Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی ایف ایف بھارت کی یوگی سے جوہر یونیورسٹی کے انہدام پر نظرثانی کی اپیل

Updated: July 20, 2026, 10:42 AM IST | New Delhi

سول سوسائٹی ’سٹیزن فار فریٹرنٹی بھارت ‘نے یونیورسٹی کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ،تمام قانونی تقاضوںکو پیش نظر رکھنے کی درخواست۔

The entrance door of Jauhar University is knocking in the eyes of the Yogi government. Photo: INN
یوگی حکومت کی نظروں میں کھٹک رہی جوہر یونیورسٹی کا داخلی دروازہ۔ تصویر: آئی این این

ایک سول سوسائٹی تنظیم نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک خط لکھا ہے، جس میں ان سے رام پور میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی ۳۸؍عمارتوں کو منہدم کرنے کے حکم پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ خط میں، سٹیزن فار فریٹرنٹی بھارت (سی ایف ایف بھارت) نے یونیورسٹی کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے مجوزہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اورتمام قانونی تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کی درخواست کی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی کا مکمل احترام کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ تمام اداروں کو قانونی تقاضوں کی تعمیل کرنی چاہئے لیکن ہم عاجزانہ اپیل کرتے ہیں کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کو متاثر کرنے والا کوئی بھی اقدام قدرتی انصاف، متوازن اور وسیع تر عوامی مفاد کے اصولوں پر مبنی ہونا چاہئے ۔ اس خط پر دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق سفارت کار اشوک شرما، صنعت کار سید مصطفی شیروانی، سینئر کاروباری لیڈر نوید خان اور صحافی جاوید ایم انصاری سمیت دیگر کے دستخط ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر عوام کا سیلاب، آج مارچ، دہلی پولیس کے تیور سخت

خط میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ سیکھنے کا ایک مرکز ہے جو ہزاروں طلبہ کو تعلیم فراہم کرتا ہے اور ملک کی فکری اور سماجی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل جو طلبہ کی تعلیم اور مستقبل میں رکاوٹ بن سکتا ہے اس پر احتیاط سے غور کیا جانا چاہئے۔خط میں کہا گیا ہے اگر کسی قانون اور ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے، ہم احترام کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ ایسا کوئی اقدام کرنے سے پہلے جس کی تلافی ممکن نہ ہو،تمام دستیاب قانونی تدابیر، تدارک کے راستے اور عدالتی عمل کو پوری طرح بروئے کارلایاجائے ۔ اس سے قانون کی حکمرانی اور انصاف کی آئینی اقدار دونوں کو برقرار رکھا جائے گا۔

خط میں میں کہا گیا ہے سی ایف ایف بھارت، بھائی چارے، مکالمے اور قومی ہم آہنگی کیلئے پُرعزم ایک تنظیم کے طور پر، آپ کی حکومت سے مخلصانہ اپیل کرتا ہے کہ وہ ایک حساس اور متوازن انداز اپنائے جو قانون کی پابندی کو یقینی بناتے ہوئے طلبہ کے مفادات کا تحفظ کرے۔

یہ بھی پڑھئے: کئی دَل بدلیوں کے بعدآج سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس

واضح رہے کہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی (آر ڈی اے) نے جیل میں بند سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خان کی ملکیت محمد علی جوہر یونیورسٹی کی ۳۸؍ عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اتھاریٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ عمارتیں بلڈنگ پلان کی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئیں۔ یونیورسٹی کا استدلال ہے کہ جب یہ عمارتیں تعمیر کی گئیں تو یہ علاقہ آر ڈی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ اتھاریٹی نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تعمیر کے وقت مجاز اتھارٹی سے منظوری لینا لازمی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK