Updated: August 11, 2026, 12:03 PM IST
| Washington
امریکی عدالت نے گوتم اڈانی، ساگر اڈانی اور ان کے ساتھی وینیت جین کے خلاف سیکیورٹیز اور وائر فراڈ کے تمام فوجداری الزامات خارج کر دیے، جس کے بعد ان مقدمات میں دوبارہ کارروائی کی گنجائش نہیں رہی۔ تاہم جج نکولس گاروفِس نے امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے مقدمہ ختم کرنے کے طریقۂ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے میں ’بے قاعدگیوں‘ کی نشاندہی کی ہے۔
گوتم اڈانی۔ تصویر: آئی این این
پیر کو ایک امریکی عدالت نے گوتم اڈانی، ساگر اڈانی اور ان کے ساتھی وینیت جین کے خلاف جاری طویل قانونی معاملے کا خاتمہ کرتے ہوئے امریکی حکومت کی درخواست پر تینوں کے خلاف تمام فوجداری الزامات خارج کر دیے۔ امریکی ریاست نیویارک کے مشرقی ضلع کی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفِس نے اڈانی سے متعلق سیکیورٹیز فراڈ اور وائر فراڈ کے الزامات کو مستقل طور پر خارج کر دیا۔ الزامات کو ’’وِد پریجوڈِس‘‘ خارج کرنے کا مطلب ہے کہ ان مقدمات میں دوبارہ کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔ تاہم اپنے فیصلے میں جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں محکمۂ انصاف کی جانب سے اڈانی کے خلاف الزامات کی پیروی ختم کرنے کے فیصلے میں موجود ’’بے قاعدگیوں‘‘ پر تشویش کا اظہار کیا۔
دوسری جانب عدالت نے گوتم اور ساگر اڈانی اور امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو بھی حتمی شکل دے دی۔ اس معاہدے کے تحت اڈانی فریق امریکی حکومت کو ۱۸؍ ملین ڈالر ادا کرے گا، تاہم اسے کسی جرم کا اعتراف نہیں کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے خلاف سول سیکورٹیز فراڈ کے الزامات بھی باضابطہ طور پر نمٹا دیے جائیں گے۔ ایک اہم فیصلے میں جج گاروفِس نے مقدمے کے دیگر ملزمان کے خلاف رشوت ستانی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے سے متعلق الزامات پر فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے مغربی ایشیا کے بحران کے درمیان ایل این جی کے ذرائع کو متنوع بنایا ہے
اڈانی کے خلاف کیا الزامات تھے؟
یہ فیصلہ نومبر ۲۰۲۴ء میں امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے فردِ جرم منظر عام پر لائے جانے کے تقریباً دو سال بعد آیا ہے۔ فردِ جرم میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اڈانی گروپ اور اس کے ساتھی ہندوستانی سرکاری اداروں سے منافع بخش شمسی توانائی کے منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے ۲۶۵؍ ملین ڈالر کی رشوت ستانی کی اسکیم میں ملوث تھے۔ اس کے علاوہ اڈانی خاندان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے گروپ کی انسدادِ بدعنوانی سرگرمیوں کے بارے میں غلط بیانات دے کر امریکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔ اڈانی کے ساتھیوں پر امریکی حکومتی اداروں کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے اور مقدمے سے متعلق شواہد تلف کرنے کی کوشش کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔ الگ سے امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی اسی معاملے میں گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف سول الزامات عائد کیے تھے۔
طویل قانونی جنگ کے بعد امریکی محکمۂ انصاف نے مئی میں عدالت کو بتایا کہ وہ گوتم اڈانی اور ان کے ساتھیوں کے خلاف مزید قانونی کارروائی آگے بڑھانے سے گریز کرے گا۔ بعد ازاں جولائی میں امریکی محکمۂ انصاف کے پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹرینٹ میک کوٹر نے ایک عدالتی دستاویز میں کہا کہ اڈانی گروپ کے خلاف یہ الزامات سرے سے عائد ہی نہیں کیے جانے چاہییں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ بڑی حد تک ہندوستان، جو ایک غیر ملکی دائرۂ اختیار ہے، سے متعلق معاملات پر مبنی تھا اور اس کی وجہ سے امریکی داخلی معاملات سے وسائل ہٹ گئے۔ اس فیصلے نے خاصا تنازع پیدا کیا، جبکہ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اڈانی گروپ کی پیشکش نے محکمۂ انصاف کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان نے عوامی بیت الخلا کو ۶؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار ڈالر کے سیاحتی مقام میں بدل دیا
ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر جج گاروفِس نے محکمۂ انصاف کو ہدایت دی کہ وہ اڈانی کے خلاف فردِ جرم خارج کرنے کی وجوہات فراہم کرے۔ انہوں نے محکمۂ انصاف کی جانب سے الزامات خارج کرنے کی درخواست کو ’’مختصر، بے رنگ اور محض نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا۔ گاروفِس نے گوتم اڈانی کو یہ ہدایت بھی دی کہ وہ حلف نامہ جمع کرائیں اور ان سوالات کے جواب دیں کہ آیا ہندوستانی ارب پتی کو اس ممکنہ ’’لین دین‘‘ یا کسی فائدے کی پیشکش کا علم تھا جو ان کے خلاف قانونی کارروائی ختم کرنے کے امریکی محکمۂ انصاف کے فیصلے کے بدلے کسی نے کی ہو۔
اپنے جواب میں اڈانی نے حلفاً کہا کہ انہیں ایسی کسی پیشکش یا باہمی فائدے کے معاہدے کا علم نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ان کے وکلا نے یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے ان کے عوامی طور پر اعلان کردہ ارادے کو ان کے خلاف قانونی الزامات کے تصفیے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اڈانی نے مزید کہا کہ محکمۂ انصاف نے واضح کر دیا تھا کہ امریکہ میں سرمایہ کاری کے وعدے اس کے قانونی کارروائی آگے بڑھانے یا نہ بڑھانے کے فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔ یہ مؤقف پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹرینٹ میک کوٹر کے بیانات سے بھی مطابقت رکھتا تھا۔
یہ قانونی کشمکش بالآخر پیر کو جج گاروفِس کے اس حکم پر ختم ہوئی جس کے تحت گوتم اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے گئے۔ گاروفِس نے کہا کہ محکمۂ انصاف کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر عدالت اس بات سے مطمئن ہے کہ اڈانی کی امریکہ میں ۱۰؍ ارب ڈالر سرمایہ کاری کی پیشکش محکمۂ انصاف کی جانب سے الزامات کی پیروی ختم کرنے کے فیصلے میں ’’کوئی عامل نہیں‘‘ تھی۔ تاہم جج نے مقدمے کے تمام ملزمان کے خلاف تمام الزامات خارج کرنے کے امریکی حکومت کے اقدام پر سخت سوالات اٹھائے۔ امریکی حکومت کی جانب سے مقدمے سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اپنے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے گاروفِس نے ٹرینٹ میک کوٹر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
عدالتی فیصلے میں کہا گیا، ’’جیسا کہ اس فیصلے میں متعدد مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، فردِ جرم خارج کرنے کے فیصلے میں موجود بے قاعدگیاں تشویش کا باعث ہیں۔ موجودہ ریکارڈ کی بنیاد پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میک کوٹر نے متعدد وفاقی دفاتر کے بے شمار عہدیداروں کی پیشہ ورانہ آرا کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی انفرادی رائے کو ترجیح دی۔‘‘ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ میک کوٹر نے یہ فیصلہ بڑی حد تک دفاعی وکلا کے ساتھ مل کر کیا اور بظاہر ایف بی آئی اور ایس ای سی کے ان اہلکاروں سے کوئی رائے نہیں لی جنہوں نے مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کی تھیں۔ اسی طرح محکمۂ انصاف، ایس ای سی اور امریکی اٹارنی کے دفتر کے ان وکلا سے بھی بظاہر مشاورت نہیں کی گئی جنہوں نے یہ مقدمہ پیش کیا تھا۔ عدالت نے اس صورتحال کو ’’انتہائی غیر معمولی‘‘ قرار دیا۔ فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ الزامات خارج کرنے کا فیصلہ کرنے والا واحد فرد میک کوٹر تھا۔ عدالت نے میک کوٹر کے اس اعتراف کا بھی حوالہ دیا کہ امریکی حکومت کے موجودہ یا سابق وکلا میں سے کچھ افراد الزامات ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
اڈانی انٹرپرائزز کا ایران سے متعلق الگ تصفیہ
دوسری جانب مئی میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) کے ساتھ ۲۷۵؍ ملین ڈالر کے تصفیے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ یہ معاملہ ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق تھا۔