصلہ سناتے ہوئے واضح تھا کہ کسی بھی فرد یا برادری کو اپنے نجی احاطے میں مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کیلئے ریاستی حکومت یا انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK