Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات: اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کے قیام کی مخالفت

Updated: July 20, 2026, 10:33 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

مائناریٹی کو آرڈی نیشن کمیٹی گجرات کی جانب سے وزیر اعلیٰ اور ڈی جی پی کو پریزنٹیشن دے کر اس کی خامیاں اجاگر کی گئیں اور کئی سوالات قائم کئے گئے، بتایا گیا کہ ایس او پی میں جن بنیادوں پرکارروائی کی ہدایت دی گئی ہے ان کا تعلق مسلم شناخت ،طورطریقوں اور اداروں سے ہے۔

Is the Gujarat Police`s anti-radicalization cell only meant to monitor Muslims? (Photo: Courtesy of The Quint)
کیا گجرات پولیس کے اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل کا مقصدصرف مسلمانوں کی نگرانی کرنا ہے؟(تصویر: بشکریہ دی کوئنٹ )

ریاستی انٹیلی جنس بیورو، گجرات کے ذریعے ایک سرکیولر جاری کیاگیا جس میں ضلع اور کمشنریٹ پولیس دفاتر میں اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل (اے آر سی) کے قیام کی ہدایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی اس کے طریقہ کار کیلئے ایک معیاری آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) جاری کیاگیا ہے ، اس سے مسلمانوں میں کافی تشویش پائی جارہی ہے۔ مائناریٹی کوآرڈی نیشن کمیٹی گجرات کے کنوینر مجاہد نفیس نے اس کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کئی سوالات قائم کئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: پیداوار میں کمی آنے سےشہرو مضافات میں انڈے کی قیمت میں اضافہ، عام صارف متاثر

وزیراعلیٰ اور ڈی جی پی کو اس سلسلے میں میمورنڈم بھی دیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ایس او پی میں ’بنیاد پرست شخص ‘کی تعریف ایک ایسے فرد کے طور پر کی گئی ہے جو انتہا پسندانہ نظریے سے متاثر ہو کر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو، ملک کے اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالے، عوام میں خوف پیدا کرے، انتہا پسندانہ عقائد کی تشہیر کرنے کی کوشش کرے، دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف نفرت کو فروغ دے یا سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور ریڈیو، کے ذریعے دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کرے ۔ میگزین، عوامی اجلاس، یا تقاریر وغیرہ بھی اس کا حصہ ہیں۔ اسی طرح ایس او پی میں مزید ایسے افراد کی روک تھام، شناخت، نگرانی اور بحالی سے متعلق اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ہے۔ پریزنٹیشن میں کہا گیا ہے کہ ایس او پی میں معلومات جمع کرنے کیلئے تجویز کردہ فارمیٹس کا جائزہ لینے پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عملی طور پر رہنما خطوط غیر متناسب طور پر مسلم کمیونٹی، اس کی مذہبی شناخت، طور طریقے اور اداروں پر مرکوز ہیں۔ اس میں خاص طور پر ڈاڑھی بڑھانا، نقاب پہننا، عربی الفاظ کا کثرت سے استعمال، مدارس اور علماء کا ریکارڈ رکھنا شامل ہیں جب کہ کسی دوسرے مذہب کے حوالے سے کوئی موازنہ ، اشارے یا اقدامات تجویز نہیں کئے گئے ہیں۔ 

مزید برآں، ایس او پی مدارس میں مولانا کی تدریس خدمات کے تفصیلی ریکارڈ کی تیاری اور مذہبی اداروں سے متعلق معلومات اکٹھا کرنے کی بھی ہدایت دیتا ہے۔ہمیں یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اس ایس او پی کے نفاذ کے بعد، پولیس حکام پورے گجرات میں مساجد اور مدارس کا دورہ کر رہے ہیں اور ٹرسٹ بینک اکاؤنٹس، ٹرسٹیوں کے ذاتی بینک اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ ان اداروں سے وابستہ اماموں، علماء اور اساتذہ کی ذاتی اور بینک کی معلومات جمع کر رہے ہیں۔ اس بناء پر ہم ادب کے ساتھ آپ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران گجرات میں متعدد واقعات دیکھنے میں آئے ہیں جن میں مسلم کمیونٹی کے افراد کومحض ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میراروڈ : نازیہ الٰہی کیخلاف ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ

اس طرح کے واقعات بنیاد پرستی، عدم برداشت اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن کا مظہر بھی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے حکام کی یکساں توجہ کے مستحق ہیں ۔ ہماری بنیادی تشویش یہ ہے کہ، اگرچہ ایس او پی میں ’بنیاد پرستی ‘کی تعریف مذہب سے غیر جانبدار ہے لیکن اس کا نفاذ اور مقررہ شکلیں صرف مسلم کمیونٹی  سے متعلق نظر آتی ہیں ا ور کسی خاص کمیونٹی کے اراکین کے درمیان امتیازی سلوک، عدم تحفظ اور ذہنی ایذا رسانی کا احساس پیدا کرنے والا بھی ہے۔ اس لئے ریاستی انٹیلی جنس بیورو کے ذریعے جاری کردہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کا فوری جائزہ لینے کا حکم جاری کیاجائے۔یہ بھی یقینی بنایاجائے کہ اگر مذہبی اداروں سے معلومات اکٹھا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے تو ایسے اقدامات کا اطلاق تمام عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے اداروں اور ٹرسٹوں پر یکساں ہو۔ مجاہد نفیس کے مطابق اس کا قانونی پہلوؤں سے بھی جائزہ لیا جارہا ہے اور وکلاء سے صلاح ومشورہ بھی کیا جارہا ہے، حسب ضرورت اسے عدالت میں چیلنج بھی کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سبکدوش سینئر صحافی حبیب شیخ نے بتایا کہ’ گجرات مسلم ہت رکشک کمیٹی ‘کی۲۵؍ یا ۲۷؍ جولائی کو ہونے والی میٹنگ میں بھی اس موضوع پر غور وخوض کیا جائے گا۔ اس لئے کہ یہ انتہائی حساس مسئلہ ہے، اس سے مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور ان کا تشخص جڑا ہوا ہے اور یہ بھی محسوس کیا جارہا ہے کہ اس طرح کے اسپیشل سیل وغیرہ کے ذریعے مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK