• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جب اسکی حمایت میں ہجوم اکٹھا ہوتا ہے تو جیل میں اسے طاقت ملتی ہے: عمرخالد کی ماں

Updated: February 18, 2026, 4:04 PM IST | New Delhi

نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے مقدمے میں پانچ برس سے قید جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کی والدہ نے کتاب کی تقریبِ رونمائی میں بیٹے کے حوصلے اور انصاف کی امید کا ذکر کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ طویل قید اور ضمانت مسترد ہونے کے بعد جیلوں میں بند نوجوانوں کیلئے انصاف کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

Omar Khalid`s mother Sabiha Khanum and Omar Khalid. Photo: INN
عمر خالد کی ماں صبیحہ خانم اور عمر خالد۔ تصویر: آئی این این

عمر خالد کی والدہ صبیحہ خانم نے منگل کو اپنے بیٹے پر مضامین کے ایک مجموعے کی اشاعت کی تقریب میں جمع بڑے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’آپ سب کو یہاں کھڑا دیکھنا عمر کیلئے بہت بڑی طاقت کا ذریعہ ہوگا۔ ‘‘ تاہم، انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اکثر عمر ہی اپنے خاندان کیلئے حوصلے کا باعث بنتا رہا ہے۔ سابق جے این یو طالب علم عمر گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے جیل میں ہے۔ اس پر نئے شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں مبینہ کردار کے سبب انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وہ احتجاج جنہیں بعد میں پولیس نے۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات سے جوڑا۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ مقدمے کی سماعت ابھی تک شروع نہیں ہوئی۔ 
صبیحہ خانم نے کہا:’’جب سپریم کورٹ نے عمر اور شرجیل کی ضمانت مسترد کی تو ہمارا پہلا خیال یہ تھا کہ ہم عمر کا سامنا کیسے کریں گے؟ ہم اسے امید کیسے دلائیں گے؟ کیونکہ ہمیں سپریم کورٹ سے ضمانت بلکہ انصاف کی بڑی امید تھی، چاہے وہ تاخیر سے ہی کیوں نہ ملتا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’فیصلے کے بعد جب ہم نے اس سے بات کی تو ہمیں اسے حوصلہ دینے کیلئے الفاظ تلاش کرنے کے بجائے، وہی ہمارا حوصلہ بڑھا رہا تھا۔ فیصلے سے ایک دن پہلے اس نے کسی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ وہ ٹھیک ہے اور مجھے فکر نہ کروں۔ وہ جیل سے باہر موجود ہم لوگوں کے بارے میں خود سے زیادہ فکر مند تھا۔ ‘‘
خانم نے مزید کہا:’’شاید اسے بہت زیادہ امید نہیں تھی، لیکن امید تو بہرحال ٹوٹی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عمر متاثر نہیں ہوا۔ آخر وہ بھی انسان ہے۔ میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں کہ ہم تو اپنے لوگوں کے درمیان ہیں اور آزادانہ اپنے کام کر سکتے ہیں، لیکن اصل تکلیف سہنے والا عمر ہے۔ ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ جب آپ کی آنکھ جیل کی کوٹھری کے اندھیرے میں کھلتی ہے اور پھر نیند واپس نہیں آتی تو کیسا محسوس ہوتا ہوگا۔ مگر وہ ایسی باتوں کا ذکر نہیں کرتا۔ وہ صرف ہمیں تسلی دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ‘‘اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے ایک سوال اٹھایا جس نے حاضرین کو جذباتی کر دیا:’’جج صاحبان، وکلاء اور عدالت کی محفل جانتی ہے کہ یہ سب جھوٹ کا بکھیڑا ہے۔ اتنا وقت گزر چکا ہے۔ ہم ان تمام بچوں کیلئے انصاف کیلئےکیا کریں جو جیل میں ہیں ؟‘‘تقریب میں ’عمر خالد اینڈ ہز ورلڈ‘ کی۱۹۹؍ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ یہ تقریب پریس کلب آف انڈیا میں منعقد ہوئی۔ 
اس مجموعے میں مؤرخ رومیلا تھاپر اور رام چندرا گہا، ماہرِ تعلیم آنند تیلٹمبڈے، مصنف مکل کیسوان، کانگریس کے رکنِ اسمبلی جگنیش میوانی، نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی اور اداکار پرکاش راج اور سوارا بھاسکرکے مضامین اور پیغامات شامل ہیں۔ اس کتاب میں عمر کے اپنے مضامین بھی شامل ہیں۔ صحافی سری نواسن جین، جنہوں نے کتاب کی رونمائی کی، نے کہا:’’جیسا کہ ایک مشہور فلسفی نے کہا تھا، ’آپ کرونولوجی سمجھئے‘۔ یہ کرونولوجی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی۔‘ کہ صبح آپ اپنے ناقدین کو جیل میں ڈال دیتے ہیں اور شام کو کہتے ہیں کہ آپ جمہوریت کی ماں ہیں۔ اتنا ہی مضحکہ خیز یہ بھی ہے کہ جب حکمران نظام اور اس کے حامی، اور میڈیا میں ان کے چیئر لیڈرز، ریاستی طاقت کے غلط استعمال کے شواہد کے سامنے آتے ہیں تو وہ بار بار یہی گھسا پٹا جملہ دہراتے ہیں کہ قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔‘‘
انہوں نے آسام کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے۔ ‘‘جب اس معاملے پر سپریم کورٹ میں عرضیاں دائر کی جاتی ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ عدالت کسی سیاسی اکھاڑے میں داخل نہیں ہونا چاہتی۔ آسام بی جے پی کا سرکاری ہینڈل اسی وزیر اعلیٰ کی تصاویر کے ساتھ نسل کشی پر مبنی میمز پوسٹ کرتا ہے، اور کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ ‘‘کتاب کی شریک مدیر بانوجیوتسنا لہری نے گزشتہ پانچ برس کے جذباتی اثرات کا ذکر کیا۔ ’’دوستوں کیلئے جو جیل میں اس سے ملنے جاتے رہے اور اس کی خیریت کا خیال رکھتے رہے، یہ صرف انصاف کی بڑی جدوجہد نہیں بلکہ روزانہ کی بے چینی کی کشمکش بھی رہی ہے، یہ مسلسل احساس کہ عمر جیل میں ہے۔ ‘‘انہوں نے بیان کیا کہ اس کی غیر موجودگی روزمرہ کے لمحات کو کیسے متاثر کرتی ہے:’’ہم اکثر ایسے ریستوراں کو دیکھتے ہیں جو عمر کیلئے موزوں ہوں اور سوچتے ہیں کہ جب وہ واپس آئے گا تو کیا یہ اسے لے جانے کیلئے محفوظ جگہ ہوگی۔ یہ بے چینی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK