• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹیم انڈیا کو ونڈیز کے بلے بازوں سے محتاط رہنے کی ضرورت

Updated: October 14, 2026, 2:01 PM IST | Agency | Hyderabad

آج ٹی ۔۲۰؍سیریز کا چوتھا مقابلہ،ویسٹ انڈیز سیریز برابر کرنے کے لئے بے تاب، ہندوستان کی گیندبازی پر نظریں،دلچسپ مقابلے کی امید۔

The Indian team will take the field with the aim of securing another victory against the West Indies. Photo: INN
ہندوستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک اور کامیابی حاصل کرنے کے ارادے سے میدان میں اترےگی۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان نے ۵؍میچوں کی ٹی۔۲۰؍ سیریز میں دوایک کی برتری حاصل کر رکھی ہے لیکن ویسٹ انڈیز نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے واضح کردیا ہے کہ میزبان ٹیم کسی بھی مرحلے پر آرام سے نہیں بیٹھ سکتی۔ بدھ کو حیدرآباد میں ہونے والا چوتھا ٹی۔۲۰؍ہندوستان کیلئے سیریز اپنے نام کرنے کا موقع ہوگا جبکہ ویسٹ انڈیز کی نظریں مقابلہ فیصلہ کن میچ تک لے جانے پر ہوں گی۔

ہندوستان نے اندور میں تیسرا ٹی۔۲۰؍میچ ۱۴؍ رن سے جیت کر سیریز میں برتری حاصل کی تھی۔ تاہم ویسٹ انڈیز نے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جس طرح مزاحمت کی اس سے ہندوستان کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ پاور ہٹرز سے بھرپور اس ٹیم کے خلاف کوئی بھی اسکور مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔

ہندوستان کی بلے بازی نے اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اندور میں ابھیشیک شرما نے صرف ۳۰؍ گیندوں پر ۶۹؍رن بناکر میچ کا رخ ابتدائی مرحلے میں ہی ہندوستان کے حق میں موڑ دیا تھا جبکہ ایشان کشن نے ۱۸؍ گیندوں پر ۳۷؍ رن کی تیز اننگز کھیل کر ٹیم کی رفتار مزید بڑھائی۔

یہ بھی پڑھئے: آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ ایوارڈ پر ہندوستان کا قبضہ

ہندوستانی ٹیم مینجمنٹ کیلئے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ بلے باز دوبارہ بڑا اسکور بناسکتے ہیں یا نہیںبلکہ یہ ہے کہ گیندباز اس اسکور کو محفوظ بنانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔ اندور میں عرشدیپ سنگھ نے ۳؍ اور نمن دھیر نے ۲؍ وکٹیں لے کر اہم مواقع پر ہندوستان کو برتری دلائی لیکن ویسٹ انڈیز نے اس کے باوجود مقابلے کو زندہ رکھا۔ویسٹ انڈیز کو رانچی میں حاصل کی گئی کامیابی سے بھی حوصلہ ملے گا جہاں اس نے ۲۵۰؍رن کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ۶؍ وکٹ سے فتح حاصل کی تھی۔ہندوستان کے لئے سبق واضح ہے کہ ایک بڑا ہدف بھی ایسی ٹیم کے خلاف ضمانت نہیں بن سکتا جو مسلسل جارحانہ انداز میں کھیلنے کے لئے تیار ہو۔

ویسٹ انڈیز کیلئے حیدرآباد میں چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اجتماعی بلے بازی کی اسی کارکردگی کو دہرانے کی کوشش کرے اور صرف انفرادی طور پر پاور ہٹنگ پر انحصار نہ کرے۔ اندور میں اس کا تعاقب مسابقتی رہا، لیکن آخری مرحلے میں مطلوبہ رفتار برقرار نہیں رہ سکی۔ ایسی سیریز میں جہاں معمولی فرق بھی فیصلہ کن ثابت ہوسکتا ہے، شراکت داری قائم کرتے ہوئے جارحانہ انداز برقرار رکھنا مہمان ٹیم کے لیے اہم ہوگا۔

دوسری جانب ہندوستان کو ابتدائی جارحانہ بلے بازی کے بعد اننگز میں زیادہ تسلسل کی ضرورت ہوگی۔ ابھیشیک شرما کے جارحانہ انداز نے پاور پلے میں ٹیم کو ایک اہم ہتھیار فراہم کیا ہے، لیکن مڈل آرڈر کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ شاندار آغاز مسلسل وکٹیں گرنے سے اپنی قدر نہ کھو دے۔ ٹی۔۲۰؍میں جارحانہ کرکٹ ضروری ہے لیکن یہ جاننا بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کب اس جارحیت پر قابو پانا ہے۔حیدرآباد کا مقابلہ اس لئے صرف تفریح اور چوکے چھکوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کھلاڑیوں کے میدان میں عمل درآمد اور حکمت عملی کا بھی امتحان ہوگا۔ ہندوستان کے پاس گھریلو میدان پر سیریز اپنے نام کرنے کا موقع ہے، لیکن ویسٹ انڈیز کی بلے بازی میں چند اوورز کے اندر میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔

میزبان ٹیم ہندوستان کو برتری، گھریلو حالات اور گزشتہ کامیابی کا اعتماد حاصل ہے لیکن اب اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی گیند بازی بھی بلے بازی کی طرح مضبوط ہے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف بڑا اسکور ہندوستان کو مضبوط بنیاد فراہم کرسکتا ہے لیکن گیندبازوں کو رن روکنے اور وقتاً فوقتاً وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہونا ہوگا۔یہی کارکردگی طے کرے گی کہ ہندوستان حیدرآباد میں سیریز اپنے نام کرتا ہے یا مقابلہ بنگلور میں فیصلہ کن میچ تک پہنچتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK