Updated: July 10, 2026, 12:08 PM IST
|
Agency
| Paris
شدید گرمی کی لہروں نے پورے براعظم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،یورپی ممالک میں جون میں شدید گرمی کی لہر سے ہزاروں اموات ہوئیں۔
گرمی۔ تصویر:آئی ا ین این
شدید گرمی کی لہروں نے پورے براعظم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے یورپی ممالک میں جون کے دوران شدید گرمی کی لہر سے ہزاروں اموات ہوئیں، جن میں زیادہ تر فرانس، اسپین اور بلجیم میں رپورٹ کی گئیں۔یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق گزشتہ ماہ مغربی یورپ میں اب تک کا سب سے گرم جون ریکارڈ کیا گیا۔ درجہ حرارت۱۹۹۱ء سے۲۰۲۰ء کے اوسط کے مقابلے میں۳؍ ڈگری سیلسیس (۵ء۴؍ ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ رہا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو جاری کیے گئے ادارے کے بیان کے مطابق مغربی یورپ کا اوسط درجہ حرارت۲۰ء۷۴؍ ڈگری سیلسیس(۶۹ء۳۳؍ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا، جس کی بڑی وجہ جون کے دوسرے نصف میں آنے والی شدید گرمی کی لہر تھی، جس نے کئی ممالک میں درجہ حرارت کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔کوپرنیکس کے مطابق جون۲۰۲۶ء کا عالمی اوسط درجہ حرارت بھی صنعتی دور سے پہلے(۱۸۵۰ء سے ۱۹۰۰ء) کے جون کے اوسط کے مقابلے میں۱ء۳۹؍ ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ادارے کا کہنا ہے کہ جون کی یہ شدید گرمی، جو مسلسل آنے والے انتہائی موسمی واقعات کے بعد سامنے آئی، مستقبل میں درپیش موسمیاتی چیلنجز کی واضح نشاندہی کرتی ہے۔ اسی دوران جنوب مغربی یورپ میں خشک موسم نے جنگلاتی آگ کے خطرات میں بھی اضافہ کیا۔قطبی علاقوں سے باہر سمندروں کی سطح کا اوسط درجہ حرارت جون میں۲۰ء۸۶؍ ڈگری سیلسیس(۶۹ء۵۵؍ ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا، جو اس مہینے کیلئے اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، جہاں فضائی گردش میں تبدیلیوں کے باعث گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت سے آنے لگی ہیں۔جون کی گرمی کی لہر نے ’ہیٹ ڈوم‘کی کیفیت پیدا کی، جس میں بلند فضائی دباؤ کا نظام ایک ڈھکن کی طرح کام کرتا ہے اور گرم ہوا کو زمین کے قریب قید کر دیتا ہے، بالکل ایسے جیسے ابلتے ہوئے برتن پر ڈھکن رکھ دیا جائے۔اے ایف پی کے تجزیے کے مطابق یورپ کے دو تہائی سے زیادہ، یعنی تقریباً۴۱؍کروڑ افراد نے جون کے دوران۳۵؍ ڈگری سیلسیس( ۹۵؍ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ درجہ حرارت برداشت کیا۔ای سی ایم ڈبلیو ایف میں اسٹریٹجک کلائمیٹ لیڈ سامنتھا برگیس کے مطابق جون کی گرمی کی شدت کی ایک بڑی وجہ ہوا میں نمی کا غیر معمولی زیادہ ہونا تھا۔انہوں نے کہا:’’ہوا میں نمی بہت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے لوگوں کو رات کے وقت بھی گرمی سے راحت نہیں مل سکی، اور مسلسل کئی راتیں ایسی رہیں جنہیں ’ٹراپیکل نائٹس‘کہا جاتا ہے، یعنی رات کا درجہ حرارت بھی غیر معمولی طور پر بلند رہا۔‘‘