• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلمان خان جعلی اے آئی ویڈیوز پر برہم، بنانے والوں کو جیل بھیجنے کا مطالبہ

Updated: September 28, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے غلط استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر ایسی جعلی ویڈیوز تیار کرتے ہیں۔

Salman Khan.Photo:INN
سلمان خان۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ذریعے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز اور آوازوں کے غلط استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر ایسی جعلی ویڈیوز تیار کرتے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں جیل بھیجا جانا چاہیے۔ سلمان خان نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز میں نظر آ چکے ہیں۔
سلمان خان نے یہ معاملہ ’’بگ باس ۲۰‘‘ میں وی کینڈ کا وار کے دوران اٹھایا، جہاں وہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور لوگوں کے خلاف قابل اعتراض تبصروں کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ اداکار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اتنی تیزی سے ترقی کر چکی ہے کہ کسی شخص کی آواز کو نقل کرکے یا ویڈیو میں تبدیلی کرکے ایسا مواد تیار کیا جا سکتا ہے جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ متعلقہ شخص نے حقیقت میں کوئی بات کہی یا کوئی کام کیا ہے۔ 
سلمان خان نے کہا کہ کسی کی آواز لے کر اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تبدیل کرنا اور پھر اس کے نام سے کسی کو گالی یا قابل اعتراض بات کہنا غلط ہے۔ ان کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی اب اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ جعلی ویڈیوز اور آوازوں کو حقیقی سمجھنا آسان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد افراد کی اے آئی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں اور  وہ خود بھی ایسی ویڈیوز میں شامل کیے جا چکے ہیں ۔ سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال اگر کسی شخص کی شناخت، آواز یا تصویر کو غلط انداز میں پیش کرنے کے لیے کیا جائے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:ملائیشیا: سابق وزیر اعظم مآثیر محمد کی اہلیہ سیتی حسما کا ۱۰۰؍ سال کی عمر میں انتقال

 سلمان خان نے ان لوگوں کے درمیان فرق کرنے کی بات کی جو کسی جعلی اے آئی ویڈیو کو حقیقت سمجھ کر آگے شیئر کر دیتے ہیں اور ان افراد کے درمیان جو جانتے بوجھتے جعلی مواد تیار کرتے ہیں۔ اداکار کے مطابق اگر کوئی شخص یہ جانے بغیر کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے، اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر دیتا ہے تو معاملہ مختلف ہے، لیکن جو لوگ حقیقت جانتے ہوئے بھی ایسی ویڈیوز بناتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
سلمان نے کہا کہ ایسے لوگوں کو جیل بھیجا جانا چاہیے اور ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک ایسے معاملات میں کچھ لوگوں کو سزا نہیں ملے گی، اس طرح کا عمل رکنے کا امکان کم ہے۔  سلمان خان نے جعلی اے آئی مواد کی روک تھام کے لیے مزید سخت قوانین اور سوشل میڈیا پر مؤثر نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے قانون بنایا جانا چاہیے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کی روک تھام کے لیے مناسب ضابطہ موجود ہونا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے:نیشنل فلم ایوارڈز میں ممّوٹی کے روایتی استقبال پر تنقید

 سلمان خان نے صرف مشہور شخصیات ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مشہور شخصیات کے پاس سائبر سیل سے رابطہ کرکے جعلی ویڈیو بنانے والے شخص کا سراغ لگانے کے نسبتاً زیادہ وسائل موجود ہو سکتے ہیں، لیکن عام افراد کے لیے ایسا کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اس خدشے کی طرف بھی توجہ دلائی کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی مواد کا اثر صرف اس شخص تک محدود نہیں رہتا جس کی ویڈیو بنائی گئی ہو، بلکہ اس کے خاندان اور قریبی لوگوں کو بھی اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  سلمان خان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیپ فیک اے آئی ، جعلی ویڈیوز، آواز کی نقل اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن مواد  کے استعمال پر دنیا بھر میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے اس غلط استعمال کو روکنے کے لیے ذمہ داری اور قانونی جواب دہی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK