دفاعی چیمپئن ہندوستان کے لیے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا سپر ایٹ مرحلہ نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور جمعرات کو زمبابوےکے خلاف مقابلہ عملاً `کرو یا مرو کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ سیمی فائنل کی دوڑ میں باقی رہنے کے لیے ہندوستان کو ہر صورت فتح درکار ہوگی۔
EPAPER
Updated: February 25, 2026, 10:18 PM IST | Chennai
دفاعی چیمپئن ہندوستان کے لیے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا سپر ایٹ مرحلہ نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور جمعرات کو زمبابوےکے خلاف مقابلہ عملاً `کرو یا مرو کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ سیمی فائنل کی دوڑ میں باقی رہنے کے لیے ہندوستان کو ہر صورت فتح درکار ہوگی۔
دفاعی چیمپئن ہندوستان کے لیے ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کا سپر ایٹ مرحلہ نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور جمعرات کو زمبابوےکے خلاف مقابلہ عملاً `کرو یا مرو کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ سیمی فائنل کی دوڑ میں باقی رہنے کے لیے ہندوستان کو ہر صورت فتح درکار ہوگی۔
چنئی کی مرطوب شام میں کھیلے جانے والے اس میچ میں دونوں ٹیمیں اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ایک اور شکست نہ صرف مہم کو دھچکا دے گی بلکہ آخری چار میں رسائی کے خواب بھی چکناچور کر سکتی ہے۔ یہ مقابلہ محض نام یا سابقہ ریکارڈ کا نہیں، بلکہ دباؤ میں اعصاب پر قابو رکھنے کا امتحان ہوگا۔
ہندوستانی بیٹنگ لائن کو ابتدا میں محتاط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ نئی گیند کے سامنے ٹاپ آرڈر کو نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جبکہ مڈل اوورز میں رفتار اور تسلسل برقرار رکھنا کلیدی ثابت ہوگا۔ سوریہ کمار یادو کی جارحانہ بیٹنگ ٹیم کے لیے ٹرننگ پوائنٹ بن سکتی ہے، جب کہ ہاردک پانڈیا سے آخری اوورز میں ذمہ دارانہ فنشنگ کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ: صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ۲۰۲۶ء
گیند بازی میں جسپریت بمراہ کا تجربہ اور درستگی پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں اہم ہوگی، جبکہ ورون چکرورتی اور کلدیپ یادو جیسے اسپنرز چیپاک کی سست وکٹ پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ روایتی طور پر یہ میدان اُن بولرز کو راس آتا ہے جو رفتار کے بجائے لائن و لینتھ اور حکمت عملی پر انحصار کرتے ہیں۔
دوسری جانب زمبابوے نئی شناخت بنانے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ کپتان سکندر رضا بیٹنگ کو استحکام دینے اور مڈل اوورز میں کنٹرول قائم رکھنے کی کوشش کریں گے جبکہ فاسٹ بولر بلیسنگ مزربانی کی نظریں ابتدائی وکٹیں حاصل کرنے پر ہوں گی تاکہ ہندوستانی ٹاپ آرڈر کو دباؤ میں لایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ: صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ۲۰۲۶ء
چیپاک کی پچ ابتدا میں بیٹنگ کے لیے سازگار ہو سکتی ہے، تاہم اسپنرس کے آتے ہی رنز بنانا آسان نہیں رہے گا۔ پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم ۱۸۰؍ سے ۱۹۰؍ رنز کا ہدف مقرر کرنا چاہے گی، جب کہ ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیم کو وکٹ بچا کر سوچ سمجھ کر حملہ کرنا ہوگا۔ ایسے مقابلوں میں مہارت آدھی کہانی ہوتی ہے، باقی آدھی اعصابی مضبوطی۔ چنئی کی اس گھٹن بھری شام میں فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ کون سی ٹیم دباؤ کے عالم میں بھی ہمت نہیں ہارتی۔