Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں امریکی فوجی بنیادی اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب:ٹرمپ

Updated: April 02, 2026, 10:48 AM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز (امریکی وقت کے مطابق)دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے درمیان امریکی فوج کے ’’بنیادی اسٹریٹجک مقاصد‘‘ تقریبا حاصل ہو چکے ہیں ۔

Donald Trump.Photo:PTI
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز (امریکی وقت کے مطابق)دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے درمیان امریکی فوج کے ’’بنیادی اسٹریٹجک مقاصد‘‘ تقریبا حاصل ہو چکے ہیں ۔
عوام سے اپنے خطاب کے دوران  امریکی صدر نے کہا  کہ ’’جیسا کہ میں نے آپریشن ایپک فیوری کے اپنے اعلان میں کہا تھا ، ہمارے مقاصد بہت سادہ اور واضح ہیں ۔ ہم امریکہ کو دھمکانے یا اپنی سرحدوں سے باہر طاقت کا منصوبہ بنانے کی حکومت کی صلاحیت کو منظم طریقے سے ختم کر رہے ہیں۔اس کا مطلب ہے ایران کی بحریہ کو ختم کرنا ، جو اب بالکل تباہ ہو چکی ہے ، ان کی فضائیہ اور ان کے میزائل پروگرام کو اس سطح تک نقصان پہنچانا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا ، اور ان کے دفاعی صنعتی اڈے کو ختم کرنا ۔  ہم نے یہ سب کر لیا ہے... مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ یہ بنیادی اسٹریٹجک مقاصد تکمیل کے قریب ہیں ۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ایران پر حملے تیز کرے گا اور ملک کو’’پتھر کے دور‘‘ میں لانے کی دھمکی دی ۔
 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران پر اپنے حملوں کو مزید تیز لائے گا۔ بدھ کے روز ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران پر حملوں کی شدت تیز کردے گا انہوں نے ایران کو ’’پتھر کے دور‘‘ میں لانے کی دھمکی بھی دی ہے ۔
عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:"میں آج رات یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم بہت جلد، انتہائی جلد، امریکہ کے تمام فوجی مقاصد حاصل کرنے کی راہ پر ہیں۔ ہم انہیں بہت سخت نشانہ بنانے والے ہیں۔ اگلے دو سے تین ہفتوں میں ہم انہیں وہیں لے جائیں گے جہاں وہ تعلق رکھتے ہیں، یعنی پتھر کے دور میں۔‘‘ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ضرورت نہیں ہے، لیکن وہ اپنے اتحادیوں کی مدد کے لیے اس خطے میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اپوزیشن کے شدید احتجاج کے بعد غیر ملکی عطیات بل موخر


انہوں نےمزید کہا کہ ’’اب ہم مشرق وسطی سے مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اس کے باوجود ہم وہاں اپنے اتحادیوں کی مدد کے لیے موجود ہیں۔ ہمیں وہاں ہونے کی ضرورت نہیں، ہمیں ان کے تیل یا کسی چیز کی ضرورت نہیں، لیکن ہم اپنے اتحادیوں کی خاطر وہاں ہیں۔‘‘اپنے خطاب میں انہوں نے آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس آبی گزرگاہ کی ضرورت نہیں ہے، اور دیگر ممالک کو چاہیے کہ وہ خود اس کی حفاظت کریں۔

یہ بھی پڑھئے:دُھرندھر کی کہانی چوری کرنے اور سیاسی پروپیگنڈہ بنادینے کا الزام


انہوں نے کہا’’امریکہ تقریباً کوئی تیل آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد نہیں کرتا اور آئندہ بھی نہیں کرے گا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جو اس راستے سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں خود اس گزرگاہ کی حفاظت کرنی چاہیے۔ انہیں اس کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ ہم مدد کریں گے، لیکن قیادت انہیں خود کرنی ہوگی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK