Updated: July 02, 2026, 7:00 PM IST
| London
ترکی کی ٹینس کھلاڑیزینب سونمیز نے انکشاف کیا ہے کہ ومبلڈن حکام کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں پن پہننے کی اجازت نہ ملنے کے بعد انہوں نے اپنے ریکیٹ پر تربوز کی شکل کا وائبریشن ڈیمپنر استعمال کیا، جسے فلسطینی یکجہتی کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔ سونمیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے منتظمین سے اس فیصلے پر بات چیت بھی کی، تاہم انہیں واضح طور پر بتایا گیا کہ فلسطینی پن پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کے بعد انہوں نے متبادل علامت کا انتخاب کیا۔
ترکی کی ٹینس کھلاڑیزینب سونمیز نے کہا ہے کہ انہوں نے ومبلڈن میں اپنے ریکیٹ پر تربوز کی شکل کا وائبریشن ڈیمپنر اس لیے استعمال کیا کیونکہ ٹورنامنٹ کے منتظمین نے انہیں فلسطین کی حمایت میں پن پہننے کی اجازت نہیں دی۔ ومبلڈن میں خواتین کے سنگلز کے دوسرے راؤنڈ سے باہر ہونے کے بعد ترک خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے سونمیز نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر ٹورنامنٹ حکام سے بات بھی کی تھی، تاہم انہیں فلسطینی علامت والا پن استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں پہلے ایک پن پہنتی تھی، لیکن اب ٹورنامنٹس مجھے اسے پہننے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہم نے منتظمین سے بات کی کیونکہ یوکرین کے پرچم کی اجازت ہے، لیکن فلسطینی پن کی نہیں۔‘‘
سونمیز کے مطابق، ’’آخرکار ہمیں واضح طور پر بتا دیا گیا کہ اس کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ اسی لیے میں پن نہیں پہن سکتی۔ البتہ میں وائبریشن ڈیمپنر استعمال کر سکتی ہوں اور اس پر وہ اعتراض نہیں کر سکتے، اسی لیے میں نے اپنے ریکیٹ پر تربوز کی علامت لگائی۔‘‘ خیال رہے کہ تربوز کو فلسطینی یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے رنگ — سرخ، سبز، سفید اور سیاہ — فلسطینی پرچم سے مماثلت رکھتے ہیں۔ مختلف ادوار میں جب فلسطینی پرچم کی نمائش پر پابندیاں عائد کی گئیں تو تربوز کی علامت کو فلسطینی شناخت اور اظہارِ یکجہتی کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔
سونمیز کی یہ علامتی حمایت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ میں جاری جنگ کے باعث دنیا بھر میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے مختلف طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ متعدد کھیلوں اور ثقافتی تقریبات میں سیاسی علامتوں کے استعمال پر بھی بحث جاری ہے۔ دوسری جانب ومبلڈن کے منتظمین نے اس معاملے پر کوئی عوامی تبصرہ جاری نہیں کیا۔ ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق کھلاڑیوں کے لباس اور سامان پر بعض سیاسی پیغامات یا علامتوں کے استعمال سے متعلق ضابطے موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ، اولمپکس کیلئے نیا کرکٹ گراؤنڈ
خیال رہے کہزینب سونمیز خواتین کے سنگلز کے دوسرے راؤنڈ میں امریکہ کی کلیئر لیو کے ہاتھوں ۵۔۷؍، ۳۔۶؍ سے شکست کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئیں۔ میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنی توقعات کے مطابق کھیل نہیں سکی۔ میرا گیم پلان مؤثر ثابت نہیں ہوا اور میں گیند کو بھی اچھی طرح محسوس نہیں کر پا رہی تھی۔‘‘ انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی حریف نے بہتر کھیل پیش کیا اور انہیں اہم مواقع پر زیادہ مستقل مزاج رہنے کی ضرورت تھی، تاہم وہ غیر ضروری غلطیوں سے بھی نہ بچ سکیں۔ سونمیز نے بتایا کہ ان کی ٹیم آئندہ ٹورنامنٹس سے قبل اپنے تربیتی پروگرام میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کرے گی بلکہ موجودہ منصوبے کے تحت اپنی کمزوریوں کو بہتر بنانے اور مضبوط پہلوؤں کو مزید نکھارنے پر توجہ دے گی۔
انہوں نے میچوں کے دوران وقفے میں ہاتھ سے لکھے ہوئے نوٹس پڑھنے کی اپنی عادت کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کے مطابق، وہ ہر میچ سے پہلے اپنے حریف کی طاقتوں اور کمزوریوں کا جائزہ لے کر اہم نکات لکھتی ہیں تاکہ دباؤ یا گھبراہٹ کی صورت میں انہیں پڑھ کر اپنی توجہ برقرار رکھ سکیں۔ سونمیز نے کہا کہ ’’میچ کے دوران کبھی کبھی ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے، اس لیے میں پہلے سے وہ تمام چیزیں لکھ لیتی ہوں جن پر مجھے توجہ دینی ہوتی ہے۔ ان نوٹس میں عموماً مخالف کھلاڑی کے بارے میں مشاہدات اور خود کو ذہنی طور پر پرسکون رکھنے کی یاد دہانیاں شامل ہوتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:عمران ہاشمی یا سنی دیول نہیں، اس بار باکس آفس پر شبانہ اعظمی کی حکمرانی ہوگی
انہوں نے ومبلڈن کے دوران ملنے والی ترک شائقین کی حمایت پر بھی اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے پورے ٹورنامنٹ میں کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ میں اکیلی ہوں۔ ایسا لگتا تھا جیسے سب میرے ساتھ کورٹ میں موجود ہیں، اور یہ میرے لیے بہت اہم تھا۔‘‘ اگرچہ سونمیز کا خواتین کے سنگلز کا سفر دوسرے راؤنڈ میں اختتام پذیر ہو گیا، تاہم وہ ومبلڈن کے ڈبلز مقابلوں میں اب بھی اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔