کرکٹ میں کہانیاں بننے کا ایک منفرد انداز ہوتا ہے جو صرف رنز اور وکٹوں سے آگے کی بات ہوتی ہے اور ہفتہ کو گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا پانچواں ٹی۲۰؍ میچ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔
EPAPER
Updated: January 30, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi
کرکٹ میں کہانیاں بننے کا ایک منفرد انداز ہوتا ہے جو صرف رنز اور وکٹوں سے آگے کی بات ہوتی ہے اور ہفتہ کو گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا پانچواں ٹی۲۰؍ میچ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔
کرکٹ میں کہانیاں بننے کا ایک منفرد انداز ہوتا ہے جو صرف رنز اور وکٹوں سے آگے کی بات ہوتی ہے اور ہفتہ کو گرین فیلڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا جانے والا پانچواں ٹی۲۰؍ میچ بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے۔ تمام نگاہیں یقیناً سنجو سیمسن پر مرکوز ہوں گی جو اس سیریز میں پہلی بار اپنی آبائی ریاست میں کھیلنے جا رہے ہیں۔ شاندار ٹائمنگ اور خوبصورت اسٹروک پلے کے لیے مشہور سیمسن کے پاس نہ صرف شائقین کو خوش کرنے کا موقع ہے بلکہ اس سیریز کے آخری میچ کی کہانی میں اپنا نام درج کروانے کا بھی سنہری موقع ہے۔
ہندوستان اس میچ میں برتری کے ساتھ اتر رہا ہے کیونکہ اس نے اب تک چار میں سے تین ٹی۲۰؍ میچ جیتے ہیں لیکن چوتھے میچ میں ۵۰؍ رنز کی شکست نے واضح کر دیا کہ فی الوقت ٹی ۲۰؍ کرکٹ میں کچھ بھی یقینی نہیں ہوتا۔ ہندوستانی بولنگ، خاص طور پر پاور پلے میں کمزور دکھائی دی ہے۔ جسپریت بمراہ کی کارکردگی اوسط رہی ہے، ورون چکرورتی کی عدم موجودگی میں اسپنرز میں تسلسل کی کمی نظر آئی ہے اور ہاردک پانڈیا اگرچہ کارآمد رہے ہیں لیکن ان سے کم وقت میں بہت زیادہ کرنے کی توقع رکھی گئی ہے۔ کل کا سب سے بڑا چیلنج جارحیت اور سمجھ داری کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا، خاص طور پر ایسی کنڈیشنز میں جہاں دوسری اننگز میں اوس اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:زیوریو کو شکست دے کر الکاراز پہلی بار آسٹریلین اوپن کے فائنل میں پہنچے
بیٹنگ کے اعتبار سے ہندوستان کی لائن اپ میں کلاسیکی اسٹروک کھیلنے والے اور دھماکہ خیز بلے بازوں کا عمدہ امتزاج موجود ہے۔ سوریہ کمار یادو شاندار فارم میں ہیں، شیوم دوبے نے چند ہی اوورز میں میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت دکھائی ہے جبکہ رنکو سنگھ اختتامی لمحات میں میچ کو انجام تک پہنچانے میں ماہر ہیں۔ تاہم کہانی بالکل واضح ہے سب کی نظریں سنجو سیمسن پر ہیں۔ تکنیکی طور پر وہ گیپس تلاش کرنے اور آخری اوورز میں تیزی سے رنز بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ذہنی طور پر گھریلو شائقین کے سامنے کھیلنا یا تو انہیں اضافی حوصلہ دے سکتا ہے یا ان پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بین الاقوامی کرکٹ کسی کھلاڑی کے حوصلے کا امتحان لیتی ہے۔ اگر سیمسن چل پڑتے ہیں تو ہندوستان کے پاس بڑا اسکور بنانے یا اس کا کامیاب تعاقب کرنے کا شاندار موقع ہوگا اور سیریز ۱۔۴؍ سے اپنے نام کرنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:’’گاندھی ٹاکس‘‘ کی ریلیز کے تعلق سے ادیتی راؤ حیدری پرجوش ہیں
دوسری جانب نیوزی لینڈ نے چوتھے ٹی۲۰؍ میں اپنی کلاس کی جھلک دکھائی جہاں ٹِم سیفرٹ، ڈیون کون وے اور ڈیرل مچل کی عمدہ کارکردگی نے ہندوستان کی رفتار کو بگاڑ دیا۔ تاہم ان کی بولنگ اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ میٹ ہنری ابتدا میں وکٹ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کائل جیمیسن اچھا باؤنس حاصل کرتے ہیں لیکن اسپنرز اب تک کنڈیشنز میں مسلسل دباؤ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ اگر نیوزی لینڈ کو آخری لمحات میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو مچل سینٹنر اور ایش سوڑھی کو غیر معمولی کارکردگی دکھانا ہوگی۔