Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیل کے سی ای او کی یورپ کو وارننگ، جلد ایندھن کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

Updated: March 26, 2026, 2:05 PM IST | Moscow

توانائی کے شعبے کی صفِ اول کی کمپنی شیل کے چیف ایگزیکٹیو وائل ساوان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے سبب یورپ کو جلد ہی ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Shell Oil.Photo:INN
شیل آئل۔ تصویر:آئی این این

توانائی کے شعبے کی صفِ اول کی کمپنی شیل کے چیف ایگزیکٹیو وائل ساوان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ کے سبب یورپ کو جلد ہی ایندھن کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
میڈیا رپورٹوں میں ساوان کے حوالے سے کہا گیا، ’’جنوبی ایشیا کو سب سے پہلے اس مار کا سامنا کرنا پڑا۔ اپریل کے آغاز کے ساتھ ہی یہ بحران جنوب مشرقی ایشیا اور شمال مشرقی ایشیا سے ہوتے ہوئے اب یورپ کی  سمت وسعت اختیار کر گیا ہے۔‘‘ساوان نے کہا کہ مغربی ایشیا میں بحران پہلے ہی ہوا بازی کے ایندھن کی سپلائی کو متاثر کر چکا ہے، جس کی قیمت تنازع شروع ہونے کے بعد سے دوگنی ہو گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں کیوں کہ امریکہ اور یورپ میں  موسم گرما شروع ہونے والا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اسرائیل: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کا قانون منظوری کے قریب


امریکہ اور اسرائیل نے ۲۸؍ فروری کو تہران سمیت متعدد ایرانی اہداف پر حملہ کیا، جس سے کافی نقصان ہوا اور ہزاروں شہری ہلاک ہوئے۔اس کے جواب میں  ایران نے انتہائی منظم انداز میں اسرائیل کی سرزمین اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے:’’ڈی ڈی ایل جے‘‘ کا کردار میرے والد سے متاثر تھا: انوپم کھیر کا انکشاف


ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی عملی طور پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے، جو خلیجی ممالک سے عالمی منڈی تک تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کو بھی متاثر کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK