متعلقہ محکمے نے ۴؍ اسکیموں کو مرحلہ وار واپس لینے اور ۳؍ اسکیموں کو بند کرنےکی کارروائی شروع کر دی۔ سوال کیا جارہا ہے کہ لاڈلی بہن اسکیم کا کیا ہوگا؟
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 11:13 AM IST | Agency | Mumbai
متعلقہ محکمے نے ۴؍ اسکیموں کو مرحلہ وار واپس لینے اور ۳؍ اسکیموں کو بند کرنےکی کارروائی شروع کر دی۔ سوال کیا جارہا ہے کہ لاڈلی بہن اسکیم کا کیا ہوگا؟
مکھیا منتری ماجھی لاڈکی بہن یوجنا پر اس وقت ریاست بھر میں بحث ہو رہی ہے۔ خواتین کو مالی امداد فراہم کرنے کیلئے لاڈلی بہن اسکیم کے ذریعے ہر ماہ۱۵۰۰؍ روپے دیا جاتا ہے لیکن دوسری جانب حکومت نے خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کے محکمے کی۷؍ اہم اسکیموں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخراجات کی کمی، فنڈز کی مانگ کم ہونے اور شہریوں کی جانب سے عدم دلچسپی کی وجہ سے اسکیموں میں کٹوتی کی گئی ہے۔ ان میں سے ۳؍اسکیموں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے اور باقی۴؍ ا سکیمیں مرحلہ وار واپس لی جائیں گی۔
ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے ’ماجھی کنیا بھاگیہ شری‘ جیسی اہم اسکیموں اور مہیلا منڈلوں کو دی جانے والی گرانٹس متاثر ہوئی ہیں۔ ’سام ٹی وی ‘ کی خبر کے مطابق لاڈلی بہن اسکیم اب بھی جاری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ماہ ستمبر کا رقم جلد ہی پیاری بہنوں کے کھاتوں میں جمع ہونے کا امکان ہے لیکن دوسری جانب وومن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی ۷؍ اسکیمیں بند کر دی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایس آئی آر کے تحت مخصوص ناموں کو حذف کرنے والوں پر کارروائی کی جائے‘‘
خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کے محکمے نے کچھ اہم اسکیموں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بعض کی بجٹ ہیڈنگز منسوخ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ کم ہوتے اخراجات کی وجہ سے ملٹی پرپز سوشل سینٹرز فار ویمن اسکیم کو ۱۶؍اکتوبر سے بند کر دیا گیا ہے۔ ضلع پریشدوں کے ذریعہ مہیلامنڈلوں کو گرانٹ فراہم کرنے کی اسکیم اور دیوداسیوں کے بچوں کی باز آبادکاری کیلئے امداد فراہم کرنے کی اسکیم کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں اسکیموں کو حکومت سے فنڈز کی کوئی مانگ یا خاطر خواہ جواب نہیں ملا ہے۔
مزید برآں آنگن واڑی مراکز کو بجلی کے بغیر سولر پاور سیٹ فراہم کرنے کی اسکیم کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جن آنگن واڑیوں میں بجلی کا کنکشن جوڑا جاسکتا ہے ، وہاں مرکزی حکومت نے بجلی کے اخراجات کیلئے ۵۰۰؍ روپے ماہانہ امداد فراہم کی ہے۔ تاہم چونکہ کاغذ پر سبسڈی کی فراہمی اور ہر آنگن واڑی میں بجلی کی حقیقی دستیابی دو الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے بجلی کے کنکشن کے بغیر آنگن واڑیوں کو درپیش صورتحال پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب ’ماجھی کنیا بھاگیہ شری‘ اسکیم کے معاملے میں نظر ثانی شدہ شکل میں ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پرانی اسکیم کو پہلے ہی بند کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ یکم اپریل ۲۰۲۳ء سے لیک لاڈکی‘سکیم نافذ کر دی گئی ہے۔ اب اس پرانی اسکیم کے علاحدہبجٹ ہیڈ کو مکمل طور پر بند کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ جن مستحقین کی درخواستیں ۳۱؍ مارچ۲۰۲۳ء تک اہل تھیں، ان کی تمام زیر التواء ادائیگیاں مارچ۲۰۲۷ء کے آخر تک ادا کر دی جائیں، اس کے بعد مالی سال۲۸-۲۰۲۷ء سے اس پرانی اسکیم کے اکاؤنٹ ہیڈ کو مستقل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ڈومبیولی: ۲۸ ؍سال پرانے قتل کا معمہ حل، کلیدی ملزم بہار سے گرفتار
کورونا کی وجہ سے یتیم ہونے والے بچوں کیلئے مالی امداد کی اسکیم بھی مالی سال۲۸-۲۰۲۷ء سے بند کر دی جائے گی۔’ زی ۲۴؍تاس‘ کی خبرکے مطابق کورونا سے متعلق اسکیم کے ساتھ ماجھی کنیا بھاگیہ شری یوجنا (نظرثانی شدہ) کو بھی بند کردیا جائے گا۔ اسی طرح این جی اوز(غیرسرکاری تنظیمیں) کو شیلٹرہوم چلانے میں مدد فراہم کرنے والی اسکیم تمام اضلاع میں شکتی سدن کے قیام کے بعد اگلے مالی سال سے بند کر دی جائے گی۔
تاہم ان سکیموں کے بارے میں کوئی اور تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں جب سے یہ بند ہو چکی ہیں یا بند ہونے والی ہیں۔ اس لئےیہ ابہام ہے کیونکہ استفادہ کنندگان کی کل تعداد اور ان اسکیموں کے بند ہونے سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے، اس کاپتہ نہیں چلا ہے۔ حکومت کے فیصلے میں ان ۷؍ اسکیموں کے استفادہ کنندگان کی کل تعداد، اصل اخراجات اور اسکیم کے سماجی اثرات کے تقابلی اعدادوشمار نہیں دیئے گئے ہیں۔
کن اسکیموں میں کٹوتی کی گئی؟
(۱)ماجھی کنیا بھاگیہ شری اسکیم
(۲)خواتین کیلئے کثیرالمقاصد سماجی مراکز
(۳)مہیلامنڈلوں کی دی جانے والی امداد
(۴)دیوداسی بچوں کی بازآبادکاری کیلئے تعاون
(۵) بغیر بجلی کے آنگن واڑیوں کیلئے شمسی توانائی کے یونٹ
(۶)شیلٹرہوم چلانے والی غیرسرکاری تنظیموں کیلئے تعاون
(۷)کورونا کی وجہ سے یتیم ہونے والے بچوں کی مالی امداد