Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی پوپ لیو پر تنقید، انہیں ’انتہا پسند‘ قرار دیا، کارڈینلز نے امریکی انتظامیہ کو نشانہ بنایا

Updated: April 13, 2026, 8:09 PM IST | Washington

پوپ پر تنقید کے بعد ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر اے آئی سے تیار کردہ تصویر شیئر کی جس میں انہیں سفید لبادے اور سرخ چادر پہنے، عیسیٰ علیہ السلام کے مشابہ روپ میں دکھایا گیا ہے جبکہ پس منظر میں امریکی پرچم، مجسمہ آزادی اور لنکن میموریل سے مشابہ عمارت دکھائی گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پوپ لیو چہار دہم پر براہِ راست حملہ کرتے ہوئے عالمی مسائل پر ان کے موقف کی مذمت کی اور ان پر ”انتہا پسند بائیں بازو“ کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگایا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا کہ پوپ ”جرائم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی کے متعلق انتہائی برے“ ہیں۔ جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ”مجھے نہیں لگتا کہ وہ کوئی بہت اچھا کام کر رہے ہیں... میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔“ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ”میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جسے یہ لگتا ہو کہ ایران کا جوہری ہتھیار رکھنا ٹھیک ہے۔“ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کا الزام: امریکہ نے اسلام آباد معاہدہ سبوتاژ کیا، کشیدگی بڑھ گئی

ٹرمپ نے عیسیٰ علیہ السلام کے روپ میں اپنی تصویر شیئر کی

اس تنقید کے بعد ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر مصنوعی ذہانت ( اے آئی) سے تیار کردہ تصویر شیئر کی جس میں انہیں سفید لبادے اور سرخ چادر پہنے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام کے جیسے روپ میں دکھایا گیا ہے اور انہوں نے اسپتال کے بستر پر لیٹے معمر شخص کے سر پر اپنا ایک ہاتھ رکھا ہوا ہے۔ ان کے دوسرے ہاتھ میں چمکتی ہوئی روشنی دکھائی گئی ہے جو بیمار شخص پر مرکوز ہے۔ بستر کے گرد کئی شخصیات موجود ہیں، جن میں نرس، فوجی اور عام شہری شامل ہیں۔ اس تصویر میں سیاسی منظر کشی کو مذہبی اور فوجی علامات کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تصویر کے پسِ منظر میں امریکی پرچم، مجسمہ آزادی اور لنکن میموریل سے مشابہ عمارت دکھائی گئی ہے۔ ٹرمپ کے اوپر، روشن آسمان میں فرشتوں سے مشابہ متعدد پروں والی شکلیں شامل ہیں۔ لڑاکا طیارے اور دو عقاب بھی نظر آ رہے ہیں، ساتھ ہی آتش بازی جیسی روشنی کے جھماکے بھی دکھائے گئے ہیں۔

پوپ لیو چہار دہم کا جواب؛ بحث میں الجھنے سے انکار

امریکی صدر کی جانب سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے پوپ لیو چہار دہم نے کہا کہ وہ جنگ کے خلاف آواز اٹھانا جاری رکھیں گے لیکن ٹرمپ کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کریں گے۔ پوپ نے ایک فلائٹ کے دوران رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ان کے ساتھ بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ مجھے نہیں لگتا کہ انجیل کے پیغام کا غلط استعمال اس طرح کیا جانا چاہئے جیسے کچھ لوگ کر رہے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”میں امن اور مکالمہ کو فروغ دینے اور ممالک کے درمیان کثیر جہتی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے جنگ کے خلاف بلند آواز میں بولتا رہوں گا تاکہ مسائل کے منصفانہ حل تلاش کئے جا سکیں۔“ 

پوپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے کردار کو سیاسی نہیں سمجھتے اور ان کی توجہ امن کے فروغ اور انسانی مصائب کے ازالے پر مرکوز ہے۔ اس سے قبل، سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں ایک دعائیہ تقریب کے دوران انہوں نے خبردار کیا تھا کہ عالمی تنازعات پر ”قادرِ مطلق ہونے کا وہم“ اثر انداز ہو رہا ہے۔ انہوں نے عالمی لیڈران پر زور دیا کہ وہ امن کیلئے مذاکرات کریں۔ پوپ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ سیاسی لیڈران کے ساتھ براہِ راست رابطہ کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ”امن کیلئے کام کرنے کیلئے حکام، سیاسی رہنماؤں اور کانگریس کے اراکین سے رابطہ کریں...“ 

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد مذاکرات ناکام، امریکہ کا ایران پر نئے حملوں پر غور: رپورٹ

کارڈینلز کی امریکی حکومتی پالیسیوں پر تنقید

اس درمیان سینئر امریکی کیتھولک لیڈران نے کھلے عام امریکی انتظامیہ پر تنقید کی جس کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ کارڈینلز بلیز کپچ، رابرٹ میک ایلروئے اور جوزف ٹوبن نے ایک مشترکہ انٹرویو میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ کارڈینل میک ایلروئے نے کہا کہ ”کیتھولک تعلیمات کے مطابق یہ کوئی ’جائز جنگ‘ نہیں ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی کا مقصد ”انصاف اور امن کی بحالی“ ہونا چاہئے۔

کارڈینل کپچ نے اس بات پر تنقید کی کہ کس طرح متاثرین کو پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم جنگ کے متاثرین کی تذلیل کر رہے ہیں اور غیر انسانی طریقے سے پیش کررہے ہیں۔“ انہوں نے ایسی منظر کشی کو ”گھناؤنی“ قرار دیا۔ کارڈینل ٹوبن نے جنگ کے تئیں عوامی بے چینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ چرچ لیڈران ”ہر سطح پر امن کو لاحق خطرات کے بارے میں لوگوں کی بے چینی سے باخبر ہیں۔“ 

پال کوکلے نے بھی ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ”میں اس بات پر دل گرفتہ ہوں کہ صدر نے ’ہولی فادر‘ (پوپ) کے بارے میں اتنے توہین آمیز الفاظ لکھنے کا انتخاب کیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ پوپ ”ان کے حریف نہیں ہیں... وہ مسیح کے نائب ہیں جو انجیل کی سچائی کے مطابق بات کرتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: پیڈرو سانچیز کا مشرق وسطیٰ، یوکرین میں تنازعات کے خاتمے کا مطالبہ: رپورٹ

امیگریشن پالیسیوں پر خدشات

کارڈینلز نے امریکی امیگریشن پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ کارڈینل ٹوبن نے اس کے نفاذ کے طریقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”کسی نہ کسی کو تو اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔“ کارڈینل میک ایلروئے نے بیان دیا کہ کمیونٹیز ”خوف کے سائے“ میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ کچھ علاقوں میں ہسپانوی زبان میں ہونے والی چرچ سروسیز میں حاضری میں ۳۰ فیصد کمی آئی ہے۔ کارڈینل کپچ نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے اقدامات کیلئے عوامی حمایت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ جاننا چاہیں گے کہ کیتھولک ”بغیر کسی امتیاز کے بڑے پیمانے پر ملک بدری“ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK