Updated: May 21, 2026, 11:29 AM IST
|
Agency
| Moscow
ولادیمیر پوتن اور شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد جاری کئے گئے اعلامیہ میں واضح کیا گیا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی ہے، نام لئے بغیر امریکہ پر تنقیدیں۔
پوتن اور شی پنگ۔ تصویر:آئی این این
روسی صدر ولادیمیر پوتین کے دورہ بیجنگ کے موقعے پر ان کی چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد روس اور چین نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ کچھ ممالک کی جانب سے عالمی امور پر تسلط قائم کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، تاہم اب دنیا کو دوبارہ جنگل کے قانون کی طرف لوٹنے کے خطرے کا سامنا ہے۔بیجنگ میں روسی صدر ولادیمیر پوتین اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد کریملن کی جانب سے روسی زبان میں جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ عالمی صورتحال مسلسل پیچیدہ ہو رہی ہے۔ امن اور ترقی کے عالمی ایجنڈے کو نئے خطرات اور چیلنج درپیش ہیں جبکہ بین الاقوامی برادری کو انتشار اور قانون کی بالادستی کے خاتمے کا سنگین خطرہ لاحق ہے۔اعلامیے کے مطابق ماضی کے نوآبادیاتی دور کی طرح دنیا پر یک طرفہ مرضی مسلط کرنے، عالمی امور کو اکیلے چلانے اور دوسرے ممالک کی خودمختارانہ ترقی کو روکنے کی کوششیں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
ایران پر حملے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال
اس سلسلے میں روسی اور چینی صدور نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کئے جانے والے فوجی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے ان غیر قانونی اقدامات کو مشرق وسطیٰ کے استحکام کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں جس سے خطے کا امن شدید متاثر ہوا ہے۔ روس اور چین نے تنازع کو پھیلنے سے روکنے کیلئے فوری طور پر مکالمے اور مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل کی ہے۔ ماسکو اور بیجنگ نے کہا کہ انفرادی ممالک کی جانب سے بحری جہاز رانی پر پابندیاں عائد کرنے کے اقدامات عالمی تجارتی سپلائی چین کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں۔ دستاویز کے مطابق دونوں ممالک نے ایسے یک طرفہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جو بین الاقوامی جہاز رانی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔علاوہ ازیں دونوں ممالک نے یک طرفہ پابندیوں اور امتیازی ٹیرف کے استعمال کی سخت مخالفت کی۔ بیان میں زور دیا گیا کہ فریقین یک طرفہ پابندیوں، سیکنڈری پابندیوں اور تجارتی شعبے میں امتیازی ٹیکسوں کے خلاف ہیں اور تمام ممالک پر زور دیتے ہیں کہ وہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام کا تحفظ کریں۔
یوکرین بحران کے حوالے سے مشترکہ موقف
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کے بحران کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ ہی اس کے پائیدار حل کی کنجی ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے اس بحران کے اصل اسباب کو دور کیا جائے تاکہ مشترکہ سلامتی کو یقینی بنا کر دیرپا امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ماسکو اور بیجنگ نے امن کے قیام کی تمام کوششوں کی حمایت دہراتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔
کسی دوسرے ملک کی قیمت پر سلامتی کی ضمانت مسترد
دوسری جانب مشترکہ اعلامیے میں توثیق کی گئی کہ دنیا میں ترقی کا کوئی ایک ہی یکساں راستہ نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں کوئی قوم یا عوام دوسرے درجے کے ہیں۔ کسی بھی قسم کی بالادستی اور آمریت کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ تمام ممالک اور ان کے اتحاد اپنے غیر ملکی شراکت داروں اور بین الاقوامی تعاون کے ماڈل کا انتخاب کرنے میں پوری طرح آزاد ہیں اور عالمی بالادستی پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی بھی ملک کی سلامتی کو دوسرے ملک کی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ تمام خودمختار ممالک کو سلامتی کا برابر حق حاصل ہے۔ فوجی اتحادوں کو وسعت دینا یا ممالک کو ان کی غیر جانبداری ترک کرنے پر مجبور کرنا ناقابل قبول ہے۔ بلاک کی سیاست، تصادم اور جنگی حکمت عملیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک متوازن اور پائیدار عالمی و علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی تعمیر کیلئے کام کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ فریقین نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور مصنوعی تقسیم پیدا کرنے کی پالیسیوں کی بھی شدید مذمت کی۔
فوجی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کا عزم
چین اور روس نے اپنی افواج کے مابین مشترکہ رابطوں اور فوجی تعاون کے طریقہ کار کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک اپنی افواج کے درمیان روایتی دوستی کو فروغ دیتے ہوئے فوجی شعبے میں باہمی اعتماد کو گہرا کریں گے۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ فوجی مشقوں، فضائی و بحری گشت کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا تاکہ عالمی اور علاقائی سلامتی کا مل کر دفاع کیا جا سکے۔اقتصادی محاذ پر دونوں ممالک نے سول ایوی ایشن اور جہاز سازی کی صنعتوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل اکانومی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سرحد پار ای کامرس اور معدنی وسائل کی تلاش کے شعبوں میں بھی مشترکہ منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔اعلامیے کے آخر میں ماسکو اور بیجنگ نے ایشیا پیسیفک خطے میں نیٹو کے مشرق کی طرف پھیلاؤ کو امن کیلئے نقصان دہ قرار دیا، جبکہ جاپان کے دوبارہ بڑے پیمانے پر مسلح ہونے کے پروگرام کو خطے کے استحکام کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔
یاد رہے کہ ولادیمیر پوتن سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی چین گئے تھے۔ انہوں نے شی جن پنگ سے ملاقات کی تھی لیکن دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہوا نہ ہی ایران جنگ کے تعلق سے کوئی اتفاق رائے قائم ہو سکا تھاجس کی وجہ سے ٹرمپ مایوس ہیں۔