Updated: October 10, 2026, 1:32 PM IST
|
Inquilab News Network
| Ranchi
ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی۔۲۰؍میچ میں جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے۴۱؍گیندوں پر ۸۲؍رن بنائے۔
سنجو سیمسن نے جارحانہ بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاف سنچری بنائی۔ تصویر: پی ٹی آئی
ٹیم میں مسلسل جگہ بنائے رکھنے کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور تنقید کے درمیان سنجو سیمسن نے رانچی کے جے ایس سی اے اسٹیڈیم میں دوسرے ٹی۔۲۰؍ میچ میں اپنی بلے بازی کا لوہا منوایا جس کی بدولت ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی ۔۲۰؍ میچ میں ۵؍ وکٹ پر ۲۴۹؍ رنوں کا اسکور کھڑا کیا۔ مسلسل اچھا پرفارم نہ کرنے کی وجہ سے ان پر ٹیم سے باہر ہونے کی تلوار لٹک رہی تھی لیکن اس میچ میں سنجو نے ۴۱؍ گیندوں پر ۸۲ ؍رنوں کی جارحانہ اننگز کھیل کر نہ صرف اپنا کھویا ہوا اعتماد حاصل کیا بلکہ ٹیم انتظام اور کوچ کو بھی بڑی راحت دی۔
ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف پانچویں بار ۲۰۰؍ سے زیادہ رنوں کا اسکور کھڑا کیا۔ میچ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان نے ٹاس جیت کر ہندوستان کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی۔ ہندوستانی اننگز کے آغاز میں ابھیشک شرما نے جارحانہ رخ اپناتے ہوئے تیز شروعات کی مگر وہ ۲۰؍ رن کے ذاتی اسکور پر روسٹن چینز کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد دوسرے افتتاحی بلے باز سنجو سیمسن کو محض ۶؍ رن کے انفرادی اسکور پر زندگی ملی۔ سنجو نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے گیند بازوں کی جم کر کلاس لی۔ سنجو نے محض ۲۱؍ گیندوں میں اپنی طوفانی نصف سنچری مکمل کی۔
طویل وقفے اور کئی اننگز کے مایوس کن پرفارمنس کے بعد یہ ہاف سنچری ان کے کریئر اور ٹیم میں ان کی جگہ کے لحاظ سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ سنجو اور ایشان کشن (۴۳ ؍رن) کے درمیان دوسرے وکٹ کیلئے محض ۴۳؍ گیندوں میں ۹۷ ؍رنوں کی دھماکے دار شراکت ہوئی، جس کی بدولت ہندوستان نے ابتدائی ۸؍ اووروں میں ہی ۱۰۰؍ رن کا ہندسہ عبور کر لیا۔ اس خطرناک دکھ رہی جوڑی کو روسٹن چینز نے ایشان کو بولڈ کر کے توڑا۔
سنجو سیمسن کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان شریاس ایر اور تلک ورما نے رنوں کی رفتار کو رکنے نہیں دیا۔ کپتان شریاس ایر نے ایک بار پھر ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ۱۸؍ گیندوں میں ۴۰؍ رنوں کی تیز رفتار اننگز کھیلی۔ وہیں نوجوان بلے باز تلک ورما نے آخری اووروں میں جارحانہ تیور دکھائے۔ تلک ورما نے میچ کے آخری اوور میں روماریو شیفرڈ کی گیندوں پر لگاتار ۳؍ چھکے لگاتے ہوئے ۴۴ ؍رن بنائے اور ناٹ آؤٹ لوٹے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے اسپنر روسٹن چینز سب سے کامیاب گیند باز رہے، جنہوں نے ۴؍ اووروں میں ۲۴؍ رن دے کر ۳؍ وکٹ حاصل کئے۔ وہیں ۲؍ وکٹ لینے والے اسپرنگر کافی مہنگے ثابت ہوئے اور انہوں نے ۶۴؍ رن دئیے، جو کسی ویسٹ انڈیز کے گیند باز کا تیسرا سب سے خراب پرفارمنس رہا۔