چاندی کی قیمت میں ایسا لگ رہا ہے جیسے آگ لگ گئی ہو۔ صرف گزشتہ ایک مہینے میں چاندی کے دام ایک لاکھ روپے فی کلو تک بڑھ چکے ہیں۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 7:16 PM IST | Mumbai
چاندی کی قیمت میں ایسا لگ رہا ہے جیسے آگ لگ گئی ہو۔ صرف گزشتہ ایک مہینے میں چاندی کے دام ایک لاکھ روپے فی کلو تک بڑھ چکے ہیں۔
پیر۱۹؍ جنوری کو ملٹی کموڈٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر چاندی کا دام پہلی بار۳؍ لاکھ فی کلو کے سطح کو عبور کر گیا۔ یہ چاندی کی نئی بلند ترین قیمت ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی چاندی مضبوطی کے ساتھ تقریباً ۹۳؍ سے ۹۴؍ ڈالر فی اونس کے ارد گرد کاروبار کر رہی ہے۔ قیمتوں میں اس تیزی کا اثر اب ہندوستان میں فزیکل ڈیمانڈ پر صاف دکھائی دینے لگا ہے۔
چاندی کی مارکیٹ سے جڑے ماہرین کے مطابق، زیادہ قیمت کی وجہ سے عام سرمایہ کاروں اور خریداروں کی شمولیت فی الحال محدود ہو گئی ہے۔ `انمول سلور کےسی ای او کشور رونوال کا کہنا ہے کہ موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے چاندی کی قیمت آگے چل کر ۳۰ء۳؍ لاکھ روپے فی کلو تک بھی پہنچ سکتی ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ زیادہ قیمتوں کی وجہ سے ہندوستان میں سرمایہ کاروں کی سرگرمی فی الحال کم ہے۔
رونوال کے مطابق، گھریلو مارکیٹ میں اس وقت فزیکل چاندی ڈسکاؤنٹ پر ٹریڈ ہو رہی ہے، جبکہ امریکہ اور چین جیسے بڑے بازاروں میں چاندی پریمیم پر بیچی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین میں چاندی تقریباً ۱۰؍ہزار روپے کے پریمیم پر بیچی جا رہی ہے، جو عالمی سطح پر مضبوط طلب کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس: ویر داس کی فلم ۵؍ کروڑ روپے کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکی
قیمتوں میں اضافے کا اثر چاندی سے بنے مصنوعات کی طلب پر بھی پڑا ہے۔ رونوال نے کہا کہ سلور آرٹیکلز کی مانگ میں کمی آئی ہے۔ تاہم، زیادہ قیمتوں کے باوجود کل کاروبار (ٹرن اوور) تقریباً پہلے جیسا ہی رہا ہے، لیکن حجم کے لحاظ سے فروخت کم ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سلور جویلری کی طلب سونے کے مقابلے میں بہتر بنی ہوئی ہے۔ جبکہ سرمایہ کاری کے لحاظ سے سلور ای ٹی ایف میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فزیکل خریداری کم ہو رہی ہے، لیکن مالی سرمایہ کاری کے طور پر چاندی میں دلچسپی قائم ہے۔
درآمد کے محاذ پر بھی ایک دلچسپ رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رونوال کے مطابق، زیادہ قیمتوں کے باوجود ہندوستان کی چاندی کی درآمد مضبوط بنی ہوئی ہے اور یہ تقریباً پچھلے سال کے سطح کے قریب ہے۔ اس کے برعکس، سونے کی درآمد کم ہوئی ہے، جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ سرمایہ کاری اور کھپت کے لحاظ سے چاندی فی الحال سونے کے مقابلے میں زیادہ پرکشش بنی ہوئی ہے۔