ہندوستان کے سابق جارح مزاج اوپنر وریندر سہواگ نے نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کی بے خوف بلے بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس نوجوان کھلاڑی کے انداز اور سوچ میں اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: October 11, 2026, 7:05 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے سابق جارح مزاج اوپنر وریندر سہواگ نے نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کی بے خوف بلے بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس نوجوان کھلاڑی کے انداز اور سوچ میں اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
ہندوستان کے سابق جارح مزاج اوپنر وریندر سہواگ نے نوجوان بلے باز ویبھو سوریہ ونشی کی بے خوف بلے بازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس نوجوان کھلاڑی کے انداز اور سوچ میں اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ سہواگ کے مطابق، ویبھو کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اننگز کی پہلی ہی گیند سے گیند بازوں پر حملہ کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ سہواگ خود بھی اپنے کرکٹ کریئر کے دوران جارحانہ بلے بازی، تیز رفتار رنز اور حریف گیند بازوں پر ابتدا ہی سے دباؤ ڈالنے کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ویبھو کی یہی سوچ انہیں دوسرے نوجوان کھلاڑیوں سے نمایاں کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نصیرالدین شاہ سلمان رشدی کی قاتلانہ حملے سے متعلق یادداشت کو اسٹیج پر پیش کریں گے
دہلی میں پی ایچ ڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سالانہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سہواگ نے کہا کہ ویبھو سوریہ ونشی اس وقت اپنی صلاحیتوں کے عروج پر ہیں اور اب اہم بات یہ ہے کہ انہیں ہندوستانی ٹیم کی جانب سے کھیلنے کے کتنے مواقع ملتے ہیں اور وہ کتنے میچوں میں اپنی کارکردگی دکھا پاتے ہیں۔ سہواگ کے مطابق، ویبھو کو طویل عرصے تک ہندوستانی کرکٹ کی خدمت کرنے کے لیے مسلسل مواقع ملنا ضروری ہے۔
سہواگ نے کھلاڑیوں کے انتخاب میں عمر کے بجائے کارکردگی کو اہمیت دینے کی وکالت کی۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر کھلاڑیوں کے لیے عمر کی حد عمر کے مخصوص مقابلوں، مثلاً انڈر۱۹؍ کرکٹ، میں اہم ہوتی ہے، لیکن جب کوئی کھلاڑی آئی پی ایل یا ہندوستانی قومی ٹیم کے لیے کھیلتا ہے تو اس کی عمر کے بجائے میدان پر دکھائی جانے والی کارکردگی دیکھی جانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:ارجنٹائنا کی ٹیم کو الوداع کہنے کے بعد پہلے ہی میچ میں میسی کے انٹر میامی کیلئے ۲؍ گول
انہوں نے تجربہ کار وراٹ کوہلی اور ۱۵؍ سالہ ویبھو سوریہ ونشی کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں مختلف عمروں کے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے بل پر کھیل سکتے ہیں۔ سہواگ کا یہ بیان نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب مواقع دینے اور ان کی کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
ویبھو سوریہ ونشی نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے پہلے ہی خاصی توجہ حاصل کرلی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، وہ آٹھ ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی میچوں میں ۲۴۶؍ رنز بنا چکے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ۳۶ء۱۸۶؍ رہا ہے۔ ان کی بلے بازی میں بڑے شاٹس کھیلنے کی صلاحیت اور ابتدا ہی سے رنز بنانے کی کوشش نمایاں رہی ہے۔ تاہم، ہندوستانی ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے لیے انہیں مزید مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا، کیونکہ اوپننگ کے مقام کے لیے دوسرے کھلاڑی بھی مقابلے میں ہیں۔
سہواگ کی رائے میں ویبھو کے اندر بے خوف کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن نوجوان کھلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز رکھے، اپنے کھیل کو مزید بہتر بنائے اور طویل بین الاقوامی کیریئر کی بنیاد مضبوط کرے۔ سہواگ کی یہ تعریف ویبھو سوریہ ونشی کے لیے حوصلہ افزائی ہے، تاہم ان کی اپنی الگ پہچان بنانے اور مسلسل عمدہ کارکردگی دکھانے کا سفر ابھی جاری ہے۔