وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور کچھ وقت پہلے انہیں ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں داخل بھی کیا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر فیملی فرینڈ ششی شیکھر نے تصدیق کی ہے۔
EPAPER
Updated: June 04, 2026, 2:10 PM IST | Mumbai
وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور کچھ وقت پہلے انہیں ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں داخل بھی کیا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر فیملی فرینڈ ششی شیکھر نے تصدیق کی ہے۔
پہلاج نہلانی، بالی ووڈ کے معروف فلم پروڈیوسر اور سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی ) (CBFC) کے سابق چیئرمین، ۷۶؍ سال کی عمر میں دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کے قریبی ساتھی ششی شیکھر نے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔ پہلاج نہلانی کافی عرصے سے بیمار تھے۔ انہیں ممبئی کے وِلے پارلے میں واقع ناناوتی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں ان کا علاج جاری تھا۔ کچھ دن پہلے انہیں اسپتال سے گھر لایا گیا تھا، اور اب انہوں نے اپنے گھر پر ہی آخری سانس لی۔ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی پوری فلم انڈسٹری اور قریبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پہلاج نہلانی کافی عرصے سے علیل تھے۔ ان کی آخری رسومات ۴؍ جون دوپہر ۳؍ بجے سانتا کروز ہندو شمشان گھاٹ میں ادا کی گئیں۔
۹۰ءکی دہائی میں باکس آفس پر دھوم مچا دی تھی
ہندی کمرشیل سنیما میں پہلاج نہلانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ خاص طور پر ۸۰ء اور ۹۰ء کی دہائی میں انہوں نے باکس آفس کے مزاج کو خوب سمجھا اور ایک سے بڑھ کر ایک ہٹ فلمیں دیں۔ انہوں نے ’’الزام’’، ’’آگ ہی آگ‘‘ اور’’شعلہ اور شبنم‘‘ جیسی کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں۔ ۱۹۹۳ء میں گووندہ اور چنکی پانڈے کی فلم ’’آنکھیں‘‘ نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے اور یہ اس دور کی سب سے بڑی بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔
گووندہ کی پہلی فلم
گووندہ کی پہلی فلم ’’لو۸۶ء‘‘ تھی جو ۱۹۸۶ء میں ریلیز ہوئی، لیکن بطور مرکزی اداکار انہیں ’’الزام‘‘میں دیکھا گیا جسے پہلاج نہلانی نے ہی پروڈیوس کیا تھا۔ یہ فلم باکس آفس پر بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھئے:فلم ’’پیڈی ‘‘کے لیے رام چرن نے گہرے زخم بھی برداشت کئے
سینسر بورڈ کے دور میں تنازعات
فلمسازی کے علاوہ پہلاج نہلانی کوسی بی ایف سی کے چیئرمین (جنوری ۲۰۱۵ء تا۲۰۱۷ء) کے طور پر بھی یاد کیا جائے گا۔ ان کا یہ دور کافی تنازعات سے بھرپور رہا۔ فلموں میں سخت تخفیف اور مناظر پر پابندیوں کے باعث وہ خبروں میں رہے۔ ’’اڑتا پنجاب‘‘،’’لیپ اسٹک انڈر مائی برقع‘‘ اور جیمز بانڈ فلم’’اسپیکٹر‘‘ کے کٹس پر فلم سازوں کے ساتھ ان کا شدید اختلاف ہوا۔وہ تقریباً تین دہائیوں تک ایسوسی ایشن آف موشن پکچر اینڈ ٹی وی پروگرام پروڈیوسرز کے صدر بھی رہے اور فلم و ٹی وی پروڈیوسرز کے حقوق کے لیے کام کرتے رہے۔ ان کا انتقال ہندی سنیما کے ایک بڑے دور کے اختتام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مظفر پور میں خوفناک آتشزدگی،آئی سی یو میں آگ لگنےسے۱۰؍مریض جاں بحق
کئی سال پہلے طبی مسئلہ
تقریباً پانچ سال پہلے بھی ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی اور انہیں اسپتال داخل کرنا پڑا تھا۔ اس وقت انہیں قے میں خون آنے اور کمزوری کی شکایت ہوئی تھی، جس کی وجہ کرونک فوڈ پوائزننگ بتائی گئی تھی۔ وہ کئی دن آئی سی یو میں زیر علاج رہے تھے۔ اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ صرف شتروگھن سنہا ان سے ملاقات کے لیے آئے تھے۔