Inquilab Logo Happiest Places to Work

پونے معاملہ: اپوزیشن نے مہایوتی حکومت کو گھیرا، وزیراعلیٰ پر سخت تنقید

Updated: May 04, 2026, 1:06 PM IST | Iqbal Ansari And Agency | Pune

شیوسینا یوبی ٹی نے الزام لگایا کہ ریاست میں لاء اینڈآرڈر میں خرابی کیلئے حکومت ذمہ دار ہے، کانگریس نے کہا کہ اس طرح کے افسوناک واقعات کا ہونا حکومت کی بڑی ناکامی ہے۔

Traffic on the Pune-Nagpur highway was disrupted for several hours due to a protest near the Wadgaon Bridge late on Saturday night. Photo: INN
سنیچر کی رات گئے وڈگاؤں بریج کے پاس مظاہرے کے سبب پونے ناگپور ہائی وے پرکئی گھنٹے ٹریفک نظام متاثر رہا۔ تصویر: آئی این این

پونے ضلع کے نسراپور میں نابالغ بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے اور پھر اسے موت کے گھاٹ اتاردینے کے معاملے کے خلاف عوامی سطح پر زبردست ناراضگی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے اور مہایوتی حکومت پر تنقید کی گئی ہے۔  شیوسینا یوبی ٹی کے ترجمان اور رکن پارلیمان سنجے راؤت نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ریاست میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انکے مطابق جب سے موجودہ مہایوتی اقتدار میں آئی ہے، قانون و نظم پوری طرح بگڑ چکا ہے۔ نابالغ کے ساتھ زیادتی اور قتل کے معاملے کیخلاف عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ دھیان رہے کہ اس کیس میں پولیس نے۶۵؍ سالہ ملزم بھیم راؤ کامبلے کو گرفتار کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی پہنچنے پر کانگریس لیڈر پون کھیڑا کا شاندار استقبال

سنجے راؤت نے کہا کہ اگر اس واقعے کا کوئی ذمہ دار ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے۔  یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ مہایوتی حکومت کے آنے کے بعد سے ایسے جرائم میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر خواتین اور نابالغ بچیوں کیخلاف مظالم بڑھ رہے ہیں۔راؤت نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہونے کے باوجود فرنویس قانون و نظم کے بجائے سیاست میں الجھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے سوال قائم کیا کہ جب وزیر اعلیٰ ایک ایک ماہ تک تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور بنگال کے انتخابات میں مصروف رہتے ہیں تو ریاست کے حالات کون سنبھالے گا؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اس معاملے میں معافی مانگنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی ماں بھی کسی کی ’لاڈلی بہن‘ ہوگی اور حکومت کو اس سانحے پر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے خواتین اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت سے جواب طلب کریں ۔ پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے راؤت نے پوچھا کہ عوام پر لاٹھی چارج کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حکومت، پولیس اور محکمہ داخلہ کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’اسمارٹ میٹر میں گڑبڑی ممکن ہے تو ای وی ایم میں کیوں نہیں‘‘

بچی پر ظلم اور قتل کے ملزم کو پھانسی دی جائے: ورشا گائیکواڑ 

رکن پارلیمان (ایم پی) اور ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے نسرا پور میں نابالغ کی عصمت دری اور قتل کو انسانیت کو شرمسار کرنے والی واردات قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ خاطی کو پھانسی دی جائے۔ اس واقعہ پر ورشا گائیکواڑ نے ریاستی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ ریاست میں قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔ خواتین پر مظالم کے واقعات آئے دن ہو رہے ہیں لیکن ہر واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے یہی کہا جاتا ہے کہ سخت ایکشن لیا جائے اور اپوزیشن اس پر سیاست نہ کرے۔ درحقیقت پولیس پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور پولیس وزیر داخلہ پر بھی توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اس ضمن میں ممبئی کانگریس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایم پی ورشا گائیکواڑ نےبدقسمتی سے مہاراشٹر جیسی ترقی یافتہ ریاست میں ایسے واقعات ہو رہے ہیں، جو حکومت کی بڑی ناکامی ہے۔ یہ اور بھی قابل مذمت ہے کہ فرنویس کی پولیس نے متاثرہ لڑکیوں کے اہل خانہ اور ہزاروں افراد پر لاٹھی چارج کیا جب وہ مجرم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کرنے سڑکوں پر نکلے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی: رہائشی عمارت میں آتشزدگی، ۹؍ افراد ہلاک

این سی پی (شردپوار) کی کارگزار صدر سپریہ سُلے نے ایکس پر لکھا کہ ’’نسرا پور کا دورہ کیا، یہاں پیش آنے والا واقعہ انتہائی غیر انسانی ہے اور ہم یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مجرم کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ معصوم بچی پر ظلم کرنے والے درندہ صفت شخص کا یہ تیسرا جرم ہے۔ اگر اسے پہلے ہی جرم میں سخت سزا دی جاتی تو مہاراشٹر کی دو بیٹیاں بچ سکتی تھیں۔ ہمارا مؤقف ہے کہ اس درندے کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالت میں سماعت ہو اور اسے لازماً سزائے موت دی جائے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK