نیشنل لاء یونیورسٹی میں تقسیم اسنا د پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس نے وا ضح کیاکہ سوال کرنے کا حق شہریت ، آزادی اور آئینی ذمہ داری کا لازمی حصہ ہے۔
EPAPER
Updated: August 31, 2026, 11:01 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
نیشنل لاء یونیورسٹی میں تقسیم اسنا د پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس نے وا ضح کیاکہ سوال کرنے کا حق شہریت ، آزادی اور آئینی ذمہ داری کا لازمی حصہ ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھوئیاں نے ملک میں جین زی کے احتجاج کے پیش نظر اپنےاہم تبصرہ میںکہا ہےکہ طلبہ کو مختلف نقطہ نظر کے اظہار یا سوال پوچھنے پر تعزیری کارروائی کی دھمکی نہیں دی جا سکتی۔ انہو ںنےاس بات پر زور یا کہ سوال کرنے کا حق شہریت، آزادی اور آئینی ذمہ داری کا ایک لازمی حصہ ہے۔جسٹس بھوئیاںنیشنل لاء یونیورسٹی دہلی کے۱۳؍ ویں تقسیم اسنا د پروگرام سے خطاب میں یہ باتیں کہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے آئینی جمہوریت، خاص طور پر یونیورسٹیوں میں اختلاف رائے، رواداری اور آزادانہ سوچ کی اہمیت پر بات کی۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں، سوال کرنے کا حق خلاف ورزی کا عمل نہیں ہے۔ یہ شہریت، آزادی اور آئینی ذمہ داری کا لازمی اظہار ہے۔جسٹس بھوئیاں نے مزیدکہا کہ جب طلبہ مختلف نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہیں، جب طلبہ سوال پوچھتے ہیں، تو انہیں دھمکایا نہیں جا سکتا، انہیں تعزیری کارروائی کی دھمکی نہیں دی جا سکتی۔ یہ غیر آئینی ہے، یہ طاقت اور عہدے کا غلط استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین سوچ کی یکسانیت کا خواہاں نہیں بلکہ ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے جس کے اندر مختلف عقائد، آراء اور عقائد رکھنے والے لوگ یکساں وقار کے ساتھ رہ سکیں اور جمہوری زندگی میں حصہ لے سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: وائٹ ہاؤس کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر پر ٹرمپ کی تقاریر پر سٹہ لگانے پر جرمانہ
سپریم کورٹ کے جسٹس نے ایک سوچ کے ساتھ جمہوری معاشرہ قائم نہ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس سمجھ پر قائم ہے کہ اختلافات موجود رہیں گے اور یہ کہ ان اختلافات کو وسیع تر آئینی فریم ورک کے اندر رہنا چاہیے۔ آئینی جمہوریت ریاست سے شہریوں کی بات سننے کا تقاضا کرتی ہے، شہری ایک دوسرے کی بات سنیں، ادارے جوابدہ رہیں اور معاشرہ ہر اختلافی آواز کو خطرہ نہ سمجھے۔ انہوں نے بیجو ایمنیوئل بمقابلہ کیرالا میں جسٹس چنپا ریڈی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئےان کے مشاہدے کویاد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’’ہماری روایت رواداری کا درس دیتی ہے۔‘‘انہوں نے کہاکہ چار دہائی قبل ۱۹۸۶ء میں کہے گئے الفاظ آج سے اور بھی زیادہ متعلق ہیں۔انہوں نے کہا کہ رواداری محض ذاتی شائستگی کا معاملہ نہیں ہے، یہ ایک آئینی قدر ہے۔ جمہوریت اس وقت معنی خیز نہیں بنتی جب ہر کوئی ایک ہی سوچ کی زبان بولے، بلکہ جب مختلف آوازیں ایک ساتھ رہ سکیں، ان کو سنا جائے اور ان کے ساتھ وقار کے ساتھ برتاؤ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کی پختگی نہ صرف اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اکثریتی مینڈیٹ رکھنے والی مقبول رائے کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرتی ہے بلکہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ مشکل، غیر مقبول یا بعض اوقات بہت تکلیف دہ رائے پر اس کا رد عمل کیسا ہوتا ہے۔