Inquilab Logo Happiest Places to Work

رماکانت دیسائی چھوٹے قد لیکن بلند حوصلے کے کرکٹ کھلاڑی

Updated: June 20, 2025, 11:58 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

تاریخ میں ایسےافراد بھی موجود ہیں جو بظاہر بہت شور نہیں مچاتے، مگر ان کے کام کی گونج برسوں تک سنائی دیتی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ میں ایسا ہی ایک نام ہےرماکانت دیسائی۔

Cricketer Ramakant Desai, who created magic with his bowling. Photo: INN
بالنگ سے جادو جگانے والے کرکٹررماکانت دیسائی۔ تصویر: آئی این این

تاریخ میں ایسےافراد بھی موجود ہیں جو بظاہر بہت شور نہیں مچاتے، مگر ان کے کام کی گونج برسوں تک سنائی دیتی ہے۔ ہندوستانی کرکٹ میں ایسا ہی ایک نام ہےرماکانت دیسائی۔ محض ۵؍فٹ ۴؍ انچ کےقد کے باوجود انہوں نے اپنی رفتار، جذبے اور عزم سے دنیا کے بڑے بلے بازوں کو پریشان کیا۔ وہ اس دور میں ہندوستان کے تیزگیندبازوں کی پہچان بنے، جب اسپن بالنگ کا دور چل رہا تھا۔ 
 رماکانت بھیکاجی دیسائی کی پیدائش ۲۰؍جون ۱۹۳۹ء کو ممبئی میں ہوئی۔ متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے دیسائی بچپن ہی سے کرکٹ کےدیوانے تھے۔ ان کی غیر معمولی گیندبازی کی صلاحیت نےجلد ہی ممبئی کی مقامی کرکٹ میں انہیں ممتاز کر دیا۔ وہ دائیں ہاتھ کے فاسٹ میڈیم بالرتھے، اور اس وقت جب ہندوستان کے زیادہ تر گیندباز اسپن پر انحصار کرتے تھے، دیسائی کی رفتار نے ایک الگ شناخت بنائی۔ رماکانت دیسائی نے اپنے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز ۱۹۵۹ءمیں انگلینڈ کے خلاف کیا۔ وہ ہندوستان کے اُن چند ابتدائی تیزگیندبازوں میں شامل تھے جنہیں باقاعدگی سے ٹیم میں موقع ملا۔ 
 انہوں نے ۱۹۵۹ءسےلےکر ۱۹۶۸ءتک ۲۸؍ٹیسٹ میچ کھیلے، جن میں انہوں نے ۷۴؍وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا اوسط ۳۷ء۳۱؍ رہا، جو آج کے لحاظ سےبلند سمجھا جاتا ہے، لیکن اُس وقت کے بلے بازی کے حاوی دور میں یہ اعداد و شمار خاصے معقول تھے۔ 
 رماکانت دیسائی کی سب سے بڑی خوبی ان کی رفتار اور درستگی تھی۔ ان کا قد چھوٹا ضرور تھا، لیکن وہ بہت ہی مضبوط جسمانی ساخت کےمالک تھے، اسی لیے انہیں پیار سے’پاکٹ سائز ڈائنامائٹ‘کہا جاتا تھا۔ ان کے اسپیلز میں شدت، جارحیت اور ایک خاص قسم کی مسلسل مزاحمت ہوتی تھی۔ جب وہ گیند باز تھے تو لگتا تھا جیسے وہ بلے باز کے خلاف جنگ لڑ رہے ہوں۔ ان کی گیند اکثر بلے باز کی پسلیوں پر پڑتی تھی، اور کئی مرتبہ بلے باز کو جھکنا پڑتا تھا۔ ان کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ گیند کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار بیٹ سے بھی کام کر جاتے تھے، اور نچلے آرڈر میں آ کر کئی بار قیمتی رنز جوڑتے تھے۔ 
 رماکانت دیسائی نےممبئی کی رنجی ٹیم کے لیے بھی کئی سال تک خدمات انجام دیں۔ انہوں نےرنجی ٹرافی میں بمبئی کی مسلسل فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے پاس فرسٹ کلاس کرکٹ میں ۱۵۰؍ میچز میں ۴۶۸؍ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز ہے۔ 
 ۱۹۶۸ءمیں انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ سے سبکدوشی اختیار کی۔ لیکن اس کے بعد بھی ان کا رشتہ کرکٹ سے ٹوٹا نہیں۔ وہ بی سی سی آئی کےسلیکٹربنے اور بعد میں چیف سلیکٹرکے طور پر بھی کام کیا۔ ان کی رائے اور سوجھ بوجھ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 
 رماکانت دیسائی ایک دیانتدار اور اصول پسند شخصیت تھے۔ ان کی زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب وہ سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔ ۱۹۹۸ءمیں، جب وہ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین تھے، تب انہوں نےخودکشی کر لی۔ ان کے اس فیصلے نے پورے کرکٹ حلقے کو دہلا دیا۔ آج بھی ان کی یاد میں لوگ افسوس کے ساتھ ان کے غیرمعمولی خدمات کو یاد کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK