Updated: July 03, 2026, 11:07 AM IST
|
Agency
| Mumbai
ہندی فلموںمیں یوں تو اپنی بااثر اداکاری سے کئی فلمی ستاروں نے شائقین کے دلوں پر راج کیا، لیکن ایک ایسابھی ستارہ تھا جس نے نہ صرف سامعین کے دل پر راج کیا بلکہ فلم انڈسٹری نے بھی انہیں ’راجکمار‘کا درجہ دیا اور وہ تھے مکالمات کے شہنشاہ کل بھوش پنڈت عرف راج کمار ۔
راج کمار۔ تصویر:آئی این این
ہندی فلموںمیں یوں تو اپنی بااثر اداکاری سے کئی فلمی ستاروں نے شائقین کے دلوں پر راج کیا، لیکن ایک ایسابھی ستارہ تھا جس نے نہ صرف سامعین کے دل پر راج کیا بلکہ فلم انڈسٹری نے بھی انہیں ’راجکمار‘کا درجہ دیا اور وہ تھے مکالمات کے شہنشاہ کل بھوش پنڈت عرف راج کمار ۔راج کمارموجودہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ۸؍اکتوبر ۱۹۲۶ءکوپیدا ہوئے۔ بی اے کی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد،ماہم پولیس اسٹیشن میں سب انسپکٹرکےطور پر کام کرنے لگے۔ ایک رات گشت کے دوران ایک سپاہی نےراجکمار سے کہا ، حضور آپ رنگ، ڈھنگ اور قد کے لحاظ سے کسی ہیرو سے کم نہیں ہیں۔ فلموں میں اگر آپ ہیر بن جائیں تو لاکھوں دلوں پر راج کرسکتے ہیں۔ سپاہی کی یہ بات راجکمار کے دل میںاترگئی۔ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن میں فلم ساز بلدیو دوبےکچھ ضروری کام کے لئے آئے تھے ۔ وہ راجکمار کےبات کرنے کے انداز سے بے حد متاثر ہوئے اور انہوںنےراجکمار سے اپنی فلم شاہی بازار میں اداکار کےطور پر کام کرنے کی پیشکش کی۔ راج کمار سپاہی کی بات سن کر پہلے ہی اداکاربننےکا فیصلہ کرچکے تھے ۔ اس لئےانہوں نے فوراً ہی اپنی سب انسپکٹر کی نوکری سے استعفیٰ دےدیا اور ان کی پیشکش قبول کر لی۔ شاہی بازار بننےمیں کافی وقت لگا اور راج کمارکو گزر بسر کرنامشکل ہو گیا،اس لئے انہوں نے ۱۹۵۲ءمیںآئی فلم رنگیلی میں ایک چھوٹا سا کردار قبول کر لیا۔ یہ فلم سنیماگھروں میں کب آئی اورکب گئی پتہ ہی نہیں چلا۔ اس درمیان ان کی فلم شاہی بازار بھی ریلیز ہوگئی، جو باکس آفس پر فلاپ ثابت ہوئی۔
۱۹۵۲ءسے ۱۹۵۷ءتک راج کمار فلم انڈسٹری میں جگہ بنانے کیلئےمسلسل جدوجہد کرتے رہے ۔ رنگیلی کےبعد انہیں جو بھی کردار ملا،وہ اسے قبول کرتے گئے ۔ اس دوران انہیں انمول سہرا، ا وسر ،گھمنڈ، نیل منی اور کرشن سداما جیسی کئی فلموں میں اداکاری کرنے کا موقع ملا۔لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوپائی۔ ۱۹۵۷ء میں آئی محبوب خان کی فلم مدر انڈیامیںراج کمار گاؤں کے ایک کسان کے چھوٹے سےکردارمیں نظر آئے ۔ اس فلم میں بااثر اداکاری کیلئےانہیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی اور فلم کی کامیابی کے بعد وہ اداکار کے طور پر فلم انڈسٹری میں شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔۱۹۵۹ءمیںفلم ’پیغام‘ میں ان کے مدمقابل شہنشاہ جذبات دلیپ کمار تھےاس کے باوجودراج کمار ،یہاں بھی اپنی مضبوط اداکاری کے ذریعے ناظرین کی دادو تحسین حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔ اس کے بعد دل اپنا اور پریت پرائی، گھرانہ، گودان، دل ایک مندر اور دوج کا چاند جیسی فلموں میں ملی کامیابی کے ذریعے وہ ناظرین کے درمیان اپنی اداکاری کا سکہ جمانے کے لئے ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں وہ اپنا کردار خود منتخب کر سکتے تھے ۔راج کمار کی سب سے اہم چیز ان کے ڈائیلاگ کی ادائیگی تھی جس کی وجہ سے ان کے کئی ڈائیلاگ بہت مشہور ہوئے ہیں جن میں وقت کے ڈائیلاگ’چنائےسیٹھ، جن کے گھر شیشے کے ہوتےہیں وہ دوسروں پہ پتھر نہیں پھینکا کرتے…یا چنائے سیٹھ، یہ چاقوہے بچوں کے کھیلنے کی چیز نہیں، ہاتھ کٹ جائے تو خون نکل آتا ہے … یا پاکیزہ کا ڈائیلاگ’ ’آپ کے پاؤں دیکھے بہت حسین ہیں انہیں زمین پر مت رکھئے گا میلے ہو جائیں گے ۔‘ بہت مقبول تھے۔ تقریباً ۴؍دہائی تک سنجیدہ اداکاری سےناظرین کےدلوںپرحکومت کرنے والے اداکار راجکمار ۳؍ جولائی ۱۹۹۶ءکو اس دنیا کو الوداع کہہ گئے ۔