Updated: August 20, 2026, 12:19 PM IST
|
Agency
| New Delhi
جنتر منتر پر ’فیشیل ریکگنیشن‘ کے استعمال پر اہم سوال،مجرمانہ ریکارڈ کے حامل افراد کے ساتھ ہی عام مظاہرین کی شناخت میں
بھی دہلی پولیس کی کامیابی پر ٹی ایم سی لیڈر نے سوال اٹھایا، کہا : کیا الیکشن کمیشن،آدھار، انکم ٹیکس یا ٹرانسپورٹ محکمہ نے ڈیٹا بیس پولیس کو فراہم کیا۔
جنتر منتر پر پولیس نے فیشیل ریکگنیشن تکنالوجی کا استعمال کیا جس پر روز اول سے تنقید ہورہی ہے۔ تصویر: آئی این این
جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی(فیشیل ریکگنیشن) کے استعمال کے تعلق سے دہلی پولیس کےاعتراف کے بعد ٹی ایم سی لیڈر اور راجیہ سبھا کے سابق رکن ساکیت گوکھلے نے ملک کے عام شہریوں کے ڈیٹا بیس اور ان کی پروائیویسی کے حوالے سے سنگین سوال کیا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ کسی کا چہرہ ریکارڈ کرلینے کے بعد اس کی شناخت کیلئے ضروری ہے کہ وہ چہرہ ڈیٹا بیس میں موجود ہو۔ یہ مانتے ہوئے کہ جرائم پیشہ افراد کا ڈیٹا پولیس کے پاس ہوتا ہے، گوکھلے نے حیرت کااظہار کیا ہے کہ پولیس عام شہریوں کی شناخت کرنے میں بھی کامیاب رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہوا اور کیا ملک کے وہ ادارے جن کے پاس شہریوں کا ڈیٹابیس ہے، انہوں نے پولیس کو یہ ڈیٹابیس فراہم کیا ؟
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا نے ہندوستانی باسمتی چاول کی کھیپ مسترد کی، ذمہ دار کون؟
گوکھلے نے کہا کہ کسی شخص کے چہرے کی شناخت کیلئے اس کی تصویر اور دیگر معلومات پر مشتمل ڈیٹا بیس ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ دہلی پولیس کو احتجاج میں شامل افراد کی تصاویر اور معلومات کا یہ ڈیٹا کہاں سے ملا۔انہوں نے الیکشن کمیشن اور آدھار، محکمہ انکم ٹیکس، ٹرانسپورٹ محکمہ اور دیگر محکموں سے سوال کیا ہے کہ کیا انہوں نے گزشتہ ماہ جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کیلئے پولیس کو اپنا ڈیٹا بیس فراہم کیا ہے۔ گوکھلے نے بتایا کہ ۲۰۲۰ء میں ان کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی کے جواب میں الیکشن کمیشن نے اعتراف کیا تھا کہ دہلی فسادات کی تحقیقات کے دوران اس نے تصاویر سمیت مکمل ووٹر فہرست دہلی پولیس کے ساتھ شیئر کی تھی۔انہوں نے نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن کے اپنے ضوابط کسی بھی ادارہ کے ساتھ تصاویر والی انتخابی فہرستیں شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کے باوجود الیکشن کمیشن نے ۲۰۲۰ء میں اپنے ہی ضوابط کی خلاف ورزی کی اور یہ ڈیٹا دہلی پولیس کو فراہم کیا۔
یہ بھی پڑھئے: وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان منہدم، ۱۰۰؍ سے زائد کان کن ہلاک
انہوں نے سوال کیاکہ’’ کیا الیکشن کمیشن نے جنتر منتر کے احتجاج کے دوران چہرے کی شناخت کے ڈیٹا بیس کیلئے (ملک بھر کی) تصاویر والی ووٹر فہرستیں دہلی پولیس کو فراہم کیں؟ دیگر کون سے اداروں نے چہرے کی شناخت کیلئے استعمال ہونے والا اپنا ڈیٹا بیس دہلی پولیس کے ساتھ شیئر کیا ہے؟‘‘
گوکھلے نے مزید کہا کہ اگر کسی ادارے نے دہلی پولیس کو کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا تو پھر پولیس احتجاج کے دوران صرف مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے افراد ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے چہرے کی شناخت کیسے کر رہی ہے؟انہوں نے کہاکہ’’اس کی ایک وجہ ہے کہ ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) ایکٹ کو پارلیمنٹ سے منظور ہوئے ۳؍ سال گزرنے کے باوجود اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل پیر کوسپریم کورٹ میں داخل کئے گئے حلف نامہ میں دہلی پولیس نے جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج کے دوران فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر نگرانی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ پولیس نے کہا کہ یہ نظام ہر شخص کا پروفائل تیار نہیں کرتا بلکہ صرف ان افراد کی شناخت کرتا ہے جن کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔پیر کی دیر رات داخل کیے گئے جوابی حلف نامے میں دہلی پولیس نے کہا کہ صرف سنگین مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کی تحقیقات پولیس کمشنر کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کرے گی۔