امریکہ میں نوجوانوں کا ایک گروپ اب بھی کرونا دور کی تنہائی میں گزارا کررہا ہے،اور وہ روز مرہ زندگی میں کسی سے بھی نہیں ملتے۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 12:19 PM IST | Washington
امریکہ میں نوجوانوں کا ایک گروپ اب بھی کرونا دور کی تنہائی میں گزارا کررہا ہے،اور وہ روز مرہ زندگی میں کسی سے بھی نہیں ملتے۔
کرونا وبا نے دنیا بھر کے لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کر دیا، جس کی وجہ سے نوجوانوں کے ایک گروپ نے دوسرے لوگوں سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی۔ فنانشل ٹائمز کی ایک تحقیق کے مطابق، جن زی کی تقریباً۱۰؍ فیصد آبادی اپنی روزمرہ زندگی میں کسی دوسرے انسان کے ساتھ بالکل بھی تعامل نہیں رکھتی۔ امریکن ٹائم یوز سروے کے مطابق، ۲۳؍ سے ۲۹؍ سال کی عمر کے اس گروپ کے افرادکرونا کے باعث پیدا ہونے والی تنہائی کے اثرات سے کبھی باہر نہیں نکل سکے۔لاک ڈاؤن سے قبل،۲۰۱۹ء میں، صرف۳؍ فیصد نوجوان بالغوں کا دوسروں سے کوئی تعامل نہیں تھا۔ جب ۲۰۲۱ء کے آخر میں کرونا پابندیوں میں نرمی کی گئی، تو یہ تعداد۹؍ فیصد تک جا پہنچی۔ جبکہ ۲۰۲۳ء میں یہ۱۰؍ فیصد تک پہنچ گئی،تاہم۲۰۲۴ء اور۲۰۲۵ء میں معمولی کمی آئی۔
زیادہ تر نوجوان اپنے گھروں سے باہر نکلے اور اس عمر کے ساتھ آنے والی مصروفیات اور جوش و خروش میں شامل ہو گئے۔ تاہم، ایک چھوٹا سا گروہ کرونادور میں ہی پھنسا رہا۔تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ انہوں نے یہ خود نہیں چنا، بلکہ اس کے عادی ہو گئے۔ ڈاکٹر منیا بھٹاچاریہ، سینئر کنسلٹنٹ سائیکالوجسٹ، مارینگو ایشیا اسپتال، گروگرام، نےمیڈیا کو بتایا، ’’میں یہ کہنے میں تھوڑا محتاط رہوں گا کہ جن زی نے لوگوں سے دور رہنے کاانتخاب کیا ہے۔ انسانی رویہ شاذ و نادر ہی اتنا سادہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ہم شعوری طور پر تنہائی کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ آہستہ آہستہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ کرونا اس عمل میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔‘‘
اس سے پہلے کہ کرونا لوگوں کو آمنے سامنے تعلقات محدود کرنے پر مجبور کرے، جو نوجوان بالغ سماجی طور پر انتہائی سرگرم تھے، وہ اپنے دن کا۸۷؍ فیصد حصہ دوسرے لوگوں کے ساتھ گزارتے تھے۔ وبا کے دوران یہ تعداد۷۸؍ فیصد رہ گئی، جو۲۰۲۵ء میں بحال ہو کر۸۳؍ فیصد ہو گئی۔ دوسری طرف، جن لوگوں نے پہلے اپنے دن کا صرف ایک تہائی حصہ دوسروں کے ساتھ گزارا تھا، ان کا فیصد صفر پر آ گیا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بھٹاچاریہ کہتی ہیں کہ اگرچہ وبا کے دوران دوستوں سے ملنا، کالج جانا، پارٹیوں میں شرکت کرنا، سفر کرنا، ساتھ بیٹھنا، اور یہاں تک کہ روزمرہ کی بے معنی گفتگو کرنا مشکل یا ناممکن ہو گیا تھا، لیکن سب نے دریافت کر لیا کہ تقریباً ہر کام گھر سے کیا جا سکتا ہے۔ اس سہولت کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔آن لائن دوستوں سے ملنے کا مطلب ہے شرمناک خاموشی یا کسی کے غیر متوقع ردعمل کی عدم موجودگی۔اور جتنا ہم کسی چیز سے بچتے ہیں، بعض اوقات اس کی طرف واپس آنا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان کی تقریباً ۶۲؍ فیصد آبادی کے پاس ۲۰۳۰ء تک ۵؍جی کنکشن ہوگا
بعد ازاں بھٹاچاریہ کا کہنا ہے کہ شاید کروناہی اس تنہائی کا واحد ذمہ دار نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے، ’’سوشل میڈیا، تعلیمی دباؤ، کیریئر کی غیر یقینی صورتحال، فیصلے کا خوف، اور نوجوانوں کو آن لائن مسلسل موازنہ کا سامنا، یہ سب پہلے ہی ان کے ایک دوسرے سے تعلق کے انداز کو بدل رہے تھے۔‘‘اس تعلق سے انہوں نے کچھ تدابیر بھی بتائیں،جن کے ذریعے اس قسم کے برتاؤ کا تدارک کیا جاسکے،انہوں نے کہا، ’’ سب سے پہلے، ان پر لوگوں سے ملنے کے لیے دباؤ ڈالنے یا تنہائی چاہنے پر انہیں مجرم محسوس کرانے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں انہیں عام انسانی رابطے کا سکون دوبارہ دریافت کرنے میں مدد دینی ہوگی، آپ کے ساتھ بیٹھا دوست، ایک بے ساختہ گفتگو، ایک ساتھ کھانا کھانا، بغیر اسکرین کے ہنسنا۔‘‘