Inquilab Logo Happiest Places to Work

سنجو سیمسن کی ذہنی پختگی نے انہیں میچ ونر بنا دیا

Updated: March 06, 2026, 6:03 PM IST | Mumbai

ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے خیال میں آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ میں سنجو سیمسن کی حالیہ شاندار کامیابی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ کیا ہے۔

Sanju Samson.Photo:PTI
سنجو سیمسن۔ تصویر:پی ٹی آئی

 ہندوستان کے سابق کوچ روی شاستری نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے خیال میں آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ میں سنجو سیمسن کی حالیہ شاندار کامیابی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ کیا ہے۔
سیمسن گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان کی بہترین ٹی۲۰؍ ٹیم کا حصہ بننے کی جدوجہد کر رہے تھے اور ورلڈ کپ کے ابتدائی مرحلے میں بھی انہیں اس وقت جگہ نہیں ملی جب ایشان کشن کو بطور اوپنر اور رنکو سنگھ کو ترجیح دی جا رہی تھی۔ تاہم، سیمسن نے لگاتار دو میچوں میں پلیئر آف دی میچ  ایوارڈز جیت کر ہندوستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف فائنل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی حالیہ یادگار اننگز ممبئی میں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں سامنے آئی، جہاں انہوں نے ۷؍ چھکوں کی مدد سے۸۹؍ رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔
اگرچہ سیمسن کی اس فارم نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے، لیکن روی شاستری اس سے زیادہ حیران نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے سیمسن کے اندازِ فکر میں ایک واضح تبدیلی محسوس کی ہے۔ دی آئی سی سی ریویو   میں  بات کرتے ہوئے شاستری نے کہا کہ سیمسن اب ذہنی طور پر زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کی جیت میں کئی کھلاڑیوں کا مشترکہ کردار

روی شاستری نے کہاکہ ’’میرا خیال ہے کہ آخر کار انہیں یہ احساس ہو گیا ہے کہ انہیں کھیل میں تسلسل  لانے کی ضرورت ہے۔ اب وہ شاٹس کے انتخاب میں زیادہ سمجھداری دکھا رہے ہیں اور اپنی طاقت پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ سنجو کے پاس کرکٹ کی ہر شاٹ موجود ہے، لیکن پہلے ان کی توجہ بھٹک جایا کرتی تھی۔ اب وہ ذہنی طور پر پختہ ہو چکے ہیں اور ان کی مہارت یا ٹیلنٹ پر کبھی کسی کو شک نہیں رہا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:خاتون مداح نے سیکڑوں سوڈا کین سے شاہ رخ خان کا پورٹریٹ بنایا

انہوں نے مزید کہاکہ ’’سنجو ابھی صرف ۳۱؍ سال کے ہیں اور ایک حقیقی میچ ونر ہیں۔ ان کی حالیہ بلے بازی میں جو کلاس، ٹچ اور طاقت نظر آئی ہے، وہ ناقابل یقین ہے۔‘‘ دوسری جانب، شاستری نے اوپنر ابھیشیک شرما کی فارم پر تشویش کا اظہار کیا جنہوں نے اب تک ۷؍ اننگز میں صرف ۸۹؍ رنز بنائے ہیں۔ تاہم، سابق کوچ کا ماننا ہے کہ فائنل سے پہلے ٹیم میں تبدیلی کرنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے مشورہ دیاکہ ’’ابھیشیک کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا چاہیے اور دفاعی انداز اپنانے کے بجائے اپنی فطری بلے بازی کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ فائنل ان کے لیے ٹورنامنٹ کا بہترین میچ ثابت ہو۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK