• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب ۲۰۲۶ء

Updated: February 25, 2026, 1:56 PM IST | Washington

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے معیشت کی مضبوطی، مہنگائی میں کمی، توانائی کی ریکارڈ پیداوار، سخت امیگریشن پالیسی، ایران کے خلاف واضح مؤقف اور ریٹائرمنٹ سیونگز اسکیم جیسے اقدامات کو اپنی حکومت کی کامیابیاں قرار دیا۔ تاہم خطاب تنازعات سے بھی گھرا رہا۔

Donald Trump.Photo:PTI
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ شب کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنا سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کیا۔ یہ ان کے دوسرے صدارتی دور کا پہلا باضابطہ اسٹیٹ آف دی یونین تھا، جو تقریباً ایک گھنٹہ ۴۸؍ منٹ جاری رہا اور حالیہ تاریخ کے طویل ترین خطابات میں شمار کیا گیا۔ یہ خطاب نہ صرف پالیسی اعلانات کی وجہ سے اہم رہا بلکہ ایوان کے اندر اور باہر ہونے والے احتجاج اور تنازعات کی وجہ سے بھی خبروں کا مرکز رہا۔

خطاب کے اہم نکات (اہم اعلانات اور دعوے)
(۱) معیشت اور روزگار
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی معیشت ’’انتہائی مضبوط‘‘ ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی بلند ترین سطح، سرمایہ کاری میں اضافہ اور بیروزگاری میں کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پانچ سال کی کم ترین سطح پر ہے اور گیس و رہن (Mortgage) کی شرحیں کم ہوئی ہیں۔ان کے مطابق لاکھوں افراد فوڈ اسٹیمپ پروگرام سے نکل کر ملازمتوں میں آئے۔

(۲) ریٹائرمنٹ سیونگز اسکیم
ایک نئی تجویز پیش کی جس کے تحت حکومت کم آمدنی والے کارکنوں کے لیے ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس میں ایک ہزار ڈالر تک میچنگ کنٹری بیوشن دے گی۔ اس اقدام کو انہوں نے ’’ورکنگ کلاس کو بااختیار بنانے‘‘ کی پالیسی قرار دیا۔

(۳) توانائی پالیسی
’’ڈرل بے بی ڈرل‘‘ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ قدرتی گیس کی پیداوار میں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکا ہے۔ بڑے ٹیک اداروں کو ہدایت دینے کا دعویٰ کیا کہ وہ اپنی بجلی پیدا کرنے کے لیے پاور پلانٹس قائم کریں تاکہ قومی گرڈ پر دباؤ کم ہو۔

(۴) ٹیرف اور تجارتی پالیسی
۱۰؍ فیصد نئے درآمدی ٹیرف کا دفاع کیا۔ کہا کہ ان کی تجارتی پالیسیوں سے امریکی صنعت کو فائدہ ہوا ہے۔ سپریم کورٹ اور ڈیموکریٹس پر بعض رکاوٹوں کا الزام بھی عائد کیا۔

(۵) امیگریشن اور بارڈر سیکوریٹی 
غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کا ذکر کیا۔ بارڈر سیکوریٹی کو قومی سلامتی کا بنیادی مسئلہ قرار دیا۔

(۶) ایران اور خارجہ پالیسی
ایران پر الزام لگایا کہ وہ جوہری پروگرام دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کہا کہ امریکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔ سفارت کاری کو ترجیح قرار دیا مگر فوجی تیاری کا عندیہ بھی دیا۔

(۷) ہندوستان پاکستان حوالہ 
ماضی کے ایک کشیدہ دور کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی سفارتی کوششوں نے جنوبی ایشیا میں بڑے نقصان کو روکا۔اس بیان پر مختلف حلقوں میں بحث شروع ہوگئی۔

(۸) صحت اور ادویات
موسٹ فیوڈر نیشن پالیسی کے ذریعے ادویات کی قیمتیں کم کرنے کا دعویٰ کیا۔ سابقہ صحت اصلاحات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں صنعت کو فائدہ پہنچانے والی پالیسیاں قرار دیا۔

(۹) ڈی ای آئی پروگرام کا خاتمہ
اعلان کیا کہ ان کی انتظامیہ نے Diversity, Equity & Inclusion پروگرام ختم کر دیے ہیں۔

جنگی اعزازات اور خصوصی مہمان
امریکی اولمپک ہاکی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔
سروس ممبران اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو اعزازات سے نوازنے کا اعلان کیا۔
نائب صدر جے ڈی وینس کو حکومتی فراڈ کے خلاف مہم کی قیادت سونپنے کا ذکر کیا۔

خطاب کے دوران اور بعد کے تنازعات

(۱) کانگریس مین ال گرین کا احتجاج


ڈیموکریٹ رکن کانگریس ال گرین نے ایک پلے کارڈ اٹھایا جس پر نسل پرستی کے خلاف نعرہ درج تھا۔ انہیں ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔یہ احتجاج اس ویڈیو تنازعے کے تناظر میں تھا جس پر صدر پہلے تنقید کا سامنا کر چکے تھے۔

(۲) رشیدہ طلیب کا پن
کانگریس رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے ’’آئی سی ای‘‘ کی مخالفت والا پن لگایا۔ اس عمل کو ریپبلکن ارکان نے غیر مہذب قرار دیا جبکہ حامیوں نے اسے احتجاجی علامت کہا۔

یہ بھی پڑھئے:رنجی فائنل:شبھم اور یاور کی شاندار بلے بازی

(۳) ڈیموکریٹس کا بائیکاٹ
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے خطاب کا بائیکاٹ کیا اور پیپلز اسٹیٹ آف دی یونین کے نام سے متبادل پروگرام منعقد کیے گئے۔

(۴) حقائق کی جانچ (Fact-Checking)
مختلف میڈیا اداروں اور ماہرین نے ٹرمپ کے بیان کردہ معاشی اعدادوشمار اور دیگر دعوؤں پر سوالات اٹھائے۔ مہنگائی، روزگار اور سماجی پروگراموں سے متعلق بیانات کو بعض حلقوں نے مبالغہ آمیز قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے:غزہ جنگ کے دوران ۳۱۲؍ امام اور مبلغ کا قتل، ۱۰۵۰؍ مساجد مکمل طور پر تباہ

(۵) کھیلوں کی ٹیم کا معاملہ
خواتین کی اولمپک ہاکی ٹیم نے دعوت قبول نہ کی، جس پر سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث ہوئی۔

سیاسی اثرات اور مجموعی تاثر
خطاب نے ریپبلکن حامیوں کو متحرک کیا اور حکومتی پالیسیوں کا دفاع کیا۔
ڈیموکریٹس اور ناقدین نے اسے تقسیم پیدا کرنے والا اور انتخابی مہم جیسا خطاب قرار دیا۔
ایوان کے اندر احتجاج اور نعروں نے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کو نمایاں کیا۔

۲۰۲۶ء کا اسٹیٹ آف دی یونین خطاب صرف پالیسی اعلانات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی کشیدگی، احتجاج اور سخت بیانات کی وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے معیشت، توانائی، امیگریشن اور قومی سلامتی کو اپنی حکومت کی کامیابیاں قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے ان دعوؤں پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے زمینی حقائق سے مختلف قرار دیا۔ یہ خطاب آئندہ وسط مدتی انتخابات اور امریکی سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK