Updated: July 26, 2026, 10:55 AM IST
|
Mohammad Habeeb
| Mumbai
دونوں کرداروں کے دلوں کے زخم ابھی بھرے نہیں کہ کہانی ذاتی دشمنی سے نکل کر سیاسی طاقت کی جنگ تک جا پہنچتی ہے،اداکاری بہتر ہے۔
ویب سیریز’ ٹھکراکےمیرا پیار۲ ‘ کےایک منظر میںسوچیتا باسو اور دھول ٹھاکرکو دیکھا جاسکتا ہے- تصویر:آئی این این
۲۰۲۴ءمیںجب ویب سیریز ’ٹھکرا کے میرا پیار‘کا پہلا سیزن ریلیز ہوا تھا تو اس نےاپنی ایک الگ مداح برادری بنا لی تھی۔ اب تقریباً ۲؍سال بعد اس کا دوسرا سیزن بھی ناظرین کے سامنے آ گیا ہے۔ یہ سیزن پہلے حصے کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے شانویکا چوہان اور کلدیپ کمار کے رشتے میں محبت، دھوکہ، پچھتاوا اور انتقام کے جذبات کی نئی پرتیں کھولتا ہے۔ دونوں کرداروں کے دلوں کے زخم ابھی بھرے نہیں کہ کہانی ذاتی دشمنی سے نکل کر سیاسی طاقت کی جنگ تک جا پہنچتی ہے، جس سے داؤ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ سیریز کے کئی حصے دلچسپ ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ پرانے اور گھسے پٹے اندازِ کہانی سے خود کو مکمل طور پر آزاد نہیں کر پاتی۔’ٹھکرا کے میرا پیار سیزن۲‘محبت، انتقام اور جذباتی کشمکش پر مبنی ایک سنسنی خیز داستان ہے، جس میں پرانے زخم بار بار ہرے ہوتے ہیں اور ان کے خطرناک نتائج سامنے آتے ہیں۔
کہانی
دوسرے سیزن کی کہانی پہلے سیزن کے ڈرامائی واقعات کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے، مگر اس بار طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل چکاہے۔ پہلے سیزن میں شانویکا چوہان (سنچیتا باسو) نے کلدیپ کمار (دھول ٹھاکر) کو ذلیل و رسوا کرنے کے ساتھ اس کی بسائی ہوئی دنیابھی اجاڑ دی تھی۔ اب نئے سیزن میں کلدیپ اپنے ماضی کی غلطیوںپرشدید پچھتاوے کا شکار ہے اور ان کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب شانویکا انتقام کی آگ میں لیے گئے اپنے فیصلوں کی قیمت چکاتے ہوئے اپنے والد اور شوہر، دونوں کو کھو دیتی ہے۔ اس سانحے کے بعد وہ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُرعزم نظر آتی ہے۔ سیتاپور کی سیاسی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے وہ سیاست کے میدان میں قدم رکھتی ہے اور طاقتور دادو (روی ساہ) کا مقابلہ کرنےکا فیصلہ کرتی ہے۔چوتھے ایپی سوڈ کے اختتام پر کہانی ایک دلچسپ موڑ اختیار کرتی ہے، جب شانویکا پر ایک نامعلوم حملہ آور قاتلانہ حملہ کرتا ہے۔ یہ سب اسی وقت ہوتا ہے جب اس کی برسوں بعد کلدیپ سے دوبارہ ملاقات ہوتی ہے۔شانویکا اور کلدیپ کی یہ ملاقات پرانے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیتی ہے۔ وقت کے ساتھ دونوں کی زندگیاں بدل چکی ہیں، لیکن دھوکے، پچھتاوے اور انتقام کے جذبات اب بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ان کی اس کشمکش کا انجام جاننے کے لیے سیریز دیکھنا ضروری ہے۔
ہدایت کاری
ہدایت کار شردھاپاسی جے رتھ، مصنف کمل پانڈے اور تخلیق کار سچن پانڈے نےناظرین کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے متعدد ڈرامائی موڑاور غیر متوقع واقعات شامل کیےہیں۔ تاہم کئی دلچسپ لمحات کے باوجود یہ سیزن اکثر پہلے سیزن کا ہی ایک توسیعی حصہ محسوس ہوتا ہے۔
سیریز کی جذباتی اور انتقامی فضا میں راج کمار راؤ اور کریتی کھربندا کی فلم ’شادی میں ضرور آنا‘کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ رومانس، سیاست اور تھرلر کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن ان عناصر میں مطلوبہ توازن برقرار نہیں رہتا۔دوسرے سیزن کی ایک بڑی خوبی اس کی رفتار ہے۔ ہر ایپی سوڈ تقریباً ۳۰؍منٹ سے کم دورانیے کا ہے، جس کے باعث کہانی تیزی سے آگے بڑھتی ہے اور ناظرین کو بور ہونےکاموقع نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں مسلسل دیکھنا آسان محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے پہلا سیزن دیکھا ہو۔البتہ اسکرین پلے میں کئی ایسے موڑ ہیں جن کا اندازہ پہلے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ متعدد واقعات اسی طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں جیسے ناظرین پہلے سے توقع کر رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے حیرت کا عنصر کمزور پڑ جاتا ہے۔
اداکاری
اداکاری کے لحاظ سے سنچیتا باسو پورے سیزن میں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ شانویکا کے کردار میں وہ ایک ایسی عورت کی تصویر پیش کرتی ہیں جو دھوکے کے بعد اندر سے سخت ہو چکی ہے، مگر اس کے دل کے زخم اب بھی تازہ ہیں۔دھول ٹھاکر نے بھی کلدیپ کے پیچیدہ کردار کو پوری دیانت داری کے ساتھ نبھایا ہے۔ ان کی اداکاری کردار کی اندرونی کشمکش کو مؤثر انداز میں ظاہر کرتی ہے۔
نتیجہ
اگر آپ نے ’ٹھکرا کے میرا پیار‘کا پہلا سیزن دیکھا اور پسند کیا تھاتو دوسرا سیزن بھی جیو ہاٹ اسٹارپر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کسی بالکل نئی، غیر متوقع اور سنسنی خیز کہانی کی تلاش میں ہیں تو یہ سیریز آپ کی توقعات پر پوری نہیں اترے گی۔