آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے بنگلہ دیش کے ہاتھوں حیران کن شکست کے حوالے سے کہا کہ ہمیں ٹک کر بلے بازی اور مؤثر گیند بازی کرنے کے ساتھ دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
EPAPER
Updated: August 16, 2026, 9:07 PM IST | Darwin
آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے بنگلہ دیش کے ہاتھوں حیران کن شکست کے حوالے سے کہا کہ ہمیں ٹک کر بلے بازی اور مؤثر گیند بازی کرنے کے ساتھ دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز نے بنگلہ دیش کے ہاتھوں حیران کن شکست کے حوالے سے کہا کہ ہمیں ٹک کر بلے بازی اور مؤثر گیند بازی کرنے کے ساتھ دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ میچ ہارنے کے بعد کمنز نے کہاکہ مجھے لگا کہ ہماری تیاری بالکل درست تھی لیکن بنگلہ دیش نے بہت اچھا کھیلا۔ مجھے لگا کہ پہلے دن کی پچ پر شروعات میں تھوڑی مدد تھی، لیکن ظاہر ہے کہ ہمیں اس سے کہیں زیادہ دیر تک بلے بازی کرنے کا طریقہ تلاش کرنا ہوگا، اور پھر ہم گیند سے بھی کوئی خاص اثر نہیں ڈال سکے۔ انہوں نے ہر معاملے میں ہمیں پیچھے چھوڑ دیا۔ مجھے لگا کہ وہ بہت صابر اور نظم و ضبط کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ ایک بار جب ہم پیچھے ہو گئے تو واپسی کرنا بہت مشکل ہو گیا۔
یہ بھی پڑھئے:نرگس فخری روزانہ ۲۴؍ کلومیٹر سائیکل چلا رہی ہیں، اپنی فٹنیس کا راز بھی کھولا
انہوں نے کہاکہ ’’مجھے لگتا ہے کہ جب بھی ایسا کوئی میچ ہوتا ہے تو آپ ہمیشہ اگلے میچ کے لیے اپنے مقابلوں اور ٹیم کے امتزاج پر غور کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے ابھی میچ ختم کیا ہے، اس لیے ہم اس پر غور کریں گے۔ ہم واپسی کرنے میں کافی اچھے ہیں، اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ بلے باز اور ہر گروپ ایک ساتھ آئیں گے اور اس میچ کے بارے میں اور ہم کہاں بہتری لا سکتے ہیں، اس پر اچھی طرح غور و فکر کریں گے۔
آسٹریلیا کے لیے ۲؍ خاص باتیں رہیں۔ جوش ہیزل ووڈ کی کارکردگی، جنہوں نے پہلی اننگز میں ۸۹؍ رنز دے کر ۶؍ وکٹیں حاصل کیں اور اس دوران اپنے ۳۰۰؍ ٹیسٹ وکٹیں مکمل کیں اور کیمرون گرین، جنہوں نے اپنی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ سنچری بنائی، جبکہ سیریز شروع ہونے سے پہلے ان پر اچھی کارکردگی کا دباؤ تھا۔
آسٹریلوی کپتان نے کہاکہ ’’گزشتہ چند برسوں میں جوش کو چوٹوں سے کافی جوجھنا پڑا ہے، لیکن وہ بہت محنتی کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے ایسی پچ پر اپنی صلاحیت دکھائی جہاں تیز گیند بازی کے لیے زیادہ مدد نہیں تھی، پھر بھی انہوں نے ۶؍ بہت اہم وکٹیں حاصل کیں۔ وہ شاندار تھے۔ پھر گرین؛ مجھے لگتا ہے کہ اس اننگز میں ان کی بلے بازی کی رفتار نے دکھایا کہ وہ کتنے اچھے کھلاڑی ہیں۔ بس کچھ اور کھلاڑیوں کو ان کے ساتھ ٹکے رہنے کی ضرورت تھی، لیکن وہ شاندار کھیلے۔ چوتھے دن کا کھیل شروع ہونے سے پہلے، سابق کپتان رکی پونٹنگ نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے:رحمت کی سنچری کی بدولت افغانستان کی شاندار فتح، سیریز پر بھی قبضہ
پونٹنگ نے چینل ۷؍ پر کہاکہ ’’مجھے لگتا ہے کہ تبدیلیاں کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ موسم گرما کے آخر میں ہی میں نے کہا تھا کہ ٹیم کو نئے سرے سے تیار کرنے کا یہ صحیح وقت ہے، کیونکہ کچھ کھلاڑیوں کی کارکردگی ایسی رہی ہے۔ میں تبدیلیاں کرنے کا حامی نہیں رہا ہوں۔ کپتان یا کھلاڑی کی حیثیت سے، میں ہمیشہ ٹیم کو متحد رکھنا چاہتا تھا۔ اس لیے جب تک حالات بہت خراب نہ ہو جائیں، میں کسی کو ٹیم سے باہر کرنے کی بات نہیں کرتا۔ لیکن یہاں آنے سے پہلے ہی میرے پاس ایسے کافی ثبوت تھے جن سے لگتا تھا کہ اگر وہ ٹیم کو نئے سرے سے تیار کرنا شروع کرتے ہیں، جیسے کسی دوسرے اوپنر یا نمبر ۳؍ پر کسی نئے کھلاڑی کو لاتے ہیں، تو انہیں کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔