Updated: August 25, 2026, 10:18 AM IST
|
Agency
| New Delhi
یہ لوگ کیا کریں؟ نیتی آیوگ کے مطابق یہ نہ زیر تعلیم ہیں، نہ برسر روزگار اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھ رہے ہیں۔ کانگریس نے مودی
سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا،نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کردینے کا الزام لگایا، کھرگے نے پوچھا: سالانہ ۲؍ کروڑ روزگار کا وعدہ کیا ہوا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی سرکار پر ملک کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تصویر: آئی این این
ملک میں پھیلی بیروزگاری کے بیچ مودی سرکار کے نیتی آیوگ نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں تصدیق کر دی ہے کہ ملک میں اس وقت ۱۵؍ سے ۲۹؍ سال کے ۸؍ کروڑ ۷۰؍ لاکھ نوجوان ایسے ہیں جو نہ زیرتعلیم ہیں، نہ برسرروزگار اور نہ ہی کوئی ہنر سیکھ رہے ہیں۔’’ری امیجننگ اِسکلنگ فار وِکست بھارت @ ۴۷‘‘ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ ایسے نوجوانوںکو کم خرچ پر اور سبیڈی دیکر ہنر سیکھنے کی سہولت فراہم کی جانی چاہئے اور جہاں مالی مشکلات زیادہ ہوں وہاں خصوصی مالی معاونت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ اس رپورٹ نے تعلیم اور روزگار کے محاذ پر مودی سرکار کی قلعی کھول دی ہے جس کے بعد اپوزیشن اس پر نوجوانوں کا مستقبل تباہ کردینے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی، بہار میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن، آنسو گیس، الیکٹرک شاک والی لاٹھیوں کا استعمال: ایمنسٹی
تعلیم، امتحان اور ڈگری سب برباد!
کانگریس نے رپورٹ پر برہمی کااظہار کرتے ہوئےکہا ہے کہ مودی سرکار نے نوجوانوں کیلئے حصول تعلیم سے روزگارکی فراہمی تک کے پورے راستے کو’’مکمل طور پر تباہ‘‘ کردیا ہے۔ پارٹی نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ۱۲؍ برسوں میں حکومت نے ملک کوایسا تعلیمی نظام فراہم کیا ہے جو بہت زیادہ مہنگا ہے، ایسے امتحانات منعقد کرائے جن پر نوجوانوں کو اعتماد نہیں رہا اور ایسی ڈگریاں دی جارہی ہیں جن کی بنیاد پر روزگار ملنے کے امکانات کم ہورہے ہیں۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے نیتی آیوگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنایااور کہا کہ ’’مودی حکومت نے ہندوستان کے نوجوانوں کیلئے تعلیم سے روزگار تک کے تمام راستے پوری طرح تباہ کردیئے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ تعلیم روزگااور ہنرمندی کی تربیت سے محروم ان نوجوانوں میں سے ۸۸؍ فیصد گھروں میں کام کررہے ہیں۔
بیروزگاری کی شرح ۱۵؍ فیصد سے زائد
کھرگے نے جولائی۲۶ء کے ’پیریاڈک لیبر فورس سروے ‘ (پی ایل ایف ایس) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح۱۵ء۶؍فیصد ہے، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ۱۹ء۵؍فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ملک میں تقریباً ۲۵؍ فیصد نوجوان تعلیم، روزگار اور تربیت سے باہر ہیں: نیتی آیوگ کی رپورٹ میں انکشاف
۴۰؍ فیصد گریجویٹس بے روزگار
کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ گریجویشن کے بعد ملازمتیں کہاں ہیں؟ رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ۲۰؍سے۲۹؍سال کی عمر کے بیروزگار نوجوانوں میں سے ۶۷؍فیصدگریجویٹ ہیں جبکہ ۱۵؍ سے ۲۵؍ سال کے بیروزگاروں میں بیرروزگارگریجویٹس کا فیصد ۴۰؍ہے۔کھرگے نے تعلیم پر ہونےوالے خرچ کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ ماں باپ اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، طلبہ تعلیمی قرض لیتے ہیں اور ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن آخر میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کیلئے ملازمتیں ہیں ہی نہیں۔
۲؍ کروڑ روزگار کا وعدہ کہاں گیا؟
انہوں نے مودی سرکار کو اس کا ہر سال ۲؍کروڑ ملازمتوں کا وعدہ یاد دلایا اور سوال کیا کہ اس وعدے کا کیا ہوا۔ کھرگے نے کہا کہ اس حساب سے۱۲؍سال میں ملک میں ۲؍کروڑ ملازمتیں پیدا ہوجانی چاہئیں تھیں لیکن اس کے برعکس جو سرکاری سرکاری عہدے پہلے سے موجود ہیں ان میں سے لاکھوں خالی پڑے ہیں ۔ نوجوانوں کو مستقل روزگار کی جگہ کنٹریکٹ اور جز وقتی ملازمتیں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جونوجوان آزادی ملک کی طاقت تھی کیا اس کو مودی سرکار بحران میں تبدیل کررہی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتی آیوگ نے اپنی رپورٹ میں ’’خود روزگار‘‘ کے فروغ کی وکالت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور: واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے کلورین گیس کا اخراج، ۴۰؍ سے زائد افراد اسپتال داخل
اسی لئے نوجوان غصے میں ہے: پرینکا گاندھی
کانگریس کی لوک سبھا رکن اور جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی نےنیتی آیوگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملک میں بیروزگاری کی شرح گزشتہ۴۰؍برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔نوجوانوں میں بہت زیادہ بے چینی، مایوسی اور اضطراب ہے۔ ہم نے اسے طلبہ کے احتجاج میں دیکھا ہے۔ یہ ناکام تعلیمی نظام اور گزشتہ۱۲؍ برسوں میں روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔‘‘ وایناڈ سے لوک سبھا کی رکن نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکومت کی مسلسل پالیسیوں نے زراعت اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزس جیسے شعبوں کو کمزور کیا ہے، جو روزگار فراہم کرنے کے بڑے ذرائع ہیں۔