جنتر منتر سے جو آوازیں اُبھریں وہ سب نے سنیں۔ جنتر منتر سے جو صلاحیتیں اُبھریں وہ رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہیں۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 3:32 PM IST | New Delhi
جنتر منتر سے جو آوازیں اُبھریں وہ سب نے سنیں۔ جنتر منتر سے جو صلاحیتیں اُبھریں وہ رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہیں۔
جنتر منتر سے جو آوازیں اُبھریں وہ سب نے سنیں۔ جنتر منتر سے جو صلاحیتیں اُبھریں وہ رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہیں۔ جب آندولن چل رہا تھا تب وہی لوگ ان صلاحیتوں کو فوری طور پر جان سکے جو سوشل میڈیا سے گہرا ربط رکھتے ہیں۔ دیگر لوگوں کو وہاں تک پہنچنے میں دیر لگی۔ بہت سی صلاحیتیں اب بھی پردۂ خفا میں ہیں۔
اس آندولن سے جن باصلاحیت افراد کا تعارف ہوا اُن میں سے ایک محمد عرفان بھی ہیں جن سے راہل گاندھی نے کل، پیر ۲۷؍ جولائی کو اُن کی جھوپڑی میں جاکر ملاقات کی۔ کانگریس پارٹی کی جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ راہل گاندھی عرفان کے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھے ہیں۔ اُن کے ساتھ عرفان کی غالباً چھوٹی بہن اور والد ہیں جو بنیان پہنے ہوئے ہیں۔ بعد میں کھینچی گئی تصویر میں عرفان کی والدہ اور ایک بھائی بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ عرفان نے ٹی شرٹ پہن رکھا ہے۔ یہ مکان، اگر اسے مکان کہا جاسکے تو، دہلی کی ایک جھگی میں ہے۔ اس سے قبل اِس عارضی مکان میں للن ٹاپ کی ٹیم بھی پہنچی تھی۔ جس نے نیلے رنگ کی تال پتری سے بنے ہوئے کمرے میں داخل ہونے پر اصرار کیا تو عرفان یہ کہہ کر شرمسار تھے کہ سر آپ کیا دیکھیں گے، وہاں دیکھنے کیلئے کیا ہے۔ اس کے بعد کیمرہ اندر گھوما اور عرفان کی کل کائنات روشنی میں آگئی۔ چھوٹا سا طہارت خانہ اور ایک پلنگ۔ معمولی سا سازو سامان۔ غریب کے شکستہ مکان میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟
मोहम्मद इरफ़ान जैसे लाखों युवा ही देश की असली उम्मीद हैं- जिज्ञासु, संवेदनशील और अपने अधिकारों व कर्तव्यों के प्रति सजग।
— Congress (@INCIndia) July 27, 2026
📍 दिल्ली pic.twitter.com/BvaBzrMYiW
شعرو شاعری سے اُنہیں شغف ہے۔ ادب سے دلچسپی ہے مگر چونکہ نہ تو پڑھ سکتے ہیں نہ ہی لکھ سکتے ہیں اس لئے گوگل وائس سرچ سے مطلوبہ موضوع پر مواد حاصل کرتے ہیں۔ اسے سنتے ہیں اور یاد کرلیتے ہیں۔ اس طرح الگ الگ موضوعات پر بہت کچھ جان لینے سے اُن کا نالج قابل رشک ہوگیا ہے۔ جنتر منتر پر اُنہوں نے آئین ہند کی تمہید پڑھی تو وہاں موجود لوگوں پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ ظاہر ہے سب کو احساس ہوا ہوگا کہ ایک دہاڑی مزدور آئین کی تمہید سنا رہا ہے، یہ تو اچھے اچھے ڈگری یافتہ بھی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح ایک ہی سانس میں عرفان نے نیرج کی کویتا ’’کارواں گزر گیا غبار دیکھتے رہے‘‘ سنائی (جو فلم ’نئی عمر کی نئی فصل‘ میں بھی شامل کی گئی تھی) تو لوگ انہیں دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔عرفان اپنی زندگی کے مسائل کا دکھڑا نہیں روتے بلکہ جب بھی لب کشائی کرتے ہیں ملک کے تمام مزدوروں کی بات کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ’’ایسی کوئی ویوستھا تو بننی ہی چاہئے‘‘ جس سے ملک کے تمام مزدوروں کا بھلا ہو، اُن کی حالت سدھرے۔ عرفان سے ملاقات کے بعد راہل گاندھی نے انسٹا گرام پر جو لکھا اس کا مفہوم ہے کہ ’’عرفان مضافاتی دہلی کا ایسا نوجوان ہے جس کا ذہن اس کے حالات کی گواہی دیتا ہے۔ آئین کے تئیں اس کی سمجھداری، ملک کے بارے میں اس کے خیالات اور اس کا احساس کہ ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں، قابل ستائش ہیں۔ عرفان جیسے لاکھوں ہندوستان اس ملک کی سچی اُمید ہیں جن میں جستجو ہے، جو حساس ہیں اور جو اپنے حقوق و فرائض کا شعور رکھتے ہیں۔
A Trembling Voice. An Unshakable Message !
— Dr. Shahid Siddiqui (@shahidsiddiqui) July 27, 2026
Hear Irfan as he reads the Preamble to the Constitution of India - with a trembling voice. Among the students who have taken to the streets to fight for their rights are countless young people whose dreams have been shattered.
Their… pic.twitter.com/NIghJLogSG
عرفان پڑھنا نہیں جانتے مگر...
عرفان دہلی میں سڑک کے کنارے برف بیچ کر گزارا کرتے ہیں۔ ابتداء میں کسی آنگن واڑی کے درشن کئے تھے مگر باقاعدہ اسکول کا منہ کبھی نہیں دیکھا اس کے باوجود اُن کی معلومات اور نالج بولتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اُنہوں نے سب کچھ زبانی یاد کررکھا ہو۔ وہ جمہوریت، آئین ہند، مزدورو ں کے قوانین، مزدوروں کی حالت زار، مزدوروں کے حقوق، مزدورو ں کا استحصال، ہیلتھ کیئر اور عدم مساوات جیسے موضوعات پر بے تکان بولتے ہیں۔ عرفان اپنی زندگی کے مسائل کا دکھڑا نہیں روتے بلکہ جب بھی لب کشائی کرتے ہیں ملک کے تمام مزدوروں کی بات کرتے ہیں۔