Inquilab Logo Happiest Places to Work

سلسلہ ابھی شروع ہوا ہے، کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا: روہت شرما

Updated: March 15, 2026, 6:40 PM IST | Mumbai

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان روہت شرما نے کہا ہے کہ کامیابی کا کوئی راز نہیں ہوتا، بلکہ یہ سب سخت محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی مرد اور خواتین ٹیموں نے جو آئی سی سی ٹائٹل جیتے ہیں، یہ محض ایک شاندار دور کا آغاز ہے۔

Rohit Sharma.Photo:INN
روہت شرما۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان روہت شرما نے کہا ہے کہ کامیابی کا کوئی  راز نہیں ہوتا، بلکہ یہ سب سخت محنت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ  ہندوستانی مرد اور خواتین ٹیموں نے جو آئی سی سی ٹائٹل جیتے ہیں، یہ محض ایک شاندار دور کا آغاز ہے۔دو بار آئی سی سی ٹرافی جیتنے والے کپتان نے ہفتے کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا’’مرد اور خواتین کرکٹرز جو کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، اس کے لیے وہ جی توڑ محنت کرتے ہیں۔ میدان میں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی تعریف کے مستحق ہیں جو پردے کے پیچھے انتھک کام کرتے ہیں۔
روہت شرما کی قیادت میں ہندوستان نے جون  ۲۰۲۴ء میں ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ جیتا تھا، جس کے بعد فتوحات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔ مارچ  ۲۰۲۵ء میں بھی روہت کی کپتانی میں ٹیم نے چیمپئن  ٹرافی اپنے نام کی۔ اس کے علاوہ انڈر ۱۹؍ کی سطح پر بھی ہندوستان کا پلڑا بھاری رہا،انڈر ۱۹؍ مرد ٹیم نے آیوش مہاترے کی قیادت میں ورلڈ کپ جیتا۔انڈر ۱۹؍ خواتین ٹیم نےنکی پرساد کی کپتانی میں۲۰۲۵ء میں ٹرافی اٹھائی۔
ہندوستانی کرکٹ کے لیے اگلا بڑا امتحان ویمن ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ ہے، جو ۱۲؍ جون سے برطانیہ میں شروع ہو رہا ہے۔  ہندوستان کو گروپ وَن میں پاکستان، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش اور نیدرلینڈس کے ساتھ رکھا گیا ہے۔روہت شرما نے زور دیا کہ جب آپ کو فتوحات کا تسلسل مل جائے، تو اسے برقرار رکھنا چاہیے اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے۔
بنگلہ دیش کیخلاف متنازع رن آؤٹ پر سلمان آغا کا رد عمل سامنے آگیا
 پاکستانی آل راؤنڈر سلمان علی آغا نے بنگلہ دیش کے خلاف متنازع رن آؤٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ مہدی حسن کی جگہ ہوتے تو معاملے کو مختلف انداز میں ہینڈل کرتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈھاکا میں میچ کے اختتام پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ میچ کے دوران سلمان آغا نان اسٹرائیکر اینڈ پر بولر کے رن اپ کے ساتھ کریز سے باہر آگئے تھے، محمد رضوان نے شاٹ کھیلا تو گیند سیدھی سلمان آغا کے بلے پر لگی جا کے اور وہیں رک گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:این ایچ اے آئی نے فاسٹیگ سالانہ پاس فیس میں اضافہ کا کیا اعلان

سلمان آغا نے گیند اٹھاکر دینا چاہی لیکن اسی لمحے مہدی حسن نے گیند اٹھاکر وکٹ پر مار دی جس کے بعد تھرڈ امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیا۔ اس فیصلے پر سلمان آغا شدید ناراض نظر آئے اور غصے میں اپنے دستانے اور ہیلمٹ زمین پر پھینک دیے۔ بعد ازاں پریس کانفرنس میں آغا نے کہا کہ قانون کے مطابق مہدی کا عمل درست تھا، لیکن ان کے خیال میں کھیل میں اسپورٹس مین اسپرٹ بھی اہم ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ اس صورتحال میں ہوتے تو شاید مختلف فیصلہ کرتے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسکر۲۰۲۶ء: ’ون بیٹل آفٹر اَن اَدر‘ اور ’سنرز‘ کے درمیان سخت مقابلہ


آغا نے وضاحت کی کہ گیند پہلے ان کے پیڈ اور پھر بیٹ سے لگی تھی، جس کی وجہ سے انہیں لگا کہ گیند ڈیڈ ہو چکی ہے۔ اسی لیے وہ گیند اٹھا کر بو لر کو واپس دینے کی کوشش کر رہے تھے، نہ کہ رن لینے کی۔ انہوں نے اپنی جذباتی ردعمل پر افسوس کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ یہ سب لمحاتی غصے کی وجہ سے ہوا۔ آغا کا کہنا تھا کہ وہ بعد میں مہدی سے بات کر کے معاملہ حل کر لیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK