Updated: July 29, 2026, 6:04 PM IST
| Tarouba
جیڈن سیلز کی پانچ وکٹ ، جسٹن گریوز اور کیمار روچ کی دو، دو وکٹوں کی شاندار بولنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان کو دوسری اننگز میں صرف ۱۲۰؍ رنز پر ڈھیر کر کے ۹۰؍ رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔ اس فتح کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک، صفر کی برتری حاصل کر لی۔
جیڈن سیلز کی پانچ وکٹ ، جسٹن گریوز اور کیمار روچ کی دو، دو وکٹوں کی شاندار بولنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز نے پہلے ٹیسٹ کے چوتھے روز پاکستان کو دوسری اننگز میں صرف ۱۲۰؍ رنز پر ڈھیر کر کے ۹۰؍ رنز سے کامیابی حاصل کر لی۔ اس فتح کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک، صفر کی برتری حاصل کر لی۔
ویسٹ انڈیز نے چوتھے روز اپنی دوسری اننگز کا آغاز سات وکٹوں پر ۱۲۶؍ رنز سے کیا۔ صبح کے سیشن میں محمد علی نے شمر جوزف کو ۳۸؍ رنز پر بولڈ کر کے اس شراکت کا خاتمہ کیا۔ بعد ازاں محمد عباس نے کیمار روچ کو ۱۸؍ رنز پر آؤٹ کیا جبکہ ۵۵؍ ویں اوور کی پانچویں گیند پر جومیل واریکن کو ۱۴؍ رنز پر بولڈ کر کے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز ۱۸۱؍رنز پر سمیٹ دی۔ تاہم نچلے نمبروں کے بلے بازوں نے ٹیم کی برتری ۱۵۵؍ سے بڑھا کر ۲۱۰؍ رنز تک پہنچا دی، جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔
پاکستان کو جیت کے لیے ۲۱۱؍ رنز کا ہدف ملا، لیکن ویسٹ انڈیز کے تیز گیند بازوں نے آغاز ہی سے اسے شدید دباؤ میں رکھا۔ پاکستان کی جانب سے صرف بابر اعظم ہی مزاحمت کرتے نظر آئے، جبکہ دوسرے بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے رہے۔ ہدف حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے پاس پانچ سے کچھ زیادہ سیشن موجود تھے، مگر وہ بمشکل دو سیشن ہی کھیل سکا۔
یہ بھی پڑھئے:’’اچھے کام کی امید کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں تو کامیابی ضرور ملتی ہے‘‘
تیسرے اوور میں ہی امام الحق، کیمار روچ کی گیند پر وکٹ کیپر شائی ہوپ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد جیڈن سیلز نے اوپنر اذان اویس کو سلپ میں کیچ کروا کر اپنی وکٹوں کا سلسلہ شروع کیا۔ پھر سلمان آغا کو بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ یوں دوپہر کے وقفے تک پاکستان نے ۱۰؍ اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر صرف ۲۸؍رنز بنائے تھے۔
ویسٹ انڈیز کو پوری اننگز سمیٹنے کے لیے مزید صرف ۳۰؍ اوورز درکار تھے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان نے کچھ دیر مزاحمت کرتے ہوئے ۲۱؍رنز کی شراکت قائم کی، لیکن جسٹن گریوز نے شاندار گیند پر رضوان کو بولڈ کر کے یہ شراکت بھی توڑ دی۔ اس کے بعد آنے والے چھ میں سے پانچ بلے باز ایک ہندسے تک محدود رہے، کیونکہ گریوز، روچ اور سیلز کی تیز رفتار بولنگ کے سامنے پاکستانی بیٹنگ مکمل طور پر بے بس دکھائی دی۔
یہ بھی پڑھئے:کل ملک کی تین ریاستوں میں تین اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات، تیاریاں مکمل
پاکستان کی جانب سے آخری وکٹ کی شراکت ہی کچھ دیر مزاحمت کر سکی، جو ۸۲؍ گیندوں تک جاری رہی۔ محمد عباس نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا جبکہ بابر اعظم نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ بابر اعظم ۵۸؍ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ محمد عباس نے ۲۳؍ رنز کی اننگز کھیلی۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی بلے باز دوہرا ہندسہ عبور نہ کر سکا۔ آخرکار ۴۱؍ ویں اوور کی دوسری گیند پر جیڈن سیلز نے محمد عباس کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر کے پاکستان کی دوسری اننگز ۱۲۰؍رنز پر سمیٹ دی اور ویسٹ انڈیز نے۹۰؍ رنز سے کامیابی اپنے نام کر لی۔