Updated: February 26, 2026, 11:00 AM IST
| New Delhi
سپریم کورٹ کے جج جسٹس اُجّل بھویان نے آئینی اخلاقیات اور سماجی حقیقت کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذہبی اور ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کی حالیہ مثالیں پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے۷۵؍ سال بعد بھی معاشرہ آئینی اقدار کے مقررہ معیار سے کافی دور دکھائی دیتا ہے۔
جسٹس اُجّل بھویان تقریر کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
جسٹس اُجّل بھویان، جج سپریم کورٹ آف انڈیا، نے حال ہی میں مشاہدہ کیا کہ آئینی عدالتوں کی جانب سے مسلسل ’’آئینی اخلاقیات‘‘ پر زور دینے کے باوجود، آزادی کے۷۵؍ سال بعد بھی ہندوستانی معاشرہ گہری سماجی خلیجوں میں منقسم ہے۔ انہوں نے مثال کے طور پر ایک مسلم خاتون کو رہائش سے انکار اور اڈیشہ میں ایک دلت خاتون کی بطور باورچی تقرری کے بعد آنگن واڑی کے بائیکاٹ کا ذکر کیا۔ تلنگانہ ججز اسوسی ایشن اور تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ’’آئینی اخلاقیات اور ضلعی عدلیہ کا کردار‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے آئینی نظریات اور سماجی حقیقتوں کے درمیان موجود فاصلے پر روشنی ڈالی اور اپنی گفتگو کو ذاتی و معاشرتی مثالوں سے واضح کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلورو:عظیم پریم جی یونیورسٹی میں تخریب کاری، ۱۸؍ اے بی وی پی کارکن گرفتار
مذہبی امتیاز کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی ایک دوست، جو نوئیڈا کی ایک نجی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہے کو جنوبی دہلی میں اس وقت رہائش دینے سے انکار کر دیا گیا جب اس کی مسلم شناخت ظاہر ہوئی۔ انہوں نے کہا:’’مکان مالکن نے اس سے نام پوچھا، پھر سر نیم۔ جب اس کے مسلم ہونے کا پتا چلا تو اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ رہائش دستیاب نہیں ہے اور وہ کسی اور جگہ تلاش کرے۔ ‘‘جسٹس بھویان نے وضاحت کی کہ آئینی اخلاقیات وہ معیار ہے جو دستور نے تمام شہریوں کیلئے مقرر کیا ہے، مگر خاندانوں اور برادریوں میں رائج اخلاقی رویے اکثر ان آئینی اقدار سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اس تضاد کو مزید واضح کرتے ہوئے انہوں نے اڈیشہ کے مڈ ڈے میل اسکیم کی مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے دیہی علاقوں میں اسکول حاضری میں نمایاں اضافہ کیا ہے، مگر جب دلت خواتین کو کھانا پکانےکیلئے مقرر کیا گیا تو بعض والدین نے شدید اعتراض کیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی: روح افزا فروٹ ڈرنک ہے، صرف ۴؍ فیصد ویٹ: سپریم کورٹ
انہوں نے کہا:’’کچھ والدین کی جانب سے شور مچایا گیاکہ ان کے بچے دلت خواتین کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نہیں کھائیں گے۔ ‘‘
انہوں نے ایسے واقعات کو ’’گہرے ساختی تعصب کی علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مثالیں محض ’’برفانی تودے کی نوک‘‘ ہیں، جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ معاشرتی خلیجیں کتنی گہری ہیں۔ انہوں نے کہا:’’درحقیقت یہ ہمارے لئے آئینہ ہے، جو دکھاتا ہے کہ جمہوریہ کے۷۵؍ سال بعد بھی ہم آئینی اخلاقیات کے معیار سے کتنے دور ہیں۔ ‘‘ آئینی اخلاقیات کے عدالتی ارتقا کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے اہم فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں سب سے پہلےناز فاؤنڈیشن بمقابلہ یونین آف انڈیا شامل ہے، جہاں دہلی ہائی کورٹ نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ۳۷۷؍کو محدود انداز میں برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا تھا کہ عوامی اخلاقیات، آئین کے آرٹیکل۲۱؍ کے تحت بنیادی حقوق پر غالب نہیں آسکتیں۔ بعد ازاں یہ فیصلہ سریش کمار کوشل بمقابلہ ناز فاؤنڈیشن میں منسوخ کر دیا گیا، مگر آئینی بنچ نے نوتیج سنگھ جوہر بمقابلہ یونین آف انڈیا میں اس کی روح کو بحال کرتے ہوئے آئینی اخلاقیات کو تغییری آئینیت (Transformative Constitutionalism) کا رہنما اصول قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مودی کنیسٹ میں غزہ نسل کشی پر بات کریں: پرینکا گاندھی
ضلعی عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے کہا کہ بیشتر سائلین کیلئے ضلعی عدالتیں ہی انصاف سے پہلا اور سب سے اہم رابطہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے شواہد کے محتاط اندراج، ضمانت کی درخواستوں پر باریک بینی سے غور اور ٹرائل ججز کے ادارہ جاتی احترام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا:’’اپیلی عدالتیں اسی حقائق کی بنیاد پر قانون کو واضح اور نکھارتی ہیں جو ٹرائل عدالتیں فراہم کرتی ہیں۔ ‘‘انہوں نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کے کئی ممتاز ججز، جن میں ایچ آر کھنہ، اے ایم احمدی اور فاطمہ بیوی شامل ہیں، نے اپنے کریئر کا آغاز ضلعی عدلیہ سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹس کو نگران نہیں بلکہ سرپرست (Mentor) کا کردار ادا کرنا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی سمٹ احتجاج : انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اُدے بھانو چب گرفتار
انہوں نے مزید کہا:’’آرٹیکل۲۲۷؍ کے تحت ہائی کورٹ کا نگران اختیار ایک ڈھال ہے، تلوار نہیں۔ اس کا مقصد صرف سنگین دائرہ اختیار کی غلطیوں کی اصلاح ہے، نہ کہ ٹرائل جج کے صوابدیدی فیصلے کی جگہ لینا۔ ‘‘عدلیہ میں تنوع کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے تلنگانہ کی تعریف کی کہ وہاں عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی نمایاں ہے۔ ۶۵۵؍ منظور شدہ اسامیوں میں سے۴۷۸؍ جج خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں ۲۸۳؍ خواتین شامل ہیں، جو۵۰؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے۷۶، درج فہرست قبائل( ایس ٹی) سے۴۶؍ اور اقلیتی برادریوں سے۲۵؍ افسران شامل ہیں۔ مزید برآں، سپریم کورٹ کے فیصلے ’عدالتی خدمات میں بصارت سے محروم افراد کی بھرتی‘ کے بعد پانچ معذور عدالتی افسران بھی نظام کا حصہ بنے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس نے مودی کے دورۂ اسرائیل پر سوال اٹھایا
انہوں نے کہا کہ رسائی کی کمی، زبان کی رکاوٹیں اور قانونی لاعلمی لوگوں کو عدلیہ سے جوڑنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’زیادہ تر لوگ خود کو نظامِ انصاف کا حصہ نہیں سمجھتے، اس لئے وہ عدلیہ سے وابستگی محسوس نہیں کرتے۔ ‘‘انہوں نے دلیل دی کہ خواتین، محروم طبقات، معذور افراد اور جنسی اقلیتوں کی بڑھتی نمائندگی عدلیہ کو زیادہ جامع اور قابلِ رسائی بنا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا:’’عدلیہ کو ایک جامع ادارہ ہونا چا ہئے۔ اس میں قوسِ قزح کے تمام رنگ ہونے چاہئیں، اور یوں یہ ایک قوسِ قزح جیسا ادارہ بن جائے۔ اسے کسی ایک صنف یا مخصوص غالب طبقات کا قلعہ نہیں رہنا چاہئے۔ ‘‘ابتدائی عدالتی تقرری کیلئے کم از کم تین سال وکالت کے تجربے کی بحالی پر بات کرتے ہوئے جسٹس بھویان نے کہا کہ اگرچہ یہ شرط عملی تجربہ فراہم کر سکتی ہے، مگر اس کے طویل مدتی اثرات، خصوصاً خواتین امیدواروں پر، ابھی واضح نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جلگاؤں میں ہجومی تشدد کا شکار ہونےوالا نوجوان ممبئی میں دم توڑ گیا
انہوں نے کہا کہ وکالت کے ابتدائی سال مالی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں، خاص طور پر دیہی یا قصباتی پس منظر رکھنے والے یا پیشہ ورانہ روابط سے محروم امیدواروں کیلئے۔ یہ چیلنج خواتین کیلئے زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں، جو اکثر شادی اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق سماجی دباؤ کا سامنا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا:’’تین سالہ تجربے کی شرط خواتین امیدواروں پر کیا اثر ڈالے گی، ہمیں اس کا بغور مشاہدہ کرنا ہوگا۔ آیا یہ عدالتی خدمات میں خواتین کی نمایاں اور خوش آئند شمولیت کو متاثر کرے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔ ‘‘جسٹس بھویان کے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمان جان بریتاس نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے جج کو یہ کہنا پڑ رہا ہے تو عام لوگوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں فلم ’’دی کیرالا اسٹوری‘‘ بنانے والوں کو اس موضوع پر بھی فلم بنانے کا مشورہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: راجستھان حکومت نے مسلم قیدیوں کو سحری اور افطار کی براہِ راست فراہمی پر پابندی عائد کر دی
کارکن تیستا سیتالواد نے جسٹس بھویان کے بیان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں سپریم کورٹ کے جج کی جانب سے ایسی بات امید کی ایک کرن فراہم کرتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو کرایہ یا خریداری کیلئے مکان دینے سے انکار کا رجحان وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے، جو گہرے اسلاموفوبیا کی عکاسی کرتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، لکھنؤ، کانپور اور وڈودرا جیسے بڑے شہروں میں مالکانِ مکان، ہاؤسنگ سوسائٹیز اور بروکرز کی جانب سے مذہبی شناخت کی بنیاد پر رہائش سے انکار کی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح سرکاری فلاحی اسکیموں، خاص طور پر مڈ ڈے میل پروگرام اور آنگن واڑی میں دلت باورچیوں کی تقرری پر کئی ریاستوں میں احتجاج، بائیکاٹ اور بعض اعلیٰ ذات کے والدین کی جانب سے کھانا نہ کھانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ اڈیشہ، کرناٹک، تمل ناڈو، اتراکھنڈ اور اتر پردیش سمیت مختلف ریاستوں میں اس طرح کے واقعات دستاویزی صورت میں موجود ہیں، حالانکہ آئین میں چھواچھوت کی ممانعت، ایس سی/ایس ٹی (انسدادِ مظالم) ایکٹ اور عدالتی ہدایات کے ذریعے محروم طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔