ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے ہندوستان کے خلاف آٹھ وکٹ سے شکست کے بعد کہا کہ عالمی چیمپئن ٹیم کو اس کی اپنی سرزمین پر ٹکر دینے کے لیے پانچ میچوں کی ٹی ۲۰؍ سیریز کے باقی مقابلوں میں ان کی ٹیم کو غلطیوں سے زیادہ درست فیصلے کرنے ہوں گے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 8:02 PM IST | New Delhi
ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے ہندوستان کے خلاف آٹھ وکٹ سے شکست کے بعد کہا کہ عالمی چیمپئن ٹیم کو اس کی اپنی سرزمین پر ٹکر دینے کے لیے پانچ میچوں کی ٹی ۲۰؍ سیریز کے باقی مقابلوں میں ان کی ٹیم کو غلطیوں سے زیادہ درست فیصلے کرنے ہوں گے۔
ویسٹ انڈیز کے کپتان شائی ہوپ نے ہندوستان کے خلاف آٹھ وکٹ سے شکست کے بعد کہا کہ عالمی چیمپئن ٹیم کو اس کی اپنی سرزمین پر ٹکر دینے کے لیے پانچ میچوں کی ٹی ۲۰؍ سیریز کے باقی مقابلوں میں ان کی ٹیم کو غلطیوں سے زیادہ درست فیصلے کرنے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایک اور یادگار شاہکار کے بعد میسی نے آنسوؤں کے ساتھ ارجنٹائنا کو الوداع کہہ دیا
ہوپ نے کہا کہ ہندوستان میں کھیلتے ہوئے بہترین کرکٹ کھیلنا ضروری ہے کیونکہ اسے شکست دینا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا’’ہمیں اپنے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتری کے راستے تلاش کرنے ہوں گے اور اگلے میچ میں واپسی کرنی ہوگی۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے بڑا اسکور نہ بنا پانے پر دفاع کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ۱۷۱؍ رن کا ہدف ہونے کے ساتھ نمی کے باعث گیند گیلی اور پچ زیادہ ہموار ہوگئی، جس سے گیندبازوں کے لیے مشکلات بڑھ گئیں۔ ان کے مطابق ہندوستانی اسپن گیندبازوں کو پچ سے اسپن بھی ملی، لیکن ویسٹ انڈیز کو ایسا موقع نہیں مل سکا۔
ویسٹ انڈیز نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے ۱۰؍ اوورز میں ۳؍ وکٹ پر۸۲؍ رن بنائے تھے، جس میں ہوپ ۴۱؍ اور شیرفین ردرفورڈ ۱۸؍ رن پر کھیل رہے تھے، لیکن ۱۶؍ویں اوور تک ٹیم کا اسکور آٹھ وکٹ پر ۱۳۵؍ رن ہوگیا۔ ہندوستان کے آف اسپنر نمن دھیر نے ہوپ، روماریو شیپرڈ اور شمر اسپرنگر کو آؤٹ کیا۔ ہوپ نے کہا کہ ٹیم نے دھیر کو محض دوسرے یا تیسرے اسپنر کے طور پر سمجھنے کی غلطی کی، حالانکہ اس دن وہ بہترین گیندبازی کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ابھیشیک بچن کا انکشاف: شاہ رخ خان نے میرے کریئر کی ’ذاتی ذمہ داری‘ لی
ہوپ نے کہا کہ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد ہندوستان کے لیے راستے کھل گئے اور ان کی ٹیم اننگز کے آخری مرحلے میں بکھر گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو حالات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوئے کچھ وقت دینا چاہیے تھا، کیونکہ وکٹیں ہاتھ میں رہنے پر آخری اوورز میں تیزی سے رن بنائے جاسکتے تھے۔
دریں اثنا، پانچویں نمبر پر آنے والے شیرفین ردرفورڈ نے ۳۴؍ گیندوں پر ۵۶؍ رن بنا کر ویسٹ انڈیز کی جانب سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ہوپ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ردرفورڈ اس فارمیٹ میں اچھی فارم میں ہیں اور انہوں نے ٹیم کے لیے کئی شاندار اننگز کھیلی ہیں۔ ون ڈے سیریز میں صفر اور ۲۴؍ رن بنانے والے ردرفورڈ کا ٹی۲۰؍ سیریز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ٹیم کے لیے خوش آئند ہے۔