تائیوان نے ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی اسٹاک مارکیٹ میں جگہ بنا لی، اب تائیوان صرف امریکہ، چین، جاپان اور ہانگ کانگ کے بعد پانچویں نمبر پر ہے۔
EPAPER
Updated: May 27, 2026, 8:57 AM IST | Taipei
تائیوان نے ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی اسٹاک مارکیٹ میں جگہ بنا لی، اب تائیوان صرف امریکہ، چین، جاپان اور ہانگ کانگ کے بعد پانچویں نمبر پر ہے۔
تائیوان نے ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی اسٹاک مارکیٹ کا درجہ حاصل کر لیا ہے، جس کی بنیادی وجہ TSMC میں مصنوعی ذہانت (AI) کی وجہ سے تیزی اور NVIDIA سے منسلک سیمی کنڈکٹر کی مضبوط طلب ہے۔بلومبرگ کے مطابق، تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ کی کل مالیت (مارکیٹ کیپٹلائزیشن) ۴؍ اعشاریہ ۹۵؍ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جب کہ ہندوستان۴؍ اعشاریہ ۹۲؍ ٹریلین ڈالر پر ہے۔ تاہم اب تائیوان صرف امریکہ، چین، جاپان اور ہانگ کانگ کے بعد پانچویں نمبر پر ہے۔
واضح رہے کہ تائیوان کی تیز رفتار ترقی کی سب سے بڑی وجہ ٹی ایس ایم سی ہے، جو اب بنچ مارک انڈیکس یٹی ای آئی اقیم سی میں۴۲؍ فیصد حصہ رکھتی ہے۔ٹی ای اے آئی ایس ماحولیاتی نظام میں زبردست طلب کی وجہ اس چپ بنانے والی کمپنی کے حصص میں اس سال۴۶؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جسے بہت سے تجزیہ کار’’ NVIDIA پراکسی اثر‘‘کا نام دیتے ہیں۔واضح رہے کہ NVIDIA اپنا ہارڈویئر خود تیار نہیں کرتی، بلکہ چپس ڈیزائن کرتی ہے، اور اپنی ہارڈویئر مینوفیکچرنگ کے لیے مکمل طور پر TSMC پر منحصر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ میں جہنم کی جھلک، برطانیہ اور فرانس میں گرمی کا ریکارڈ ٹوٹا
جب بھی NVIDIA کو کوئی اربوں ڈالر کا معاہدہ ملتا ہے، اس کی آمدنی TSMC کو منتقل ہوتی ہے، جس سے فوری اور بڑی تیزی آتی ہے۔ جبکہ فاکس کان پیچیدہ AI سرورز اور AI فیکٹریاں اسمبل کرتی ہے جو NVIDIA کے پرزہ جات رکھتی ہیں۔ تائیوان کے مالیاتی ریگولیٹر نے حال ہی میں ضابطے تبدیل کیے ہیں، جس کے تحت اب گھریلو فنڈز کسی بھی لسٹڈ کمپنی میں اپنی خالص جائیداد کا ۲۵؍ فیصد تک رکھ سکتے ہیں (پہلے۱۰؍ فیصد تھا)۔ اس سے TSMC میں مزید سرمایہ کار متوجہ ہوں گے۔ ہندوستان اپنی اسٹاک مارکیٹ کی کل مالیت میں پیچھے رہگیا ہے، جس کی بڑی وجہ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FIIs) کی ریکارڈ سطح پر نکاسی ہے، جو خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ہندوستانی روپے کی گراوٹ کے باعث ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ ۶۰؍ روزہ جنگ بندی پر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اراکین کی تنقیدیں
بعدازاں جنوری۲۰۲۶ء میں اپنی چوٹی کی مالیت۵؍ اعشاریہ ۳؍ ٹریلین ڈالر سے ہندوستان نے ۳۸۰؍بلین ڈالر کھو دیے ہیں۔ بنچ مار ک نفٹی ۵۰؍میں ۸؍ ۰۸؍ فیصد اور بی ایس ای سینسکس میں ۱۰؍ اعشاریہ ۸؍فیصد کمی آئی ہے۔ تاہم، وال اسٹریٹ تائیوان کی قدر اوراے آئی تعمیرات کے بارے میں منقسم ہے۔ تجزیہ کار ہندوستانی مارکیٹ کی قدر کو تائیوان کی انتہائی مرکوز اور بہت زیادہ منافع دینے والی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں طویل مدتی قومی ترقی کے حوالے سے زیادہ مستحکم سمجھتے ہیں۔