Inquilab Logo Happiest Places to Work

فوڈ کارپوریشن نے ایتھنال پلانٹس کو خریداری لاگت سے کم قیمت پر چاول بیچا : مرکز

Updated: July 29, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (FCI) نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایتھنال تیار کرنے والے اداروں کو چاول اپنی اوسط خریداری لاگت سے تقریباً ۴۰؍ فیصد کم قیمت پر فروخت کیے۔ حکومت کے مطابق اس مدت میں ۶۳؍ لاکھ ٹن چاول، جن کی مالیت ۱۴۵۹۶؍ کروڑ روپے تھی، ایتھنال صنعت کو فراہم کیے گئے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مرکزی حکومت نے منگل کو پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (FCI) نے جون ۲۰۲۵ء سے جون ۲۰۲۶ء کے درمیان ایتھنال تیار کرنے والی ڈسٹلریوں کو چاول اپنی اوسط خریداری لاگت سے تقریباً ۴۰؍ فیصد کم قیمت پر فروخت کیے۔ یہ معلومات خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔ حکومت کے مطابق اس مدت کے دوران چاول ۲۲۵۰؍ روپے سے ۲۳۲۰؍ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے فروخت کیے گئے، جبکہ مالی سال ۲۵ء۔۲۰۲۴ء میں ان کی اوسط خریداری لاگت ۳۷۲۰؍ روپے فی کوئنٹل تھی، جو ۲۶۔۲۰۲۵ء میں بڑھ کر ۳۸۸۹؍ روپے فی کوئنٹل ہو گئی۔ اس کے باوجود ایتھنال ڈسٹلریوں کو کم نرخوں پر چاول فراہم کیے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی: مغربی بنگال، مہاراشٹر کا بھی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان

وزارت نے مزید بتایا کہ گزشتہ بارہ ماہ کے دوران FCI نے مجموعی طور پر ۶۳؍ لاکھ ٹن چاول ، جن کی مالیت ۱۴۵۹۶؍ کروڑ روپے تھی، ایتھائل الکحل تیار کرنے والی کمپنیوں کو فراہم کیے۔ ریاستوں کے لحاظ سے ہریانہ کو سب سے زیادہ ۸۴۴۱۴۱؍ ٹن چاول مختص کیے گئے، جبکہ اس کے بعد اتر پردیش (۸۳۸۶۴۵؍ ٹن) ، پنجاب اور ہماچل پردیش (۶۵۸۹۵۲؍ ٹن) ، مغربی بنگال (۵۸۴۶۷۲؍ ٹن) اور مدھیہ پردیش (۴۳۲۴۸۵؍ ٹن) کا نمبر رہا۔ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ نومبر ۲۰۲۶ء سے جون ۲۰۲۷ء کے دوران ایتھنال ڈسٹلریوں کو چاول ۲۳۹۰؍ روپے فی کوئنٹل کے حساب سے فروخت کیے جائیں گے۔ تاہم وزارت نے واضح کیا کہ ایتھنال بنانے والی کمپنیوں کو چاول خریدنے کے لیے کوئی براہِ راست سبسڈی فراہم نہیں کی جاتی اور فروخت مقررہ پالیسی کے تحت کی جاتی ہے۔ 
راجیہ سبھا میں دی گئی معلومات کے مطابق اس عرصے کے دوران دو ایسے معاملات بھی سامنے آئے جن میں ایتھنال کی تیاری کے لیے مختص FCI چاول کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ ان بے ضابطگیوں کا پتہ چلنے کے بعد متعلقہ ریاستی محکمۂ خوراک نے کارروائی شروع کی، جبکہ FCI نے ان دونوں ڈسٹلریوں کو مستقبل میں چاول کی مزید فراہمی روک دی۔ یہ فراہمی حکومت کے ایتھنال ملاوٹ شدہ پیٹرول (Ethanol Blended Petrol) پروگرام کا حصہ ہے، جس کے تحت ملک میں فروخت ہونے والے پیٹرول میں ۲۰؍  فیصد ایتھنال ملانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا مظاہرین کی مشروط رہائی کا حکم

حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد خام تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانا اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا ہے۔ ہندوستان جولائی ۲۰۲۵ء میں مقررہ ہدف سے پانچ سال پہلے ہی پیٹرول میں ۲۰؍ فیصد ایتھنال ملاوٹ کا ہدف حاصل کر چکا ہے۔ تاہم، اس پروگرام پر تنقید بھی جاری ہے۔ متعدد صارفین کا کہنا ہے کہ E20 پیٹرول کے استعمال سے گاڑیوں کی مائلیج متاثر ہوئی ہے اور بعض انجنوں میں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ۵؍ جولائی کو جاری ہونے والے LocalCircles کے ایک سروے کے مطابق ۵۳؍ فیصد پیٹرول گاڑیوں کے مالکان نے حکومت کی جانب سے E20 پروگرام کے نفاذ کو ’’غیر مؤثر‘‘ یا ’’انتہائی ناقص‘‘ قرار دیا۔ 
پارلیمنٹ میں سامنے آنے والے ان اعداد و شمار کے بعد ایک بار پھر اس بات پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ عوامی ذخائر سے حاصل ہونے والے چاول کو کم قیمت پر ایتھنال صنعت کو فراہم کرنے کی پالیسی کس حد تک معاشی طور پر مناسب ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ملک کی توانائی کی حکمتِ عملی اور ایندھن میں ایتھنال ملاوٹ کے قومی پروگرام کو مستحکم بنانے کے لیے ضروری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK