Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران تنازع: ۱۰۲؍ ویں دن بعد چینی اسکول لوٹنے والے ۸؍ سالہ بچے کا جذباتی استقبال

Updated: May 02, 2026, 3:57 PM IST | Beijing

ایرانی نژاد ۸؍ سالہ طالب علم رادین ۱۰۲؍ دن کی غیر حاضری کے بعد چین کے صوبہ ژیجیانگ کے شہر شاؤزنگ میں اپنے پرائمری اسکول لوٹا۔ اس دوران ایران میں جاری کشیدگی کے باعث اس کا ۴۲؍ دن تک اپنے اسکول سے مکمل رابطہ منقطع رہا۔ رادین اور اس کے خاندان کو سفری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے اس کی واپسی میں تاخیر ہوئی۔ اسکول پہنچنے پر اس کے اساتذہ اور ہم جماعتوں نے اس کا پرتپاک اور جذباتی استقبال کیا، جس کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

—چین کے شہر شاؤزنگ میں ایک جذباتی منظر اس وقت دیکھا گیا جب ۸؍ سالہ ایرانی طالب علم رادین تقریباً تین ماہ بعد اپنے اسکول لوٹا۔ ۱۰۲؍ دن کی غیر حاضری کے بعد ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو اس کی واپسی نہ صرف اس کے خاندان بلکہ اساتذہ اور ہم جماعتوں کے لیے بھی ایک یادگار لمحہ بن گئی۔ رادین کی طویل غیر حاضری کی بنیادی وجہ ایران میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفری مشکلات تھیں۔ ذرائع کے مطابق، رادین اپنے خاندان کے ساتھ ذاتی وجوہات کی بنا پر ایران گیا تھا، لیکن حالات کی خرابی کے باعث واپسی کا عمل پیچیدہ ہو گیا۔ اس دوران تقریباً ۴۲؍ دن تک اس کا اپنے اسکول اور دوستوں سے مکمل رابطہ بھی منقطع رہا، جس نے اس کے تعلیمی تسلسل اور ذہنی حالت دونوں پر اثر ڈالا۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق، رادین ایک باقاعدہ اور ذہین طالب علم ہے، جس کی غیر موجودگی نے کلاس میں ایک واضح خلا پیدا کر دیا تھا۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس عرصے کے دوران اس کے ساتھ آن لائن رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی، تاہم حالات ایسے تھے کہ یہ ممکن نہ ہو سکا۔ جب رادین آخرکار واپس اپنے اسکول پہنچا تو اس کے استقبال کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا۔ کلاس روم کو سجایا گیا، اس کے ہم جماعتوں نے خوش آمدیدی پیغامات تیار کیے، اور اساتذہ نے اس لمحے کو ایک چھوٹی تقریب کی شکل دی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیسے ہی رادین کلاس میں داخل ہوتا ہے، بچے تالیاں بجاتے ہیں اور کچھ اس کے گلے لگ جاتے ہیں، جس سے ایک انتہائی جذباتی منظر پیدا ہوتا ہے۔
اس موقع پر ایک استاد نے کہا کہ’’ہمیں بہت خوشی ہے کہ رادین بحفاظت واپس آ گیا ہے۔ یہ صرف ایک طالب علم کی واپسی نہیں بلکہ امید اور استحکام کی علامت ہے۔‘‘ رادین کے خاندان کو ایران سے واپسی کے دوران مختلف لاجسٹک اور سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں پروازوں کی محدود دستیابی اور علاقائی کشیدگی شامل تھیں۔ اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن یہ واضح ہے کہ موجودہ جغرافیائی حالات نے عام شہریوں، خاص طور پر بچوں کی تعلیم کو متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سنگا پور: آبنائے ہرمز کھلنے پر بھی عالمی بحران جاری رہے گا: وزیراعظم کی تنبیہ

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات بچوں کی ذہنی صحت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ طویل عرصے تک اپنے تعلیمی ماحول اور سماجی دائرے سے دور رہیں۔ تاہم، رادین کے معاملے میں اس کے اسکول کی جانب سے کیے گئے مثبت استقبال نے اس کی بحالی کے عمل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی تنازعات صرف سیاسی یا معاشی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام لوگوں، خاص طور پر بچوں کی روزمرہ زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔
رادین کی واپسی کے ویڈیوز اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں، جہاں صارفین اس منظر کو انسانیت، دوستی اور تعلیم کی اہمیت کی ایک خوبصورت مثال قرار دے رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK