امریکی محکمہ انصاف نے ہارورڈ یونیورسٹی پر کیمپس میں سام دشمنی روکنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 9:07 AM IST | Massachusetts
امریکی محکمہ انصاف نے ہارورڈ یونیورسٹی پر کیمپس میں سام دشمنی روکنے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا۔
امریکہ کے محکمہ انصاف نے جمعہ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے خلاف ایک اہم مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں یونیورسٹی کی قیادت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ کیمپس میں سام دشمنی اور امتیازی سلوک سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ کیس میساچوسٹس کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا اور اسے امریکی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی نگرانی کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ انصاف نے اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا کہ ہارورڈ نے ’’یہودیوں اور اسرائیلیوں کے خلاف سام دشمنی پر آنکھیں بند کر لیں‘‘ اور اس طرح سول رائٹس ایکٹ کے ٹائٹل ششم کی خلاف ورزی کی، جو وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والے اداروں میں امتیازی سلوک کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ مقدمے میں نہ صرف اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے بلکہ اربوں ڈالر کے وفاقی فنڈز کی ممکنہ واپسی اور آئندہ گرانٹس پر پابندی کا اشارہ بھی دیا گیا ہے۔
یہ قانونی کارروائی ٹرمپ انتظامیہ اور ہارورڈ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نئی شدت کی علامت ہے۔ انتظامیہ طویل عرصے سے ہارورڈ کو اپنی وسیع تر پالیسی کے تحت نشانہ بنا رہی ہے، جس کا مقصد امریکی تعلیمی اداروں میں احتساب اور نگرانی کو سخت کرنا ہے۔ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ماہ قبل ایک وفاقی جج نے انتظامیہ کی جانب سے ہارورڈ کی ریسرچ فنڈنگ روکنے کی کوشش کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے باوجود، حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے کیمپس میں دشمنانہ ماحول کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، خاص طور پر جب متاثرین یہودی یا اسرائیلی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سے متاثرہ کمیونٹی کو یہ تاثر ملا کہ انہیں تعلیمی مواقع تک مساوی رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ یہ کیس ایک وسیع تر رجحان کا حصہ بھی ہے، کیونکہ حال ہی میں محکمہ انصاف نے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے خلاف بھی اسی نوعیت کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں اس پر ’’شدید سام دشمنی‘‘ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
تازہ پیش رفت کے مطابق، اس مقدمے کے ممکنہ نتائج نہ صرف ہارورڈ بلکہ امریکہ کے دیگر تعلیمی اداروں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ کیس اس بات کا تعین کرے گا کہ کیمپس میں امتیازی سلوک سے نمٹنے کے حوالے سے وفاقی قوانین کو کس حد تک سختی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔