Inquilab Logo Happiest Places to Work

طہورا خاتون کی نظریں عالمی انڈر۲۰؍ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے طلائی تمغے پر

Updated: July 24, 2026, 9:04 PM IST | New York

مغربی بنگال کی ابھرتی ہوئی ایتھلیٹ طہورا خاتون نے امریکہ کی ریاست اوریگن میں ہونے والی ورلڈ انڈر ۲۰؍ایتھلیٹکس چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ وہ اس عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی کرنے والی مغربی بنگال کی پہلی ایتھلیٹ بن گئی ہیں۔

Tahura Khatun.Photo:INN
طہورا خاتون۔ تصویر:آئی این این

 مغربی بنگال کی ابھرتی ہوئی ایتھلیٹ  طہورا خاتون  نے امریکہ کی ریاست  اوریگن  میں ہونے والی ورلڈ انڈر ۲۰؍ایتھلیٹکس چیمپئن شپ  کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ وہ اس عالمی مقابلے کے لیے کوالیفائی کرنے والی مغربی بنگال کی پہلی ایتھلیٹ بن گئی ہیں۔ طہورا کا اگلا ہدف عالمی چیمپئن شپ کی مکسڈ۴۰۰ ۴×  میٹر ریلے  میں طلائی تمغہ جیتنا ہے، جبکہ ان کا سب سے بڑا خواب اولمپکس میں سونے کا تمغہ حاصل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی خدماتی برآمدات ۲۶۔۲۰۲۵ء میں بڑھ کر۳ء۴۲۱؍ ارب ڈالر تک پہنچ گئیں


عالمی چیمپئن شپ کے لیے روانگی سے قبل طہورا نے کہا ’’میرا آخری ہدف اولمپکس میں طلائی تمغہ جیتنا ہے۔ فی الحال میری پوری توجہ ورلڈ انڈر۲۰؍ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ پر ہے، جہاں میں مکسڈ ۴۰۰ ۴×میٹر ریلے میں حصہ لوں گی۔ اس مقابلے میں کامیابی پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش سے ممکن ہوگی، لیکن میں اپنی طرف سے ملک کا نام روشن کرنے کی پوری کوشش کروں گی۔ 
طہورااسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (SAI) کے  ایسٹرن سینٹر  میں چیف کوچ سنجے گھوش  اور اسسٹنٹ کوچ  جسپال سنگھ پنو  کی نگرانی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ گزشتہ ماہ انہوں نے  ایشین انڈر۲۰؍ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ  میں خواتین کی۴۰۰ ۴× میٹر ریلے  میں طلائی تمغہ جیت کر تاریخ رقم کی تھی، جس کے بعد انہیں عالمی چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کرنے کا موقع ملا۔
انہوں نے کہا’’ایشین انڈر۲۰؍ چیمپئن شپ میں کامیابی کے بعد میری زندگی میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ اب لوگوں کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں، لیکن میں اچھی فارم میں ہوں۔ حال ہی میں ریاستی سطح کے مقابلے میں نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے طلائی تمغہ جیتا ہے اور میری کوشش ہوگی کہ یہی فارم عالمی چیمپئن شپ میں بھی برقرار رہے۔ 
 جنوبی ۲۴؍ پرگنہ ضلع کے  پھول باڑی  گاؤں سے تعلق رکھنے والی ۱۹؍ سالہ طہورا نے ایتھلیٹکس میں آنے سے پہلے مقامی لڑکوں کے ساتھ فٹبال اور کرکٹ کھیل کر اپنے کھیلوں کے سفر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا سہرا سائی کے کوچز کو دیا۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی جلد بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہہ سکتے ہیں، الوداعی میچ کی تیاری


 طہورا نے کہا’’میں گزشتہ پانچ برس سے سائی میں تربیت حاصل کر رہی ہوں۔ میری تمام کامیابیوں کا سہرا یہاں کے کوچز اور سپورٹ اسٹاف کو جاتا ہے، جو میری ٹریننگ، خوراک اور دیگر تمام ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ ابتدا میں میرے خاندان کے لیے میری ٹریننگ کے اخراجات اٹھانا مشکل تھا، لیکن سائی میں منتخب ہونے کے بعد میری زندگی بدل گئی۔ مجھے یقین ہے کہ سنجے سر اور جسپال سر کی رہنمائی میں میں مزید بڑی کامیابیاں حاصل کروں گی۔‘‘
 انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی کامیابیاں مغربی بنگال کے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایتھلیٹکس کی طرف راغب کریں گی۔ تاہم طہورا نے ایک افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ایشین انڈر۲۰؍ چیمپئن شپ  سے واپسی پر انہیں ایئرپورٹ پر خوش آمدید کہنے کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کی پوری توجہ عالمی سطح پر تمغہ جیت کر ملک اور ریاست کا نام روشن کرنے پر مرکوز ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK