Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطینیوں سے ہمدردی، اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ: امریکی سروے

Updated: March 18, 2026, 3:02 PM IST | Washington

ایک امریکی سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کے عوام میں فلسطینیوں سے ہمدردی، اور اسرائیل سے نفرت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، یہ رجحان ڈیموکریٹس اور آزاد رائے دہندگا ن میں نمایاں ہے۔

The current situation in Palestine. Photo: X
فلسطین کی موجودہ صورتحال۔ تصویر: ایکس

 این بی سی نیوز کے ایک نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی عوام کی مشرق وسطیٰ کے بارے میں رائے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز میں فلسطینیوں کے لیے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ اسرائیل کے بارے میں منفی نقطہ نظر رکھنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرمیں۔۲۷؍ فروری سے۳؍ مارچ کے درمیان ملک بھر میں۱۰۰۰؍ رجسٹرڈ ووٹر پر کیے گئے اس سروے کے مطابق،۴۰؍ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ان کی ہمدردیاں اسرائیلیوں کے ساتھ زیادہ ہیں، جبکہ۳۹؍ فیصد نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔یہ نتائج۲۰۱۳ء کے مقابلے میں ڈرامائی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں، جب۴۵؍ فیصد ووٹر کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں جبکہ صرف۱۳؍ فیصد کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: لیلۃ القدر پر مسجد اقصیٰ بند، عالمی سطح پر شدید ردعمل

سروے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مجموعی طور پر اسرائیل کے بارے میں رائے منفی ہوئی ہے۔۲۰۲۶ء میں،۳۹؍ فیصد ووٹرنے کہا کہ وہ اسرائیل کو منفی طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ۳۲؍ فیصد نے مثبت رائے کا اظہار کیا، اور۳۰؍ فیصد غیر یقینی یا غیر جانبدار تھے۔ اس کے برعکس،۲۰۲۳ء میں،۴۷؍ فیصد جواب دہندگان کا مثبت نقطہ نظر تھا اور۲۴؍ فیصد کا منفی۔
بعد ازاں یہ سروے اسرائیل اور فلسطینیوں کے بارے میں رائے کی  بڑھتی ہوئی جماعتی تقسیم کو اجاگر کرتا ہے۔ ریپبلکن کے درمیان، اسرائیل کے لیے حمایت مضبوط ہے۔ تقریباً ۶۹؍فیصد نے کہا کہ وہ اسرائیلیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں، جبکہ۱۳؍ فیصد نے فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ظاہر کی۔ ریپبلکن مجموعی طور پر بھی اسرائیل کو مثبت طور پر دیکھتے ہیں،۵۴؍ فیصد کی مثبت آراء  ہے۔ تاہم، ڈیموکریٹس کے نظریے میں نمایاں طور پر تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹک ووٹروں کا دو تہائی اب کہتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہیں، جبکہ صرف۱۷؍ فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں۔ سروے میں یہ بھی پتہ چلا کہ۵۷؍ فیصد ڈیموکریٹس اب اسرائیل کو منفی طور پر دیکھتے ہیں۔
آزاد ووٹر بھی حالیہ برسوں میں اسرائیل سے دور ہوئے ہیں۔ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ۳۷؍ فیصد آزاد ووٹر فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی رکھتے ہیں جبکہ۲۷؍ فیصد اسرائیلیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ آزاد ووٹروں میں اسرائیل کے بارے میں منفی آراء۲۰۲۳ء میں۲۲؍ فیصد سے بڑھ کر ۴۸؍ فیصد ہوگئیں۔اس کے علاوہ نوجوان ووٹرز میں قابل ذکر تبدیلیاں نظر آئی ہیں۔ سروے کے مطابق۱۸؍ سے ۳۴؍ سال کی عمر کے تقریباً دو تہائی ووٹر اب اسرائیل کو منفی طور پر دیکھتے ہیں۔ ۲۰۲۳ء میں اس عمر کے گروپ کے صرف۳۷؍ فیصد ووٹر اسرائیل کے بارے میں منفی رائے رکھتے تھے۔ نوجوان ووٹرز میں سے صرف۱۳؍ فیصد اب کہتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو مثبت طور پر دیکھتے ہیں۔سروے میں۳۵؍ سے ۴۹؍ اور۵۰؍ سے ۶۴؍ سال کی عمر کے ووٹرز میں مثبت آراء میں اسی طرح کی کمی پائی گئی، حالانکہ بوڑھے امریکی تقابلی طور پر زیادہ اسرائیل حامی ہیں۔۶۵؍ سال اور اس سے زیادہ عمر کے ووٹرز میں،۵۵؍ فیصد اب بھی اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ نے ایران جنگ سے ہاتھ کھینچ لیا، جرمن صدر نے قانونی حیثیت پر سوال اٹھا یا

بدلتی ہوئی عوامی رائے امریکی سیاست کے اندر ایک بڑھتا ہوا مسئلہ بن گئی ہے، خاص طور پر ڈیموکریٹس کے درمیان، جہاں اسرائیل کے بارے میں امریکی پالیسی پر بحث نے تیزی سے کانگریسی پرائمری مقابلوں کو تشکیل دیا ہے۔
واضح رہے کہ این بی سی نیوز نے کہا کہ سروے ٹیلی فون انٹرویوز اور ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھیجے گئے آن لائن سروے کے ذریعے کیا گیا تھا، جس میں غلطی کا امکان کم زیادہ تین اعشاریہ ایک فیصد پوائنٹس ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں۷۲؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اورایک لاکھ ۷۱؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ خطے کا تقریباً۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہوگیا، اقوام متحدہ کے مطابق تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً۷۰؍ بلین ڈالر ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK